لیسکو کے پانچوں اضلاع میں بجلی چوروں کیخلاف آپریشن جاری۔ترجمان لیسکو
اکیسویں روز،57افراد گرفتار،ترجمان لیسکو

لیسکو میں بیسویں روز کے آپریشن کے دوران تمام اضلاع میں 442کنکشنز بجلی چوری میں ملوث پائے گئے
لاہور (خبر نگار)
وزیرِاعظم پاکستان اور وزارت توانائی کی ہدایات پرلیسکوکے چیف ایگزیکٹو انجینئر شاہد حیدر کی زیر نگرانی لیسکو ریجن میں بجلی چوروں کیخلاف آپریشن بھر پور طریقے سے جاری ہے۔ لیسکو ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق لیسکو میں بیسویں روز کے آپریشن کے دوران تمام اضلاع میں 442کنکشنز بجلی چوری میں ملوث پائے گئے۔439 بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آرز کی درخواستیں متعلقہ تھانوں میں دائر کر دی گئی ہیں جن میں سے269ایف آئی آرز رجسٹرڈ ہو چکی ہیں جبکہ57ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیاہے، پکڑے جانے والے کنکشنز میں انڈسٹریل1، کمرشل12 اور429 ڈومیسٹک تھے۔ تمام کنکشنز منقطع کرکے ان کو727,091(سات لاکھ ستائیس ہزار اکانوے) یونٹس ڈٹیکشن بل کی مد میں چارج کئے گئے ہیں جن کی مالیت 37,283,926(تین کڑوربہتر لاکھ تراسی ہزار نو سو چھبیس)روپے ہے۔
بجلی چوروں کیخلاف کئے جانے والے آپریشن میں بڑے کمرشل صارفین بھی بجلی چوری میں ملوث پائی گئے۔ ان تمام کے کنکشنز بھی منقطع کئے گئے اور ان کو ڈٹیکشن یونٹس چارج کئے گئے۔فیروزوالا میں 2920 یونٹس (120,0000)روپے،عزیز کالونی ونڈالہ روڈ میں 9500 یونٹس(500,000)روپے،بابا بیکری ونڈالہ روڈ میں 9900یونٹس، (500,000روپے) اور ملتان روڈ جمبر موڑ کے علاقے میں کنکشن کو 10185یونٹس، (480,298روپے) کی رقم چارج کی گئی ہے۔
تفصیل کے مطابق لیسکو ریجن میں اکیس روز کے آپریشن کے دوران کل8832 کنکشن چیک کئے گئے،8727کنکشن کیخلاف ایف آئی آر کی درخواستیں جمع کروائی گئیں جن میں سے7417 درخواستیں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔کل1240ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔بجلی چوروں کو اب تک19,351,136(ایک کڑورترانوے لاکھ اکاون ہزار ایک سو چھتیس)یونٹس چارج کئے گئے ہیں جن کی رقم 864,445,718 (چھیاسی کروڑ چوالیس لا کھ پینتالیس ہزار سات سو اٹھارہ روپے) ہے۔ واضح رہے بجلی چوروں کیخلاف آپریشنز وفاقی پاور ڈویژن کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق کیئے جا رہے ہیں اور چیف ایگزیکٹو انجینئر شاہد حیدر بذاتِ خود ان آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ لیسکو چیف کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کے مکمل خاتمے تک بلا تفریق گرینڈ آپریشن جاری رہے گا۔ آپریشن کے دوران بجلی چوروں کے ساتھ ساتھ ان کی سرپرستی کرنیوالے لیسکو افسران و ملازمین کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔







