پاکستانتعلیمسٹی

پاکستان کی دس فیصد آبادی کسی نہ کسی دماغی مرض کا شکار ہے۔ ماہرین ذہنی امراض

ویمن یونیورسٹی شعبہ سائیکولوجی کے زیراہتمام دماغی صحت کے عالمی دن کے حوالے سے سمپوزیم کا اہتمام کیا گیا

ملتان(خبر نگار) ویمن یونیورسٹی ک شعبہ سائیکولوجی کے زیراہتمام دماغی صحت کے عالمی دن کے حوالے سے سمپوزیم کا اہتمام کیاگیا جس کی مہمان خصوصی چانسلر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تھیں اس سمپوزیم کی فوکل پرسن ڈاکٹر سعدیہ مشرف(چیئرپرسن شعبہ سائیکولوجی) تھیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دماغی صحت کا عالمی دن منانےکا مقصد عالمی سطح پر دماغی صحت کے مسائل کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور ان مسائل کے شکار افراد کو علاج کی طرف مائل کرنا ہے۔ دماغی ماہرین کے مطابق پاکستان کی دس فیصد آبادی کسی نہ کسی دماغی مرض کا شکار ہے لیکن زیادہ تر افراد نفسیاتی امراض کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ہمارے ہاں دماغی صحت کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ مستحق ہے۔سماجی سطح پر دماغی صحت کے حوالے سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے نفسیاتی امراض کو دیگر امراض سے جوڑ دیا جاتا ہے جبکہ ضروری ہے کہ دماغی و نفسیاتی امراض کا باقاعدہ ماہرین سے علاج کروایا جائے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں 80فیصد لوگ دماغی صحت کی ضروریات سے محروم ہیں۔ اسلئے دماغی و نفسیاتی مسائل کے شکار افراد کو علاج معالجے‘ مرض سے متعلق مشاورت اور خدمات کی فراہمی کیلئے جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ اچھی صحت کیلئے اچھا جسم ہی نہیں بلکہ مضبوط دماغ بھی ضروری ہے۔ دماغ کی کمزوری سے انسان کی ذہنی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیںاور اس کیلئے زندگی کا سفر مشکل ہو جاتا ہے۔ ملک میں دماغی مسائل میں اضافے کے پیش نظر حکومت کو ملک میں دماغی صحت کی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے اورشہریوں کو دماغی و نفسیاتی مسائل سے محفوظ رہنے کیلئے اپنا طرزِ زندگی بہتر بنانا چاہیے۔رجسٹرار ڈاکٹر میمونہ خان نے کہا کہ ایسے سیمینارز طالبات کی ذہنی نشوونما کے لئے بہت اہم ہیں۔ کیونکہ اسی عمر کے نوجوان اکثر گھریلو مسائل، روزگار کے مسائل اور تعلیمی مسائل کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں نوجوان اکثر علظ قدم اٹھاتے ہیں انہیں سازگار ماحول اور کونسلنگ کے ذریعے ہی صحیح راستے پر لایا جا سکتا یے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان مقرر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ اور ڈاکٹر محمود علی شاہ نےکہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کے پاس ذہنی بیماریوں سے نمٹنے کیلئے محدود وسائل ہیں، لوگوں کو ذہنی صحت کے مسائل کے بارے میں مشاورت فراہم کرنے کیلئے ٹیلی ہیلتھ سینٹرز قائم کئے جائیںنفسیاتی بیماریوں سے بچوں، نوجوانوں اور خواتین کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد متاثر ہو رہی ہے، آئے روز نفسیاتی مسائل کی وجہ سے خود کشیوں، گھریلو ناچاقی، تشدد اور قتل کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں، ہمیں ذہنی صحت کے آن لائن پورٹلز، ورچوئل پروگرامز، مصنوعی ذہانت، دماغی صحت کے چیٹ بوٹس درکار ہیں مریض صحت مند طرز زندگی اپنائیں، اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ معیاری وقت گزاریں، بے چینی اور تنا کی سطح کو کم کرنے کیلئے باقاعدہ ورزش کریں۔اس موقع پر طالبات نے سائیکو ڈرامہ بھی پیش کی اس موقع پر تمام شعبوں کی چیئرپرسنز موجود تھیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button