پاکستانسٹیسیاست

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ابراہیم حسن مراد سے آل پاکستان ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے وفد سے ملاقات

ٹرانسپورٹرز کے مسائل اور ان کے حل بارے تبادلہ خیال

لاہور (خبر نگار)صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ابراہیم حسن مراد کی ان کے دفتر میں آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ فیڈریشن کے وفد سے ملاقات ہوئی۔ وفد کی قیادت چئیر مین حاجی اکرم نے کی جبکہ وفد میں سیکرٹری جنرل ملک ظفر اقبال اور دیگر شامل تھے ۔
ملاقات میں وفد نے صوبائی وزیر سے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواہاں ہیں کہ پنجاب بھر کی طرح جنرل بس اسٹینڈ بادامی باغ لاہور کا انتظام محکمہ ٹرانسپورٹ کے سپرد کیا جائے، پنجاب بھر کے سرکاری و غیر سرکاری بس ٹرمینل پر مسافروں کےلئے واش روم کی سہولت فری مہیا کی جائے، جنرل بس اسٹینڈ بادامی باغ میں گاڑیوں کی پاسنگ کا انتظام کیا جائے، ون ونڈو سسٹم کے تحت ٹرانسپورٹ کے تمام معاملات محکمہ ٹرانسپورٹ کے سپرد کئے جائیں، بس ٹرمینل استعمال نہ کرنیوالی اور اسپیشل گاڑیوں سے غیر قانونی طور پر اڈا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، اسکو ختم کرایا جائے ، پنجاب بھر کے بس ٹرمینل پر پارکنگ فیس کا مکمل خاتمہ کیا جائے ، ٹرانسپورٹ کو صنعت کا درجہ قرار دیا جائے ،محکمہ ٹرانسپورٹ صوبائی سطح پر روٹ پرمٹ جاری کرے، ٹرانسپورٹ کمیٹی میں ہماری فیڈریشن کو نمائندگی دیجائے ،پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں آپریشنل کاسٹ کے مطابق کمی بیشی لے لیے خود کار نظام بنایا جائے ، لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ سے فی بس، فی پھیرا، فی سواری اڈا ٹیکس ختم کیا جائے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے معاملات دیکھنے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کے علاوہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے علاوہ تمام چیکنگ فورسز کا خاتمہ کر کے دیگر محکموں کی بیجا مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ابراہیم حسن مراد نے وفد کو یقین دلایا کہ آپ کے تما م جائز مسائل کا حل مستقل طور پر کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے کیونکہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنا ہمارا فریضہ ہے ۔ انہوں نےکہا کہ وہیکل روٹ پرمٹ اور انسپکشن کےحوالے سے سہولیات آن لائن کرنے جا رہے ہیں تاکہ ملکر کرپشن کا خاتمہ یقینی بنا سکیں ۔ انہوں نے وفد کو ہداہت کی کہ ایکسیڈنٹ ریویو کمیٹی تشکیل دیں اور اس کا ہفتہ وار اجلاس کیا کریں تاکہ کوتاہیاں سامنے آ سکیں اور مستقبل میں بہترین اقدامات کئے جا سکیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ایک شکایت سیل بنا ہوا ہے تاکہ آپ کی تمام شکایات کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button