تعلیمسٹی

بلا تفریق مذہب دکھی انسانیت کی خدمت دین اسلام کی روشن تعلیمات کا منور باب ہے۔ ڈاکٹر تنویر قاسم

اسلامی و قرآنی تعلیمات مذاہب عالم کے احترام کا درس دیتی ہیں

لاہور/گجرات (خبر نگار)
جامعہ گجرات کے حیاتین اسلامک فورم کے زیر اہتمام ایک روزہ علمی سیمینار”مذہبی رواداری و امن پسندی “ کے عنوان پر حافظ حیات کیمپس میں ہوا۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور شعبہ امور طلبہ کے اشتراک سے منعقدہ سیمنار کا مقصد طلبا و طالبات میں بین المذاہب ہم آہنگی کے شعور و تصور کو فروغ دیتے ہوئے معاشرتی و سماجی سطح پر مذہبی رواداری،عدم تشدد،برداشت اور پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں و قومیتوں کے لیے اعتدال پسندانہ جذبات و احساسات کی ترویج تھا۔ سیمنار کے مہمان خصوصی ڈائریکٹر PHEC ڈاکٹر تنویر قاسم تھے۔ صدارت ڈین فیکلٹی برائے سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹرفیصل محمود مرزانے کی۔ مہمانان اعزاز میں ڈائریکٹرSSC ڈاکٹر محمد زبیر،ڈائریکٹر میڈیا شیخ عبدالرشیدو دیگر شامل تھے۔سیمنار PHEC کے زیر اہتمام پاکستانی یونیورسٹیوں میں بین المذاہب پروگراموں کے اثرات کے سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔ڈاکٹر تنویر قاسم نے کہاکہ بلا تفریق مذہب دکھی انسانیت کی خدمت دین اسلام کی روشن تعلیمات کا منور باب ہے۔وسیع سطح پر علمی مکالمہ سماجی مسائل کا دیرپا حل ہے۔آئین پاکستان میں اقلیتوں کو خصوصی تحفظ و حقوق حاصل ہیں۔حضور اکرم صبر و برداشت،رواداری اور احترام انسانیت کا عملی پیکر تھے۔نبی اکرم نے حلف الفضول کے ذریعے تمام عالم انسانیت کے لیے امن و برداشت کے پیغام کو عام کیا۔اسلامی و قرآنی تعلیمات مذاہب عالم کے احترام کا درس دیتی ہیں۔جامعات مذہبی ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنے میں مدد گار ہیں۔معاشرہ میں تشدد و عدم برداشت کے محرکات و اسباب کی تلاش کو تحقیق کا موضوع بنانے کی ضرورت ہے۔جامعات علمی تحقیق کے نئے زاویوں کے در وا کرتے ہوئے سماجی مسائل کا بہتر حل تلاش کر سکتی ہیں۔اقلیتوں کے خلاف معاندانہ جذبات کے شخصی و سیاسی مقاصد کو عیاں کرتے ہوئے بین المذاہب ہم آہنگی کے ہدف کا حصول ممکن ہے۔ پروفیسر ڈاکٹرفیصل محمود مرزا نے کہا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب و قومیتوں کے مابین ہم آہنگی کے ذریعے سماجی امن کا حصول ممکن ہے۔متشدد پالیسیوں کو ترک کرتے ہوئے مثبت انسانی اقدار کی ترویج کو اپنانا اجتماعی فریضہ ہے۔بانیئ پاکستان قائد اعظم نے قیام پاکستان کے موقع پر مذہبی رواداری کے تصور کو عملی طور پر اپنانے پر زور دیا۔پاکستانی نیشنلزم کو پروان چڑھاتے ہوئے ذمہ دار شہری بننے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔مختلف قومیتوں کے مابین ہم آہنگی بھی لازم ہے۔نظامت کے فرائض یاسر حسین جامی نے خوبصورت و پُر جوش انداز میں سر انجام دئیے۔سیمنار میں مختلف شعبہ جات کے طلبہ و اساتذہ کی کثیر تعدا د نے شرکت کرتے ہوئے بین المذاہب ہم آہنگی کو ذمہ داری سے پروان چڑھانے کا عزم کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button