
لاہور(خبر نگار )سیکرٹری انڈسٹریز پنجاب احسان بھٹہ نے کہا ہے کہ کم انسانی مداخلت معاملات کی شفافیت یقینی بناتی ہے اور پنجاب حکومت کا بزنس فسیلٹیشن سنٹر اسی تصور پر مبنی ہے۔ وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کر رہے تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے ،ایڈیشنل سیکرٹری کامرس اعجاز منیر، چیف ڈبلیو ٹی او پنجاب ذوہیب مشتاق، سی ای او پی آئی ای ڈی ایم سی علی معظم، سی ای او پی بی آئی ٹی جلال حسن , ڈائریکٹر جنرل پی آئی ٹی بی صائمہ شیخ ڈپٹی سیکرٹری کامرس ابوبکر زبیر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ اجلاس کا مقصد بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا بھی تھا۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے کہا کہ بزنس فیسیلیٹیشن سنٹر کا قیام وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر صنعت، سیکرٹری صنعت اور تمام متعلقہ محکموں کی بہترین کاوشوںکا نتیجہ ہے۔ پنجاب حکومت نے اپنا کام کر دیا ہے اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اراکین کو بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے بارے میں آگاہ کریں اور ان سے کہیں کہ وہ اس سنٹر سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کے ممبران کو آگاہ کرنے کے لیے بزنس فیسیلیٹیشن سنٹر سے متعلق بروشرز ای میل کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبران سے پوچھا گیا ہے کہ کون سے این او سی کی سہولت دستیاب نہیں تاکہ متعلقہ محکمے سے مطلوبہ سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی جا سکے۔لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ کاروباری حالات پہلے ہی سازگار نہیں اور صنعتی شعبہ بھی سست روی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری حالات میں بہتری سے لاہور چیمبر کے اراکین کو کاروباری سہولت استعمال کرنے کی ترغیب ملے گی۔سیکرٹری انڈسٹریز پنجاب احسان بھٹہ نے کہا کہ بزنس فیسیلیٹیشن سنٹر تاجر برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک کمیٹی بھی بنائی تھی جس میں پنجاب کے چیمبرز آف کامرس کی نمائندگی ہے جبکہ اس کمیٹی کے سربراہ خود وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر صنعت پنجاب ایس ایم تنویر نے چین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یہ ماڈل دیکھا اور اسے پنجاب میں نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر میں 17 صوبائی اور 3 وفاقی محکمے کام کر رہے ہیں جہاں 106 این او سی جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں سرمایہ کاری کے فروغ اور معلوماتی کاونٹرز بھی قائم ہیں۔سیکرٹری صنعت نے کہا کہ واسا، فیڈمک، جنگلات، لائیو سٹاک، ماحولیات، سیاحت، پی ایچ اے، ہوم ڈیپارٹمنٹ، اسپیشل اکنامک زون اتھارٹی، انرجی اور دیگر جیسے اہم محکمے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کو یقینی بنانے کے ویژن کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملتان، گوجرانوالہ، بہاولپور، فیصل آباد، سیالکوٹ اور پنجاب کے دیگر شہروں میں اسی طرح کے علاقائی دفاتر کے قیام کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام وضع کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کی درخواست فوراً متعلقہ محکمے اور ساتھ ہی اس کے سیکرٹری کے پاس جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست کا دن میں دو بار جائزہ لیا جاتا ہے۔ تاخیر کی وجوہات بھی معلوم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 90 فیصد کاروباری اداروں کو این او سی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بی ایف سی میں درخواست گزار کے ساتھ خصوصی سلوک کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا چیمبر ہونے کے ناطے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو اپنے ممبران کو بزنس فیسیلیٹیشن سنٹر کا دورہ کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دے۔







