
سپروائزری افسران کو اپنی کمانڈاینڈ کنٹرول بہتر بنانے، ایس ڈی پی اوزکواپنی نگرانی میں اشتہاریوں کو پکڑنے کیلئے ریڈ کروانے، اشتہاریوں سے ریکوری یقینی بنانے کی ہدایت. افسران اپنی ڈویژنز میں جرائم کے خاتمے کیلئے ترجیحات طے کریں،غیر قانونی اسلحہ کی سپلائی چین توڑنے کیلئے موثر اقدامات بروئے کار لائے جائیں کوالٹی آف انوسٹی گیشن پر فوکس کریں،بلائنڈ مرڈرز کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں۔بلال صدیق کمیانہ
لاہور(خبر نگار ، کرائم رپورٹر)کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر لاہور بلال صدیق کمیانہ کی زیر ِصدارت کیپٹل سٹی پولیس آفس میں سول لائنز اورسٹی ڈویژنز کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں ڈویژنز کی کارکردگی کا جائزہ لیاگیا۔اجلاس کو ڈکیتی، چوری اورراہزنی سمیت جرائم کی وارداتوں میں ملوث عادی وپیشہ ور مجرمان کے خلاف کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ سی سی پی او لاہورنے زیر ِ التواء روڈ سرٹیفکیٹس، بجلی چوری اور زیر ِ تفتیش مقدمات کو برق رفتاری سے نمٹانے کی ہدایت کی۔ بلال صدیق کمیانہ نے سپروائزری افسران کو باقاعدگی سے ایس ڈی پی اوز سے میٹنگز کرنے اور اپنی کمانڈاینڈ کنٹرول بہتر بنانے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی اوز فیلڈ میں موجود رہیں، اپنی نگرانی میں اشتہاریوں کو پکڑنے کیلئے ریڈ کروائیں اور ریکوری یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ افسران اپنی ڈویژنز میں جرائم کے خاتمے کیلئے ترجیحات طے کریں اور خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے کارکردگی مزید بہتر بنائیں۔اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی اسلحہ کی سپلائی چین توڑنے کیلئے مؤثر اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ کوالٹی آف انوسٹی گیشن پر فوکس کرتے ہوئے بلائنڈ مرڈرز کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیاجائے۔بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنزکے ذریعے منشیات فروشی کے اڈوں اور جھپٹہ گینگز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھرپور مدد لی جائے۔سی سی پی او لاہور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ لاہور پولیس منشیات، ناجائز اسلحہ، سٹریٹ کرائم اور سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ڈی آئی جی (آپریشنز)سید علی ناصر رضوی، ڈی آئی جی (انوسٹی گیشن) عمران کشور، ایس ایس پی(ایڈمن)عاطف نذیر، ایس ایس پی(آپریشنز)سید علی رضا،ایس ایس پی (انوسٹی گیشن)انوش مسعود چوہدری نے اجلاس میں شرکت کی۔ سول لائنزاور سٹی ڈویژنز کے ایس پیز، اے ایس پیز،سرکل افسران، ایس ایچ اوز، انچارجز(انوسٹی گیشن)بھی اس موقع پر موجود تھے۔







