پاکستانسٹیکاروبار

لاہور چیمبر ، سٹیٹ بینک کے اشتراک سے مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم سائزڈ انٹرپرائزز ڈے کا انعقاد

انٹرسٹ ریٹ کم کیا جائے، خواتین انٹرپرنیورز ، ممبران کے لیے سکیمز متعارف کرائی جائیں: کاشف انور

لاہور(خبر نگار)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم سائزڈ انٹرپرائزز ڈے کے موقع پر ایک اہم ایونٹ منعقد کیا ۔ یہ دن اقوام متحدہ نے ڈیکلیئر کیا ہے جو ہر سال 27جون کو منایا جائے گا۔ ایونٹ کے مہمان خصوصی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور تھے جبکہ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر ظفر محمود چودھری، چیف مینیجر سٹیٹ بینک آف پاکستان طارق ریاض ، سینئر ڈپٹی چیف مینیجر محمد طاہر، سٹیٹ بینک کے حمزہ طالب، صنعتکاروں اور تاجروں کی ایک بڑی تعداد نے ایونٹ میں شرکت کی۔ ایونٹ میں پندرہ سے زائد بینکوں نے سٹالز لگائے جبکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان لاہور کے ڈپٹی مینیجر زین العابدین نے اس موقع پر ایک پریزنٹیشن دی۔ صدرلاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے کہا کہ جس طرح مختلف مواقع پر مختلف دن منائے جاتے ہیں اسی طرح بزنس ڈے بھی منایا جائے کیونکہ معاشی حوالے سے یہ شعبہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک جو بھی سکیم جاری کرے وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ شیئر کی جائے تاکہ ممبران کو اس سے آگاہ کیا جائے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر ادارے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے ممبران بالخصوص خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرسٹ ریٹ میں فوری کمی بہت ضروری ہے تاکہ انڈسٹری کو سستا سرمایہ میسر آسکے اور صنعت سازی میں مدد مل سکے۔ کاشف انور نے کہا کہ حالیہ بجٹ انڈسٹری کے لیے مشکلات کا سبب بنے گا، پالیسی سازوں کو سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور چیمبر سماجی ذمہ داریاں بھی بڑے احسن طریقے سے ادا کررہا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے تعلیمی، طبی اور دیگر اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں جن کا مقصد ممبران کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات کا حصول ہے۔ چیف مینیجر سٹیٹ بینک طارق ریاض نے کہا کہ انٹرپنیورز کی کامیابیوں کو سراہنے کے لیے عالمی سطح پر مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم سائزڈ انٹرپرائزز ڈے منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا ہر ملک انٹرپرنیورکو سہولیات یہاں تک کہ شہریت تک دینے کو تیار ہوتا ہے کیونکہ انٹرپرنیورایک قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں جو روزگار کی فراہمی اور اقوام کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام بینکنگ کمیونٹی لاہور چیمبر میں انٹرپرنیورکو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اکٹھا ہوئی ہے کیونکہ یہ پاکستان میں مجموعی روزگار کا 78فیصد فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انڈسٹری کا 90فیصد ایس ایم ای ہے جو ملک کا نظام چلانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان ، بینکوں اور مختلف اداروں میں ایم ایس ایم ای ڈے کی تقریبات ہفتہ بھر جاری رہیں گی جس کا مقصد انٹرپرنیورکی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مدد اور معلومات کی فراہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ منعقد کرنے کا مقصد خواتین کو مضبوط کرنا بھی ہے، خواتین کو سامنے آنا اور کاروباری شعبہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہ اس قابل ہوں کہ ضرورت کے وقت وہ کاروباروں کو سنبھال سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے خواتین کے لیے کافی سکیمیں جاری کی ہیں جن میں خواتین کو پانچ سال کے لیے پانچ فیصد پر پچاس لاکھ تک آسان قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اسی طرح ایس ایم ای آسان فنانس سکیم کا بھی اجرا کیا گیا ہے جبکہ بی ایم آر ایس ایم ای سکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے تحت 200ملین روپے تک قرض چھ فیصد مارک اپ پر دس سال کے لیے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشینری امپورٹ اور لوکل خریداری کے لیے بھی سکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ورکنگ کیپیٹل سکیم کا اجرا کیا گیا ہے جس میں چھ فیصد مارک اپ پر 500ملین روپے کا قرض ایک سال کے لیے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زراعت سے وابستہ لوگوں کے لیے بھی سکیموں کا اجراءکیا گیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button