
اسرائیلی حملوں، پر تشدد کارروائیوں پر عالم اسلام اور انسانی حقوق کے علمبر دار ممالک کی خاموشی قابل مذمت ہے. اقوام متحدہ کا قیام عمل سے آج تک مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر حل طلب ہیں
لاہور (خبر نگار) امیر جماعت اسلامی سراج الحق و امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری کی اپیل پر قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی، نہتے فلسطینیوں پر ظلم و ستم،گرفتاریوں کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے لاہور، اوکاڑہ،فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، قصور،ساہیوال سمیت پورے صوبے میں یوم احتجاج منایا گیا۔ اس موقع پر عوام الناس کی بڑی تعداد نے مظاہروں اور ریلیوں میں شرکت کی۔ لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ، بینرز اور پینا فلیکسز اٹھا رکھے تھے، جن پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نعرے اور عالمی برادری سے وحشیانہ تشدد کو رکوانے کے مطالبات درج تھے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے والے، نہتے فلسطینیوں پر دوران نماز اسرائیلی فوجیوں کی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسرائیلی حملوں اور پر تشدد کارروائیوں پر عالم اسلام اور انسانی حقوق کے علمبر دار ممالک کی خاموشی معنی خیز ہے۔ مسلم ممالک کے سربراہان، عالمی برادری، او آئی سی، یو این او،اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی بربریت، ظلم و ستم کو روکنے کے لئے عملی اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام نسلی امتیاز اور جبر کی پالیسی اختیار کر کے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ فلسطینی عوام عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے 7دہائیوں سے بھی زائد عرصہ سے اپنی ہی سر زمین میں اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ ان سے ان کی ریاست ہی نہیں بلکہ باعزت اور پروقار زندگی کا حق بھی چھین لیا گیاہے۔یہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کی درندگی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں کو کچلنے کے لئے گولیاں برساتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا سے یہودی اکٹھے کر کے فلسطین میں بسانے اور فلسطینیوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے جرم میں امریکہ کے برابر کے شریک، یورپی ممالک میں جانوروں کے حقوق پر توبہت بات ہوتی ہے لیکن فلسطینیوں کی داد رسی کر نے والا کوئی نہیں ہے۔ اسرائیل چاہے بم برسائے، ناکہ بندی کر ے، فلسطینیوں کی نسل کشی کرے، ان کا معاشی قتل کر ے، دیوار کی تعمیر کرے، مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرے، اسے کوئی روکنے والا ہے نہ باز پرس کر نے والا ہے۔ اوسلومعاہدہ ہو یا کوئی اور معاہدہ اسرائیلی مظالم کم ہو ئے نہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالی جاسکی ہے۔انہوں نے کہا کہ 24اکتوبر 1945کو جب اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا اس وقت سے آج تک مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر حل طلب ہیں۔ دونوں خطوں میں نہ صرف انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے بلکہ ان خطوں میں نام نہاد عالمی طاقتوں اور لیڈروں کی مسائل کے حل میں کسی قسم کی دلچسپی نظر نہیں آئی۔ محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ فلسطین، مسلمانوں کی ریاست ہے اور اس پر نام نہاد اسرائیل کی کوئی حیثیت نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے عالم اسلام کو واضح مؤقف اپنانے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی جارحیت کو دنیا کے کونے کونے تک اس انداز سے پیش کرنا ہوگا کہ اسرائیل آئندہ ایسا قدم اٹھانے کی جرات نہ کر سکے۔







