سٹیکاروبار

لاہور چیمبر میں معاشی صورتحال اور ان کے حل کے موضوع پر سیمینار، تاجر برادری کے اعزاز میں افطار ڈنر

لاہور(خبر نگار ) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کاروباری برادری کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا جس میں صنعتکاروں و تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا جبکہ سینئر نائب صدر ظفر محمود چودھری، نائب صدر عدنان خالد
بٹ اور ایگزیکٹو کمیٹی ممبران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے اپنے خطاب میں کہا کہ قوی امید ہے کہIMF Review مکمل ہوتے ہی اگلے تین ماہ تک ہماری معیشت میں واضح بہتری آ جائے گی اور اس وقت ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے جو غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ بالکل چھٹ جائیں گے۔بہت سے اشارے ابھی سے ملنے شروع ہوگئے ہیں جن کی بنائپر ہمارا پُر امید ہونا بجا معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ قبل جب میں نے لاہور چیمبر آف کامرس کی بطور صدر باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت میرے ذہن میں یہ بات بالکل واضح تھی کہ ایک ایسا چارٹر آف اکانومی ہمارے ملک کے لئے ناگزیر ہوچکا ہے جس پر تمام سٹیک ہولڈرز متفق ہوں۔میں نے اس سلسلے میں پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے بھی رابطے کئے اور ان سے کہا کہ وہ اپنا اکنامک ایجنڈا ہم سے شئیر کریں۔انہوں نے تاجروں پر زور دیا کہ اگر آپ کے پاس بھی کوئی تجاویز ہیں تو آپ ایک دو دن میں ہی ہمیں تحریری طور پر دے دیں تاکہ ہم متعلقہ حکومتی ایوانوں تک یہ تجاویز بروقت پہنچاسکیں۔اس اثنا میں میری سمجھ میں جو اہم ترین نکتہ آیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہماری کاروباری برادری کوحکومتی اداروں کی طرف سے کچھ عرصہ Free Hand دے دیا جائے توہمارے کاروباری حالات میں جلد بہتری آسکتی ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ میں آپ سب کے علم میں یہ بات لانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے حالیہ مہینوں میں کئی میٹنگز کی ہیں جہاں میں نے چارٹر آف اکانومی کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔مثال کے طور پر میں نے بزنس ریکارڈر،برکی انسٹی ٹیوٹ،پرائم انسٹی ٹیوٹ،ACCA اور بہت سی پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ سے ملاقاتیں کیں۔ میں نے چارٹرآف اکانومی کے تحتTax Base کو بڑھانے، فارن کرنسی ڈیکلریشن سکیم، کاروباری لاگت کو کم کرنے، تجارتی خسارے کو Import Subsitution کی مدد سے کم کرنے،Renewable Energy اور خاص طور پر SME سیکٹر کے لئے Access to Finance بڑھانے پر خصوصی توجہ دلائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button