سٹیصحت

میاں منشی کے ایم ایس ڈاکٹر عدنان القمر، میاں سرور، ملک وسیم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

ہم پر ایم ایس کے حامیوں نے اسلحہ اور ڈنڈوں سے حملہ کردیااور ہمیں زدو کوب کیا ۔ مظاہرین کا الزام

مظاہرین نے میاں سرور، ملک وسیم اور ڈاکٹر عدنان القمر کے خلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں درخواست دائر ۔

لاہور (خبرنگار)میاں منشی ہسپتال لاہور کے 3سال سے غیر قانونی طور پر ایڈیشنل چارج کی بنیاد پر تعینات میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عدنان القمر کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین کے مطابق مبینہ طور پر میاں منشی ہسپتال کےڈریسر میاں سرور اپنے غنڈوں کے ہمراہم پر حملہ آور ہوا، اور کپڑے پھاڑ دیئے ہوا، ڈنڈوں اور گھونسوں کا استعمال بھی کیا ح۔ جس پر مظاہرین نے مذکورہ افراد کے خلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں درخواست دائرکرتے ہوئے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ میاں منشی ہسپتال کے ایم ایس کو فوری طور پر عہدہ سے ہٹا کر اس کے خلاف غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوئری کی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید بڑھا دیا جائے گا ۔مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے ۔انہوں نے میاں منشی ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عدنان القمر، ڈسپنسر میاں سرور اور آفس سپرنٹنڈنٹ ملک وسیم کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔اور ڈاکٹر عدنان القمر کا پتلا بھی نذر آتش کیا ۔مظاہرین نے ڈاکٹر عدنان القمر، میاں سرور اور ملک وسیم کو انکے عہدوں سے ہٹا کر شفاف انکوئری کروانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ اگر 2 روز کے اندر انکے عہدوں سے نہ ہٹایا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کردیا جائے گا ۔مظاہرین نے پریس کلب کے سامنے کی سڑک بلاک کی ۔ مظاہرین نے کہا کہ مذکورہ ایم ایس کے خلاف کرپشن کے حوالے سے درجنوں درخواستوں کے باوجود تاحال کوئی انکوئری نہیں کی گئی۔ انہون نے کہا کہ ڈاکٹر عدنان القمر مافیا اور اسکے دیگر کارندوں میاں سرور اور ملک وسیم نے لوٹ مار کا باازر گرم کر رکھا ہے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر عدنان القمر، میاں سرور اور ملک وسیم نے گزشتہ3 سال میں8کروڑ روپے کے Tissue wipesکی خریداری ظاہر کرکے سرکاری خزانے کو لوٹا۔پانی صاف کر نے کے نام پر کروڑوں روپے کی کلورین کی گولیاںخرید لیں جبکہ ان گولیوں کی قطعا ضرورت نہ تھی کیونکہ ہسپتال میں فلٹرہشن پالنٹ پہلے سے موجود ہیں ۔ سرکاری ہسپتالوں کی ملکیتی CBC، کیمسٹری اینالائیزر، اور دیگر مشینیں بند کروا کر اپنی من پسند کمپنیوں کے ذریعے 10 کروڑ روپے سالانہ کی لوٹ مار کی گئی۔ ادویات کی مد سے فینسی اشیا کی خریداری ظاہر کرکے سالانہ20کروڑ روپے ہڑپ کر لیئے۔ ہینڈ سینیٹائزر ، سرفیس کلینر کے نام پر 4 کروڑ روپے خوردبرد کئے۔
ڈاکٹر عدنان القمر گزشتہ 3سالوں سے ایڈیشنل چارج پر تعینات جبکہ 6ماہ سے زیادہ کسی کو بھی ایم ایس کا اضافی چارج نہیں دیا جا سکتا۔ میاں منشی ہسپتال میں خریدا گیا سامان دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کروا کر انکے جعلی بل دوبارہ بنوا لئے گئے۔ مظاہرین نے کہا کہ ہسپتال میں 6 سال کے سامان کی خریداری ظاہر کر کے کاغذوں میں ان تمام سامان کو ختم بھی کروا دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button