
پاکستان اب چین اور امریکا کے درمیان بطور درمیانی (حریف) رہنے کی کوشش نہیں کر سکتا۔
واشنگٹن پوسٹ نے ’ڈسکورڈ لیکس‘ دستاویزات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ لیک ہونے والی دستاویزات میں سے ایک کے مطابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے مارچ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ کہ پاکستان اب چین اور امریکا کے درمیان بطور درمیانی (حریف) رہنے کی کوشش نہیں کر سکتا۔
واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ ’نامعلوم انٹیلی جنس دستاویز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ امریکا نے کھر کے میمو تک کیسے رسائی حاصل کی‘۔امریکی اخبار کے مطابق’ انٹیلی جنس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایک معاون نے شہباز شریف کو مشورہ دیا کہ یوکرین کے معاملے میں روس کی حمایت پاکستان کی پوزیشن میں تبدیلی کا اشارہ دے گی جب کہ اس سے پہلے اسی طرح کی قرارداد پر عدم توجہی کی گئی تھی۔







