تعلیمسٹی

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا تین سال کیلئے ماحول اور موسمیاتی تبدیلی کو ریسرچ ایجنڈہ بنانے کا فیصلہ

لاہور(خبر نگار) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے آیندہ تین سال کیلئے ماحول اور موسمیاتی تبدیلی کے موضوعات کو ریسرچ ایجنڈہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی، ایم فل، ماسٹرز ڈگری اور انڈرگریجوایٹ پروگرامز میں صحت پر ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے تحقیقی منصوبے شامل ہوں گے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی وزارت ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی سے تعاون و اشتراک کرے گی جبکہ سارک ممالک کی یونیورسٹیز اور تحقیقی اداروں کے ساتھ بھی معاہدے کیے جائیں گے۔ منگل کے روز یو ایچ ایس کے جناح کیمپس میں انتظامی اور تدریسی شعبوں کے سربراہان کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور نے کہا کہ پاکستان دو موسمی نظاموں کے منفی اثرات کا شکار ہے۔ ہمارے پاس اب بھی وقت ہو کہ ہم اپنی ترجیحات پر ازسر نو غور کریں۔ پروفیسر احسن راٹھور نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی انسانی صحت کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے اپنے لوگوں اور حکومت کو مدد فراہم کرے۔ انھوں نے ٹیچنگ ڈیپارٹمنٹس کو ہدایت کی کہ وہ انفیکشن کنٹرول، ہاسپٹل کے فضلے کو تلف کرنے کے طریقوں، ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے ڈپریش، نیند اور سانس کے مسائل، گردوں کے امراض، الرجی، دوران خون کو پہنچنے والے نقصانات اور بانجھ پن پر تحقیق کریں۔ انھوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اس حوالے سے تحقیقی سرگرمیوں کو منظم کرے گا۔ اس موقع پر وائس چانسلر یو ایچ ایس نے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیوں پر ڈپلومہ پروگرام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں پوسٹ گریجوایٹ اور انڈرگریجوایٹ پروگرامز کا جائزہ لیا گیا۔ وی سی یو ایچ ایس کا کہنا تھا کہ وہ "سٹیٹ آف دی آرٹ” کے تصور کا قائل نہیں بلکہ کلچر کے مطابق پہلے بنیادی چیزوں کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ انڈرگریجوایٹ سطح پر کمیونیکیشن سکلز اور میڈیکل رائیٹنگ کو نصاب میں شامل کیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button