
سابق وزیر اعلی پنجاب کے ایک کارخاص نے چمک کے عوض وی سی یو ای ٹی کے ذریعے جونئر پروفیسر ز کو مختلف شعبہ جات کا سربراہ مقرر کروایاڈاکٹر نوید رمضان کو ڈین کیمیکل لگوایا گیا اور انکے کیس میں تین سینئرز کے نام نہیں بھیجے گئے بلکہ تیسرے کو مائنس کرکے چوتھے کا نام بھیج دیا گیا:ذرائع
لاہور (خبرنگار)پنجاب یونیورسٹی کے بعدیوای ٹی لاہور میں بھی سابق وزیر اعلی پنجاب کے منظور نظر افراد کو آوٹ آف میرٹ ترقیاں اور عہدے دیے جانے کا انکشاف ہوا ۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعلی پنجاب کے ایک کارخاص نے چمک کے عوض وی سی یو ای ٹی کے ذریعے جونئر پروفیسر ز کو مختلف شعبہ جات کا سربراہ مقرر کروایاذرائع کے مطابق میرٹ سے ہٹ کر ترقیاں حاصل کرنے والوں میں سٹی اینڈ ریجنل پلاننگ ڈیپارٹمنٹ میں چوتھے نمبر والے پروفیسر ڈاکٹر شاکر کو چیئرمین لگے جبکہ مائننگ ڈیپارٹمنٹ میں سینئر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقارکی جگہ ا جونیئر ایسویسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شہاب کو چیئرمین لگایا گیا ۔نیوکیمپس کالا شاہ کاکو میں 7 ویں پوزیشن والے پروفیسر ڈاکٹر تنویر اقبال کو میرٹ سے ہٹ کرکیمپس کوارڈی نیٹر لگایا گیا ۔جونیر پروفیسر ڈاکٹر صائمہ تنویر اقبال کو کیمیکل ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ لگوایا گیا۔اسی طرح انوائرمنٹل ڈیپارٹمنٹ میں سینئر پروفیسر ڈاکٹر سجاد حید کی جگہ ایک نان انجیئنر جونیر پروفیسر ڈاکٹر عامر اخلاق کو ڈائرکٹر لگوایا۔جونئر ترین پروفیسر علی حسین کا ظم کو آٹو موٹو ڈیپارٹمنٹ کا ڈائرکٹر تعینات کروایااور جونیر ترین پروفیسر ڈاکٹر احسان الحق کو فاونڈری سروس سنٹر کا ڈائر یکٹر لگوایا گیا۔کیمسٹری کی پروفیسر ڈاکٹر انیلہ کو قواعد کے خلاف نیوکیمپس کالا شاہ کاکوسے مین کیمپس ٹرانسفر کیا گیاڈاکٹر نوید رمضان کو ڈین کیمیکل لگوایا گیا اور انکے کیس میں تین سینئرز کے نام نہیں بھیجے گئے بلکہ تیسرے کو مائنس کرکے چوتھے کا نام بھیج دیا گیاپی ٹی آئی حکومت کے ایک وزیر نے رشتہ داری کی بنیادپر سید منصور سرور شاہ کو یو ای ٹی کا وی سی لگوایاتھا۔بعدازاں وی سی نے سابق وزیر اعلی پنجاب کے کہنے پر مختلف جونیرز پروفیسرز کو شعبہ جات کا سربراہ لگوایااور انہیں خوش کرنے کے لئے سفارشی بنیادوں پر مذکورہ پروفیسرز کو ترقیاں دلوائی گئیں ۔ یوای ٹی کے ایک پروفیسر ڈاکٹر آصف رفیق نے ان تمام ترقیوں کے پراسس کے بارے میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت کیمشن کو درخواست بھی دائر کر رکھی ہے جس پر سنیارٹی کو نظر انداز کرکے دی گئی ترقیوں بارے تفصیلات اور سنیارٹی لسٹ طلب کی گئی ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے ابھی تک ریکارڈ پیش نہیں کیا۔جس پر ڈاکٹر آصف رفیق نے عدالت سے بھی رجوع کر رکھا ہےکورٹ اور انفارمشن آفیسر کی طرف سے ریکارڈ کی طلبی کا دباو بڑھنے پر وائس چانسلر یوای ٹی نے اپنی جان بچانے کے لیے سنیارٹی رولز میں ترمیم کی کوشش کی گئی ۔جسے 17 مئی کے سینڈیکٹ اجلاس میں ارکان کی مخالفت پر منظوری نہ مل سکی۔یو ای ٹی ایکٹ 1974 کے مطابق سینئر اساتذہ کو ڈین اور چیئرمین لگایا جاتا ہے۔وی سی منصور سرورشاہ نے وزیر اعلی عثمان بزدار کی سفارش پر جونئیر اساتذہ کو ڈین اور چیئرمین لگوایا۔

















