تعلیمسٹیصحت

پانچ سو قدم روزانہ پیدل چلنے سے ذیابیطس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے

35 سال کی عمر کے ہر شخص کو بلڈ ٹیسٹ کراکے شوگر کا پتہ چلانا چاہئے

زندہ رہنے کیلئے کھانا کھانا،کھانے کیلئے زندہ رہنے سے بہتر ہے: ماہرین کا سیمینار سے خطاب
لاہور(خبر نگار)اپنی زندگی کو تلخ ہونے سے بچانے کیلئے چینی / شکر اور میٹھی اشیاء خورد و نوش کا استمعال کم سے کم کریں تاکہ موٹاپے اور ذیابیطس کے مرض سے محفوظ رہ سکیں جو بلند فشار خون، امراض قلب اور نا بینا پن کی ایک بڑی وجہ ہے۔کم خوراکی، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس سے پرہیز اور معمول کی ورزش انسان کو صحت مند رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان میں بیماریوں کا برڈن روز بروز بڑھ رہا ہے جسکی بڑی وجہ ذیابیطس یعنی شوگر کے مرض میں تیزی سے اضافہ ہے جو بیماریوں کی جڑ ہے۔ضروری احتیاط، مناسب پر ہیز اور اپنے آپ کو متحرک کر کے شوگر کے باوجود صحتمند رہا جا سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار طبی ماہرین اور ماہر غذایات نے نیو ٹریشن ڈیپارٹمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے زیر اہتمام ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اکیڈمک سیمینار سے خطاب کرتے ہویے کیا۔ ڈین آئی پی ایچ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر، لاہور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے ڈاکٹر مہرین فاروقی، حمید لطیف ہسپتال سے ڈاکٹر مہناز ناصر خان،اتفاق ہسپتال سے ڈاکٹر شفاء علی اور دیگر dietitians نے سیمینار سے خطاب کیا اور شوگر کے مرض کی روک تھام، علاج، مینجمنٹ اور شوگر کے مریض کیلئے خوراک بارے سیمینار کے شرکاء کو آگاہی فراہم کی۔ڈاکٹر زرفشاں طاہر۔ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مرض کا خطرہ روز بروز بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں 32 ملین افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں یہ مرض دیگر مہلک بیماریوں کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیماری کی روک تھام کیلئے طبی ماہرین اور ماہر غذائیات کو مربوط اور مشترکہ کوششیش کوششیں کرنا ہوں گی اور عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ڈاکٹر مہرین فاروقی کا کہنا تھا کہ 35 سال کی عمر کو پہنچنے والے ہر شخص کو شوگر کے حوالہ سے بلڈ سریننگ لازمی کروانا چاہیے تاکہ اگر ذیابیطس کی تشخیص ہو تو اسکا ابتدا میں اعلاج اور پریونشن کی جا سکے۔ ڈاکٹر مہرین نے شوگر کے اعلاج میں انسولین کی افادیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 60 سال سے قبل ہونے والی اموات میں سے 35% ذیابیطس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔لوگوں کو اپنی فٹنس، آوٹ دور سرگرمیوں اور روزانہ ورزش پر توجہ دینا چاہئے تاکہ وہ بیماری سے بچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ روزانہ 500 قدم چلنا رسک فیکٹر کو کم کردیتا ہے۔ڈاکٹر شفاء علی نے شوگر سے بچاؤ اور شوگر کے مریض کیلئے اشیاء خورد و نوش، پھلوں اور دیگر چیزوں کے استمعال بارے بریفنگ دی۔ ڈاکٹر مہناز ناصر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنی روز مرہ عادات اور کھانے پینے کی روٹین کو تبدیل کرنا ہوگا ڈاکٹر مہناز نے کہا کہ ہمارا کلچر ہے کہ خوشی ہو تو کھانا کھانا ہے اور غمی ہو تو تب بھی کھانا کھائے بغیر نہیں جانا، انہوں نے کہا کہ زندہ رہنے کیلئے کھانا کھانا چاہئے ناکہ کھانا کھانے کیلئے جینا چاہیے۔ سیمینار کے اختتام پر علامتی واک کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں ڈین، فیکلٹی ممبر ز، ڈاکٹرز اور سٹوڈنٹس نے شرکت کی۔اس موقع پر نیوٹریشن کیمپ بھی لگایا گیا جس میں ڈاکٹرز نے لوگوں کے فری شوگر ٹیسٹ، بلڈ پریشر اور وزن چک کیا اور شوگر کے مرض سے بچاؤ بارے پرہیز اور احتیاطی تدابیر سے اگاہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button