پی ایچ اے اور پبلک پرائیویٹ و سول سوسائٹی کا ماحولیاتی بہتری کیلئے احسن اقدام

لاہور (خبر نگار) پاکستان کے پہلے پبلک پرائیویٹ اور سول سوسائٹی کے مشترکہ اشتراک سے بننے والے میاواکی جنگل کے جملہ انتظامات کیلئے لبرٹی میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پبلک پرائیویٹ اور سول سوسائٹی کے عہدیداران نے لبرٹی میاواکی جنگل کو پی ایچ اے لاہور کی زیر نگرانی دے دیا گیا۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل صفی اللہ گوندل، سی ای او آئی ایم ڈی شیراز منو، سی ای او ری سٹور اربن ڈویلپمنٹ بلال اختر چوہدری، ترجمان اربن فاریسٹ اسٹیشن لاہور عطیہ نون، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن پی ایچ اے موسی علی بخاری،ڈائریکٹر ہارٹیکلچر علی شاہ نواز نے شرکت کی۔ تقریب میں میاواکی جنگل کے جملہ انتظامات کو باقاعدہ طور پر پی ایچ اے کے حوالے سے کیا گیا۔ اس موقع پرایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل صفی اللہ گوندل نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لبرٹی میں پاکستان کے پہلے میاواکی جنگل کو ماحول کی بہتری کیلئے تین سال قبل گیارہ کنال لگانے کا میاب تجربہ کیا گیا۔ میاواکی جنگل میں 10 ہزار درختوں کی شجرکاری کی گئی تھی جو آج بڑے درختوں میں تبدیل ہوچکی ہے۔

پی ایچ اے نے شہر لاہور کے انوائرمنٹ کو بہتر بنانے اور ماحول کو خوشگوار بنانے کیلئے 53 میاواکی جنگل لگائے ہیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل صفی اللہ گوندل نے مزید کہا کہ پی ایچ اے مستقبل میں بھی شہرمیں میاواکی جنگلات لگانے کے حوالیسے ورکنگ کررہا ہے۔ پی ایچ اے کی ٹیم آج سے باقائدہ طور پر لبرٹی میاواکی جنگل کی نگہداشت کا کام کریگی۔ پی ایچ اے صوبائی دارالحکومت کی خوبصورتی اور ماحول کی بہتری کیلئے پبلک پرائیویٹ اور سول سوسائٹی کے اشتراک کیساتھ مستقبل میں کام کریگا۔







