
لاہور (خبرنگار)یوم آزادی تقریبات کے سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی پاکستان سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام ’قائد کا نظریہ پاکستان اور عام شہری کی ذمہ داریاں‘ کے موضوع پر ویبینار کا انعقاد کیاگیا ۔ اس موقع پر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آبادسے تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر فاروق احمد ڈار،ڈائریکٹر پاکستان سٹڈی سنٹر پروفیسر ڈاکٹر نعمانہ کرن، ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر امجد عباس خان مگسی، ڈاکٹر احمد اعجاز سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر فاروق احمد ڈار نے کہا کہ جدید دور میں نہ صرف اشرافیہ بلکہ پاکستان کی عام عوام بھی اس بات کو یکسر فراموش کر چکی ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ملک کو کیا بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی ذرائع پر اچھی طرح نظر ڈالنے سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ جناح چاہتے تھے کہ پاکستان میں ادارہ جاتی عمل شروع ہو اور افراد کو نہیں بلکہ اداروں کو ڈرائیونگ سیٹ پر رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ قائد کے ویژن کے مطابق ریاست پاکستان اپنے شہریوں کی تعلیم، صحت اور سماجی بہبود پر توجہ دینے اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کی دیکھ بھال کی ذمہ دارہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک کیا جانا بھی قائداعظم کا ویژن ہے۔ ڈاکٹر نعمانہ نے کہا کہ یوم آزادی اپنے آپ کو جانچنے کا بہترین وقت ہوتا ہے یا تو ہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد کا ایک عام شہری کا ویژن درحقیقت ایک ذمہ دار شخص کا ہے جسے نظم و ضبط، محنت، دیانت دار اور اپنے مقاصد کے لیے منصفانہ اور میرٹ پر یقین ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر یقین رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ پاکستانی شہریوں میں رواداری ہو۔ ڈاکٹر احمد اعجاز نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کا خواب قائداعظم نے حقیقت میں بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی ریاست کی بنیاد دو قومی نظریہ پر رکھی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے ایک لبرل اور روادار اسلامی معاشرے کے قیام، سماجی و اقتصادی انصاف، شراکتی اور جمہوری سیاست، آئین پرستی، ذات پات، مسلک، مذہب یا جنس سے بالاتر ہو کر مساوات اور تعلیم کے مواقع اور فطری اور موروثی خصوصیات کی ترقی پر زور دیا۔







