سٹیکاروبار

پروگریسو گروپ کا تمام تاجر برادری اور سیاسی قیادت خصوصاً جماعت اسلامی کا بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

حکمران اس ہڑتال کو نوشتہ دیوار سمجھیں اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے فی الفور اقدامات کریں ۔

لاہور(خبر نگار) لاہور ایوان صنعت و تجارت کے اراکین پر مشتمل پروگریسو گروپ نے ہفتہ کے روز بجلی کی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف کی جانے والی کامیاب ہڑتال پر تمام تاجر برادری، سیاسی پارٹیوں خصوصاً جماعت اسلامی اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئیے حکمرانوں کو خبردار کیا ہے کہ اس ہڑتال کو نوشتہ دیوار سمجھیں اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے فی الفور اقدامات اٹھائیں۔
پروگریسو گروپ نے مزید کہا کہ یہ احتجاج یہاں پر ختم نہ ہو گا بلکہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کے عوام کو ریلیف نہیں مل جاتا۔ حکمران اس کے لئے اپنے اخراجات کم کریں سادگی کو فروغ دیں اور صنعتوں اور کاروبار کے لئے ماحول سازگار بنائیں۔ صنعتوں اور کاروبار کے چلنے سے نہ صرف عوام کے لئے روزگار کے مواقع ملیں گے بلکہ حکومت کے لئے بھی ریونیو اکٹھا ہو گا جس سے ملکی معاشی مسائل حل کئے جا سکیں گے۔
پروگریسو گروپ کے مرکزی رہنما اور لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محمد اعجاز تنویر، عبدالودود علوی اور محسن بشیر نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ ان کا گروپ پہلے ہی اس سلسلے میں حکمران چاہے آج کے ہوں یا گذشتہ چند ادوار کے ان کو باور کروانے کی کوشش کر رہا ہے کہ قرضوں پر انحصار کرنے کی بجائے برآمدات کے بڑھانے، کاروباری اور صنعتوں کے لاگت میں مناسب کمی کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کرے تاکہ ملک کو معاشی گرداب سے نکالا ج سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لئے ملک میں انڈسٹری لگانا آسان بنائی جائے، ایکسپورٹر کو قومی ہیرو قرار دیا جائے تاکہ وہ دلجمعی سے مزید بہتری کے لئے کام کرسکیں، ایکسپورٹ را مٹریل کی فراہمی آسان بنائی جائے، ایکسپورٹرز کو بنکوں سے آسان اقساط پر قرضے فراہم کئے جائیں، دنیا بھر کے سفارت خانوں میں کمرشل اتاشی سیاسی بنیادوں کے بجائے میرٹ پر رکھیں جائیں اور ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کو آگئے ترقی دی جائے۔
بجلی کے معاملے کی بہتری کے لئے، اعجاز تنویر اور دیگر نے کہا کہ ملک کو قابل تجدید توانائی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی پی پی سے سابقہ معاہدات پر نظر ثانی کی جائے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو پراؤیٹ پبلک پارٹنر شپ کی بنیاد پر چلایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button