پاکستانتعلیمسٹی

پنجاب یونیورسٹی لائبریری کوپنجابی شاعر ہاشم شاہ کے مخطوطات کا عطیہ

لاہور (خبرنگار)پنجاب یونیورسٹی ڈین فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ اور پرنسپل اورینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر غلام معین الدین نظامی نے معروف صوفی شاعر سید محمد ہاشم شاہ کے تقریباً دو سو سال پرانے پانچ قیمتی پنجابی نسخے یونیورسٹی لائبریری کیلئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودکے حوالے کر دیئے ۔ اس موقع پر چیف لائبریرین ڈاکٹر محمد ہارون عثمانی و دیگر بھی موجود تھے۔ یہ مخطوطات علم الرمل (فارسی نثر) اور مشہور پنجابی مہاکاوی سسی پنوں، مہاکاوی سوہنی مہیوال، علم الرمل (پنجابی)، ڈہوری (پنجابی شاعری) پر مشتمل ہیں۔ یہ نسخے پاکستان میں ہاشم شاہ کے ورثاء کی خواہش پر پنجاب یونیورسٹی لائبریری کو عطیہ کیے گئے ہیں۔ہاشم شاہ ایک پنجابی ادیب اور صوفی شاعر تھے جو 1735 میں پیدا ہوئے جبکہ ان کی وفات 1843 میں ہوئی۔ وہ اپنی کہانی سسی پنوں کے لیے مشہور تھے۔ ان کے خاندان نے مقدس شہر مدینہ سے پنجاب، ہندوستان کی طرف ہجرت کی، جہاں وہ امرتسر ضلع کی تحصیل اجنالہ کے سب سے بڑے گاؤں جگ دیو کلاں میں رہنے لگے۔ ہاشم شاہ جگدیو کلاں میں پیدا ہوئے اور ساری زندگی اسی گاؤں میں بسر کی۔ انہوں نے سسی پنوں، سوہنی ماہیوال اور شیریں فرہاد کے نام سے تین کہانیاں ’کساکاو‘ لکھیں۔ ان کا مقبرہ تھرپل تحصیل نارووال میں ہے۔انہوں نے حکمت اور پیری مریدی کی خاندانی روایت کی پیروی کرنے کے علاوہ بڑھئی کا کام بھی کیا۔ جب مہاراجہ رنجیت سنگھ اور اس کے درباریوں نے ان کی سرپرستی کی تو انہوں نے بڑھئی کا پیشہ چھوڑ دیا۔ اس کے بعدانہوں نے ساری زندگی روحانیت اور تصوف (صوفیانہ) شاعری کی تشکیل کے لیے وقف کر دی۔وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے ہاشم شاہ کے ورثاء اور پروفیسر معین الدین نظامی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نسخے پنجاب یونیورسٹی لائبریری کے مخطوطات کے ذخیرے میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہوں گے جس سے محققین کو فائدہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button