
الیکشن کمیشن کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مختلف چینلز پر خبر نشر کی گئی کہ کوہستان میں علما کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر فتویٰ جاری کرتے ہوئے خواتین کی انتخابی مہم چلانے پر پابندی عائد کی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ افسر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ خبر درست نہیں اور نہ ہی مقامی علما نے کوئی ایسا فتویٰ جاری کیا ہے۔ الیکشن کمیشن یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اگر آئندہ انتخابات کے دوران کسی خاتون کو متعلقہ انتخابی حلقے میں انتخابی مہم چلانے سے یا ووٹ ڈالنے سے روکا گیا تو الیکشن کمیشن الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت کاروائی کرے گا اور اس حلقے میں انتخابات کے عمل کو کالعدم بھی قرار دیا جائے گا۔







