
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ آج پی ٹی آئی کی کالعدم قیادت کی طرف سے انٹرا پارٹی کے نام پر ناٹک رچانے کی کوشش کی گئی، ان کو موخر کرنا خوش آئند ہے۔
’اگر نئے انٹراپارٹی الیکشن کے نام پر عمل جاری رکھتے تو پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا، تحریک انصاف میں ایک ایسی قیادت ہو جو قوم کو بنانے پر توجہ دے، نوجوانوں کی زبان پر گالی اور ہاتھ میں ڈنڈا نہ ہو اور ان ہی بنیادی اصولوں کی بنیاد پر پارٹی بنائی گئی تھی۔
پارٹی ایک خوبصورت خواب تھا جو ڈراونی حقیقت بن چکا۔ ہم نے پہلے بھی مطلع کیا تھا کہ ہم انٹراپارٹی کا مقابلہ کریں گے اور اس حوالے سے ہم نے ایک پٹیشن بھی تیار کرلی تھی، قبضہ گروپ پارٹی کی یہ آخری کوشش تھی جس سے پی ٹی آئی ڈی لسٹ بھی ہوسکتی تھی‘۔
اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی آج تباہی کے دہانے پر ہے، کئی نوجوان ہیں جوکہ پراپیگنڈا کے متاثرین ہیں میں انہیں معصوم سمجھتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو پیشکش کر رہا ہوں، اب ہم نے آگے جانا ہے پارٹی کا شیرازہ بکھر چکا، ایک مصالحتی راستے پرچلنے کی ضرورت ہے، بانی چیئرمین تین نمائندے اور ایک وکیل کو نامزد کریں، ہم تین نمائندے اور ایک وکیل نامزد کریں گے، یہ آپس میں بیٹھ کر ایک فریم ورک بنائیں گے کیونکہ حالات بہت آگے جا چکے۔







