پاکستانسٹیسیاست

پاکستان مسلم لیگ (ن)کے انتخابی نتائج نے تنظیمی ڈھانچے اوراسکی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا

انتخابات میں (ن) لیگ کو خود اعتمادی و انحصار کی پالیسی لے ڈوبی،پرائمری و ضلعی یونٹس نے بھی کام نہ کیا

نارووال سے واحد (ن) لیگی رہنما احسن اقبال نے ضلع میں موثر کمپین کی اور پورے ضلع میں سویپ کیا ۔ پیپلز پارٹی انتخابی حکمت عملی کے حوالے سے ووٹرز سپورٹرز کو متحرک کرنے میں کامیاب رہی  پی ٹی آئی نے سختی کے باوجود اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کو سوشل میڈیاکے ذریعے متحرک کرکے بہتر نتائج حاصل کئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کوپرائمری ، ضلعی ، صوبائی اور وفاقی یونٹوں کی کاکردگی کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے

لاہور (تجزیہ : امداداللہ قریشی ) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے موجودہ انتخابی نتائج نے تنظیمی ڈھانچے اوراسکی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا جبکہ انتخابات میں (ن) لیگ کی خود اعتمادی و انحصار کی پالیسی انہیں لے ڈوبی ، اسکے برعکس انتخابی حکمت عملی کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کے حوالے سے متحرک دکھائی دی اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ تفصیلات کے مطابق 2024کے عام انتخابات کےنتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن اگر پاکستان کی تین بڑی سیاسی پارٹیوں کی انتخابی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2024 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)2013 اور 2018 جیسی انتخابی کارکردگی کا مظاہرہ دکھانے میں یکسر
ناکام دکھائی دیتی ہے حالانکہ 2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو اپنے حریفوں سمیت فرشتوں سے بھی سخت مخالفت کا سامنا تھا لیکن اسکے باوجود مسلم لیگ (ن) بہتر نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔ لیکن موجود عام انتخابات میں (ن) لیگ کی کارکردگی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے موجودہ
انتخابی نتائج اور تنظیمی ڈھانچے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کئے ہیں جبکہ اسکے ساتھ ساتھ (ن) لیگ کو خود اعتمادی اور غیبی طاقتوں کے انحصار کی پالیسی نے بھی نقصان پہنچایا ہے کیونکہ موجودہ انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) کےعلاقائی پرائمری یونٹس بالکل نان فنکشنل دکھائ دئے جبکہ ضلعی ، صوبائی
اور مرکزی قیادت بھی عوام الناس اور اپنے ووٹرز سے موثر رابطہ کرنے میں بالکل ناکام دکھائی دئے صرف صوبائ دارالحکومت کے قومی وصوبائ اسمبلی کے حلقوںمیں جن میں نواز شریف ، مریم نواز ،شیخ روحیل اصغر سمیت لاہور کے دیگر حلقے شامل ہیں ووٹرز سے کسی نے رابطہ نہ کیا اور نہ ہی کسی کو اپنے انتخابی نشان والی ووٹ کی پرچی فراہم کی قبل ازیں انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگی علاقائ رہنما و پرائمری یونٹس کے اکابرین ڈور ٹوڈور کمپین کرتے اور لوگوں کو انکی دہلیز پر انتخابی نشان والی ووٹ کی پر چی فراہم کرتے اور نہ ہی انتخابی کیمپین کے حوالے سے سوشل میڈیکا کے محاذ پر خاطر خواہ کامیابی حاصل کی جبکہ موجودہ انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) کا ووٹرز خود ہی ووٹ ڈھونڈنے میں مصروف رہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کی جانے والی سروس 8300 پر میسج کے ذریعے اپنے پولنگ سٹیشن تلاش کرتے رہے جسکے باعث (ن) لیگ خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں یکسر ناکام دکھائ دیتی ہے

جبکہ ضلع نارووال میں مسلم لیگ (ن) واحد رہنما احسن اقبال ہیں جنہوں اپنے ضلع میں موثر کمپین کی اور مکمل وقت دیا جسکی وجہ سے وہ اپنے حلقہ میں 2قومی اسمبلی اور 4 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور ضلع نارووال میں مسلم لیگ (ن ) نے سویپ کیا جسکا مطلب ہے کہ (ن ) لیگ کا ووٹ موجود ہے لیکن موثر کمپین نہ ہونے کے باعث مسلم لیگ (ن) اپنا ووٹ حاصل کرنے سے محروم رہی دوسری جانب سے پیپلز پارٹی نے موجودہ انتخابات میں انحصاری حلقوں سے رابطہ کٹنے کےبعد فوری طور پر اپنی انتخابی حکمت عملی بدلی اور بلاول بھٹو زرداری مکمل طور پر انتخابی کمپین میں چلے گئے اور انہوں نے اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو متحرک کیا اور مسلم لیگ (ن ) کی نسبت بہتر انتخابی کارکردگی کا مظاہرہ کیا علاوہ ازیں اسی طرح پی ٹی آئی کی ذیلی قیادت ، امیدوران اور ورکرز انتخابی حکمت عملی کے حوالے سے مکمل طو رپر متحرک نظر آئے اور انہوں نے ففتھ جنریشن وار کا بھر پوراستعمال کیا اور سوشل میڈیا سمیت دیگر جدید طریقوں سے اپنی کمپین کرنے اور ووٹرز کو متحرک کرنے میں کامیاب رہے اور اپنے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو کامیابی دلوائی ۔ آئندہ انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کو تنظیم نو کی ضرورت نظر
آتی ہے اور اپنے پرائمری ، ضلعی ، صوبائی اور وفاقی یونٹوں کی کاکردگی کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button