
بانی پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بینچ نے سماعت کی ۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر،علیمہ خان، علی محمد خان اور حامد خان عدالت پہنچے۔
ایف آئی اے پراسکیوٹر حامد علی شاہ نے اعتراض اٹھایا کہ یہ اپیل قابل سماعت نہیں؟ عدالت اپیلوں کو ناقابل سماعت قرار دے۔ اس پر عدالت نے پوچھا کہ کیسے اپیلیں قابل سماعت نہیں؟ قانون بتائیں۔
وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ 1923ء کے ایکٹ کے تحت یہ اپیل نہیں ہے، کیا سی آر پی سی بھی اپیل نہیں کرے گی؟ اس پر ایف آئی اے نے کہا کہ اس حوالے سے سی آر پی سی خاموش ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں اپیل کا کوئی حق موجود ہی نہیں ہے، ہمارا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اپیل دو رکنی بنچ نہیں سن سکتا۔
ایف آئی اے کے پراسیکوٹر کے دو اعتراضات سے متعلق دلائل مکمل ہونے پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کر دیا۔ سلمان صفدر نے کہا کہ حیران کن بات ہے کہ ان کے اعتراضات یہ ہیں کہ نا دو جج نا ایک جج اپیل سن سکتا ہے، اس ایکٹ کے تحت آرمی نیوی کی بہت مختلف طرح کی سزاؤں سے متعلق درخواستیں عدالت کے پاس آتی ہیں ۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سلمان صفدر سے کہا کہ آپ اس نکتے پر عدالت کی معاونت کریں، اگر اعتراض منظور بھی کر لیا جاتا ہے اس کے باوجود پروسیڈنگ ختم نہیں ہوں گی۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اِس سزا کے خلاف اپیل سُنی ہی نہیں جا سکتی، قانون کی یہ دانست نہیں ہوسکتی کہ اپیل کو سنا ہی نہیں جا سکتا، سزائے موت کے خلاف اپیل کیا ہائیکورٹ میں دائر نہیں کی جاتی؟
چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کہتے ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ پر کوڈ آف کرمنل پروسیجر کا اطلاق ہوگا؟ اس پر سلمان صفدر نے کہا کہ بالکل اپلائی ہوگا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ کسی کو بھی ریمیڈی کے بغیر چھوڑا نہیں جا سکتا، پراسیکیوشن نے جو سوال اٹھایا ہے اسے دیکھنا ہو گا۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ انہوں نے اس اسٹیج پر یہ اعتراض اٹھایا ہے جب میں نے اپیل پر دلائل دینے شروع کر دئیے۔ عدالت نے اپیلیں قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے ایف آئی اے کے اعتراض پر بدھ کو دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔







