
جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس ایس ایم عتیق شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
وکیل درخواست گزار نے دلائل دیے کہ اگست 2020 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے خیبرپختونخوا کے 360 سے زائد بڑے ٹیکس یونٹس کے معاملات پشاور آفس سے اسلام آباد منتقل کردیے، جس سے یہاں کے بڑے صنعت کاروں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، اس سے این ایف سی ایوارڈ پر بھی فرق پڑے گا، کیونکہ جہاں سے ٹیکس زیادہ جمع ہوتا ہے این ایف سی ایوارڈ میں اس کو زیادہ حصہ ملتا ہے، بلوچستان ہائیکورٹ نے اس حوالے سے تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے، پشاور ہائیکورٹ بھی درخواستیں منظور کرچکی ہے لیکن جسٹس وقار احمد سیٹھ صاحب کی وفات کے بعد یہ فیصلہ نامکمل رہ گیا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواستیں منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔







