سٹیسیاستصحت

سیکرٹری ہیلتھ علی جان اور سابق وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو گرفتار کیا جائے۔ وائے ڈی اے

پنجاب بھر میں جاری ری ویمپنگ کے کاموں کے فوری طور پر جوڈیشل انکوائر کروائ جاے

لاہور (خبرنگار)پی ایم ڈی سی کے صدر کو فوری عہدے سے ہٹایا جائے،70 فیصد پاسنگ مارکس کو رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے،پوری دنیا میں 50 فیصد پاسنگ مارکس سٹینڈرڈ ہے گزشتہ روز وائے ڈی اے کے رہنماوں ڈاکٹر عاطف مجید ، ڈاکٹر شعیب نیازی ، ڈاکٹر مدثر نواز اشرفی ، ڈاکٹر فرقان گجر ، ڈاکٹر احمد کمال گجر ، سمیت دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا وائے ڈی اے رہنماوں نے کہاکہ پاکستان میں بھی این ایل ائی فارن گریجویٹ کے لیے 50 فیصد پاسنگ مارکس ہونے چاہیے ،ڈاکڑز کی فلاح و بہبود کی بجائے ری ویمپنگ پر سارہ پیسہ لگا دیا گیا ہے اور غریب مریضوں اور ڈاکٹرز پر بلڈنگ بھی گر رہی ہے اسلئے ہم فوری مطالبہ کرتے کے سیکرٹری ہیلتھ علی جان اور سابق وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو گرفتار کیا جائے۔وائے ڈی اے کا مزید کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی میں نالائق لوگ مسلط کردیے ہیں ،
ہم اپنے ایف ایم جی سی کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔یہ بیوروکریٹ مائنڈ سیٹ سے باہر نکلنا پڑے گاینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی پہلی کوشش مذاکرات ہوتے ہیں ، مگر جب ہمیں مجبور کردیا جائے تو پھر اپنے احتجاج پر جانا پرتا۔یہ لوگ کرپٹ ہیں جو مسلط ہےالیکٹیڈ لوگوں کو لائا جائے یہ کرپٹ لوگ جب تک سسٹم میں ہے ملک؟ ٹھیک نہیں ہوسکتاوائے ڈی اےنے مزید کہاکہ ہم ہمت نہیں ہاریں گےہم اپنا حق چھین کر لینگےیہ بابو لوگ صرف دفتر میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں یہ اپنے ٹھنڈے کمروں سے باہر ائیں گے تو کچھ کام ہوگا۔پارلیمنٹ کے دروازے بھی کھٹکھٹانے پڑے تو وہ بھی کریں گےینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب صدر ڈاکٹر شعیب نیازی نے کہاکہ ڈاکٹر رضوان تاج نان الیکٹد پی ایم ڈی سی نے غیر قانونی اقدامات کیے تو اس کو ہم نہیں مانے گےسال میں 2 سے 3 دفعہ امتحان منعقد کروائیں یہ پی ایم ڈی سی نان الیکٹیڈ باڈی ہے یہ 4 سال پرانی تعیناتی پر بیٹھے ہیں ہم سنتے تھے یہ سیاستدان کے پاس عہدے زیادہ ہوتے مگر اب ہمارے ڈاکٹرز زیادہ عہدے رکھنے لگ گئے ہیں پروفیسر بھی بنانا،ہیڈ اف ڈپارٹمنٹ بھی بنانا اور دیگر عہدے بھی لینےہیں کسی بھی وی سی کو ایکسٹینشن دی گئی تو واے ڈئ اے اس تعیناتی کو چینلج کرے گیرضوان تاج صاحب کی پی ایم ڈی سی کینسل ہونی چاہیے ہمارے ڈاکٹرز رل رہے ہیں گجرات سانحہ پر ری ویمپنگ کے دوران تین افراد جانبحق ہوئےاس پر کیا ایکشن ہواہم شروع سے مطالبات کررہے تھے اس بوسیدہ بیلڈنگ پر ری ویمپنگ نہ کریں۔ہم بوسیدہ بیلڈنگ پر کام نہیں کریں گے۔ہم سڑکوں پر نکل آئیں گےری ویمپنگ پر دوبارہ سے کمیٹی بنائی جائےکل کسی اور ہسپتال کی بلڈنگ گر گئی تو اس کی ذمہ داری کس کی ہوگی ایم ایس کو ہٹا دیا گیا کیا یہ ایم ایس کی غلطی تھی۔قربانی کا بکرا ایم ایس کو بنا دیا جاتا ہےگنگارام ہسپتال میں ایم ار ائی سی ٹی سکین 6 ماہ سے بند پڑا ہےاج سے ہم مومنٹ کا اغاز کرنے جارہےسٹیک ہولڈرز کو ساتھ مل کر چلیں لیکن حکومت بیوروکریسی سے نکلنے کا سوچتے ہی نہیں اپ ان بابوں کی پالیسی سے باہرآئیں ۔

5 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button