سٹیصحت

ری ویمپنگ کی بیضابطگیوں میں ملوث سیکرٹری صحت کوفی الفور برطرف کیاجائے ۔ پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی

ساہیوال اور خانیوال کی جوڈیشل انکوائری کی جائے ۔ گرفتار پیرامیڈیکس کو فوری طور پر رہا کیا dsz

ہیلتھ کیئر کمیشن بھی اس بدانتظامی کا اسٹیک ہولڈر ،جرمانے کرنے اور پیسہ اکٹھا کرنا مقصود ،سرکاری ہسپتالوں میں بدانتظامی پر آنکھیں بند پولیس گردی کا شکار ہونے والے پندرہ ہیلتھ کیئر پروفیشنل ٹوٹی ہڈیوں کے ساتھ ہسپتال میں ہیں۔ پی ایم اے
ڈاکٹروں کی گرفتاری کے آرڈر دے کر ڈاکٹرزبرادری کی تذلیل کی گئی اس بدانتظامی کے تمام کردارمعافی مانگیں ۔
پروفیسر اشرف نظامی، صدر پی ایم اے مپروفیسر شاہد ملک، جنرل سیکریٹری ، ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری،پروفیسر خالد محمود خان، ڈاکٹر ارم شہزادی، ڈاکٹر بشریٰ حق کی پریس کانفرنس

لاہور (خبرنگار)پی ایم اے کے رہنماوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ ساہیوال اور خانیوال کی جوڈیشل انکوائری کی جائے ۔ گرفتار پیرامیڈیکس کو فی الفور رہا کیا جائے اور زخمی اہلکاروں کیلئے امدادی رقم کا اعلان کیا جائے۔ری ویمپمنگ کے نام پر ہونے والی بیضابطگیوں میںملوث اور سانحہ کی وجہ بننے والے سیکریٹری صحت کو فی الفور برطرف کر کے ڈاکٹرز کی عزت نفس کو بحال کیا جائے۔ان خیالات کااظہار پی ایم اے کے رہنماوں پروفیسر اشرف نظامی، صدر پی ایم اے مپروفیسر شاہد ملک، جنرل سیکریٹری ، ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری،پروفیسر خالد محمود خان، ڈاکٹر ارم شہزادی، ڈاکٹر بشریٰ حق نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا پروفیسر اشرف نظامی نے مزید کہاکہ کہ حکومت پنجاب نے سانحہ ساہیوال اور سانحہ خانیوال میں بدحواسی ، بدانتظامی اور ناعاقبت اندیشانہ اقدامات کا مظاہرہ کیا وہ قابل مذمت ہی نہیں بلکہ حکومت پنجاب کی بدنامی کا باعث بھی بنا ہے۔ حقیقت کیا ہے وہ آج ہم آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ محکمہ صحت نے Erractic تعیناتیوں کا جمعہ بازار محکمہ صحت کی نااہل بیوروکریسی نے لگا رکھا ہے ۔ سانحہ ساہیوال میںبیوروکریسی کو کیا سزا دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت واضح ہو چکی کہ آگ بھڑکنا ناقص وائرنگ، لٹکتی تاروں اور دو نمبر ائر کنڈیشنگ کے سبب ہوا۔ اور یہ سب Revamping تماشے کا شاخسانہ تھا۔ تو اس کام کے انجینئرز، MR ڈیپارٹمنٹ ، کمیونکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے پیراسائیٹ اور ٹھیکیدار تو منظر میں نظر ہی نہیں آ رہے اور مدعا ڈاکٹروں پر ڈال دیا گیا۔ان کا کہناتھا کہ اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ ساہیوال ہسپتال میں سانحہ کے بعد بورڈ آف مینجمنٹ نام کا سفید ہاتھی کہیں بھی نظر نہیں آ رہا جس میں مخصوص مفادات کے تحت اقربا پروری کرتے ہوئے مخصوص بندے لگائے گئے۔ اس جرم کے مرتکب بورڈ آف مینجمنٹ اور بیوروکریسی کو چارچ شیٹ نہیں کیا گیا۔ اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہیلتھ کیئر کمیشن بھی اس بدانتظامی کا اسٹیک ہولڈر نہیں ہے جس کو صرف جرمانے کرنے اور پیسہ اکٹھا کرنا مقصود ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں بدانتظامی پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔
پروفیسر اشرف نظامی نے کہاکہ 8جون کی کمشنر ساہیوال کی رپورٹ آن ریکارڈ ہے کہ ریسکیو1122آنے سے پہلے تمام بچے ہسپتال کی ہیومن ریسورس ریسکیو کر چکی تھی اور جب ریسکیو اہلکار آئے تو لفٹ، آگ بجھانے والے آلات اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آ گئی۔ اور ظلم دیکھیں ، واقعہ کے چھ دن بعد وزیراعلیٰ وہاں پہنچی اور لواحقین کو بیس بیس لاکھ اور ریسکیو اہلکاروں کو تین تین لاکھ انعام دے کر اور ڈاکٹروں کی گرفتاری کے آرڈر دے کر ڈاکٹروں کی برادری کی تذلیل کی اور کیا اس بات پر اس بدانتظامی کے تمام کرداروں کو معافی نہیں مانگنی چاہیے؟
پی ایم اے رہنماوں نے کہا کہ اس وقت پولیس گردی کا شکار ہونے والے پندرہ ہیلتھ کیئر پروفیشنل ٹوٹی ہڈیوں کے ساتھ ہسپتال میں ہیں اور کمشنر اور DPO سیٹوں پر براجمان ہیں اور ڈاکٹروں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر معاملہ اٹھایا تو ATA کے پرچے دے دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ کالج کے پرنسپل اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے فنانس سیکریٹری پروفیسر عمران کو پرنسپل ساہیوال کے عہدے پر تعینات کر کے ہسپتال کا ایم ایس بھ لگا کر بیوروکریسی اُن کی ہونے والی تذلیل کا مداوا نہیں کر سکتی۔ ایم ایس ڈاکٹر اختر اور اے ایم ایس ڈاکٹر عمر کو عہدوں سے ہٹا کر اپنی بدانتظامی کا جواز نہیں دے سکتی۔اب آئیے سانحہ خانیوال کی طرف۔ خانیوال میں ٹیکہ لگانے کی کوئی SOP جاری نہیں کی گئی تھی۔
مذکورہ ٹیکہ کے سائیڈ ایفکٹ اور مارکیٹ سے اٹھانے کے بارے میں ڈرگ کنٹرول حکومت پنجاب الرٹ جاری کر چکا تھا تو سوالہ یہ کہ پھر یہ ٹیکہ ہسپتال میں کیوں موجود تھا۔ اور ٹیکہ لگانے والے نرس اقصیٰ جیل میں کیوں ہے اور ڈرگ کنٹرولر جیل سے باہر کیوں ہے اور خانیوال کا CEOسیٹ پر کیوں بیٹھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button