
لاہور(خبر نگار)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام کی منظوری پر حکومت کو سراہا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ مالی امداد پاکستان کو معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل بنائے گی اور پائیدار ترقی و معاشی استحکام کی بنیاد رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ طے پانے والا معاہدہ مزید قدر میں کمی کو مو¿ثر طریقے سے روکے گا، جس کے نتیجے میں افراط زر میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ لیکویڈیٹی بحران کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سے درآمدی پابندیوں میں بھی کمی آئے گی، آئی ایم پروگرام سے مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھے گا اور غیرملکی سرمایہ کاری بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے مزید اثرات دیکھنے کو ملیں گے کیونکہ اس سے پاکستان کی اقتصادی پوزیشن کو تقویت ملے گی اور ملک میں معاشی اصلاحات پر بین الاقوامی اعتماد بھی بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو توقع ہے کہ ایک روشن مستقبل اور معاشی استحکام کی راہ ہموار کی جائے گی۔ کاشف انور نے کہا کہ اس معاہدے کے اثرات معیشت کو فوری سنبھالا دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف فنڈنگ کے علاوہ پاکستان کو حال ہی میں متحدہ عرب امارات سے ایک ارب ڈالر اور سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر ملے ہیں، یہ بھی بہت اہم ہیں کیونکہ پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر کی قلت کا سامنا ہے اور ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے۔ لاہور چیمبرنے ٹیکس بیس بڑھانے کے لیے ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیے بغیر حکومتی ریونیو میں اضافہ نہیں ہوگا۔انہوں نے صنعت کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔






