پاکستانسٹیسیاست

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اقلیتوں کے حقوق،جان ومال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے اقلیتی امور کمیشن کے قیام کا مطالبہ

لاہور(خبر نگار)
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اقلیتوں کے حقوق،جان ومال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے اقلیتی امور کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ منصورہ میں امن کانفرنس سے خطاب کے بعد اقلیتی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے اسلام آباد میں قومی اقلیتی کنونشن کے انعقاد کا بھی اعلان کیا جس میں تمام مذاہب کے درمیان احترام اور ملک میں امن و امان کے قیام سے متعلق سفارشات تیار کی جائیں گی۔ امیر جماعت نے جڑانوالہ واقعہ کو پاکستان کے تشخص کے خلاف سازش قرار دیا اور کہا کہ قرآن کریم کی بے حرمتی میں ملوث اور اس افسوس ناک واقعہ کے بعد اشتعال پھیلانے والے گروہ کا پتا لگا کر تمام کرداروں کو کیفردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کی غفلت پر بھی سوال اٹھایا۔
جڑانوالہ واقعہ کے تناظر میں ہونے والی ”امن کانفرنس“ میں سینٹر کامران مائیکل، بشپ ندیم کامران، سردار بشن سنگھ، ساجدپھاٹیا اور ہندو، عیسائی، سکھ اور دیگر مذاہب کے نمائندہ قائدین نے شرکت کی۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیے۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اورنائب امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اقلیتی رہنماؤں نے جماعت اسلامی کے اقدام کی تحسین کی اور سراج الحق کے دورہ جڑانوالہ اور مجموعی طور پر اقلیتوں کے حق میں آواز اٹھانے کے متواتر عمل کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی اقلیتوں کے خلاف کوئی افسوسناک واقعہ ہوا، امیر جماعت نے زخموں پر مرہم رکھا۔ تما م شرکاء نے جڑانوالہ میں قرآن کریم اور عیسائی عبادت گاہوں اور گھروں کو جلانے کے واقعات کی بھی پرزور مذمت کی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کا اقلیتی ونگ ملک میں بسنے والے تمام مذاہب کے افراد کے لیے کام کر رہا ہے۔ جماعت اسلامی ملک میں غیرمسلموں کے لیے اقلیت کا لفظ استعمال کرنے کے حق میں نہیں، ہمیں اقتدار ملا تو ہم آئین میں ترمیم کر کے ان کے لیے پاکستانی برادری کا لفظ متعارف کرائیں گے۔ جماعت اسلامی جبری طور پر مذاہب کی تبدیلی کی بھی مخالف ہے۔ انھوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر پر پابندی لگنی چاہیے، اقلیتوں کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے،علمائے کرام کو ملک میں امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا۔

امیر جماعت نے کہا کہ جڑانوالہ میں مجموعی طور پر 86گھر اور 19گرجا گھر جلائے گئے، انھوں نے کہا کہ دورہ جڑانوالہ کے دوران الخدمت کے پلیٹ فارم سے جلائے جانے والے گھروں کی تعمیر نو کا اعلان کیا ہے،جن بچیوں کا جہیز لوٹا گیا انھیں جہیز دیا جائے گا۔ جڑانوالہ میں مسیحی خاندانوں کو کاروبار کے لیے بلاسود قرض دیں گے، ان کے بچوں کی کفالت اور تعلیم کا بندوبست کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی جلائے جانے والے گرجا گھروں کی تعمیر میں بھی ہاتھ بٹائے گی۔ انھوں نے افراتفری کے دوران مقامی لوگوں کی جانب سے عیسائی بزرگوں اور بچیوں کو پناہ دینے کے عمل کی بھی تحسین کی اور کہا کہ یہی جذبہ حقیقت میں اسلام اور پاکستانیت کی نمائندگی ہے، امن کے بغیر ملک میں ترقی و خوشحالی نہیں آ سکتی۔ حکومتیں امن و امان کے قیام اور عوام کو حقوق دینے میں ناکام ہو گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مغرب میں اسلاموفوبیا کی وجہ سے تمام مسلمانوں کے دل زخمی ہیں، لیکن اس کی آڑ میں کسی بھی اسلامی ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو نقصان پہنچانے کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان ممالک جہاں مسلمان کم تعداد میں رہتے ہیں کی مساجد، گھروں اور کاروبار کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اسلامی ممالک کے حکمران اور او آئی سی شعائر اسلام کی توہین پر امت کے جذبات کی ترجمانی میں ناکام ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں جماعت اسلامی کی شکل میں ایک اسلامی اور انقلابی پارٹی کا اقتدار میں آنا ہی امن، ترقی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا باعث بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button