
ویٹرنری یونیورسٹی میں لا ئیو سٹاک سیکٹر کی تر قی کے مو ضوع پر سٹیک ہولڈرز کے راؤ نڈ ٹیبل ڈا ئیلاگ کا انعقاد
لاہور(خبر نگار) یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈاینیمل سائنسز لا ہو رنے گذ شتہ روز پاکستان میں لائیو سٹاک سیکٹر کی تر قی کے مو ضوع پر سٹیک ہولڈرز کے گول میزمکا لمہ کا انعقاد سٹی کیمپس میں کیا۔جس کی صدارت نگران وفا قی وزیر برا ئے نیشنل فوڈ سیکیو رٹی اینڈ ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر کو ثر عبد اللہ ملک نے کی اور سٹیک ہولڈرز سے شعبہ لائیو سٹا ک، پولٹری، میٹ،ڈیری اور فو ڈ سیکٹرز کی تر قی کے لیئے تجا ویز سنیں۔ اجلاس میں نگران صو با ئی وزیر لا ئیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈیو یلپمنٹ ڈیپا رٹمنٹ پنجاب ابرا ہیم حسن مراد، ویٹر نری یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد،وائس چانسلر ایجو کیشن یونیورسٹی پرو فیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پا شا، وائس چانسلر چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈاینیمل سائنسز بہا ولپور پروفیسر ڈاکٹر محمد سجاد خان سمیت پا کستان بھر کے پبلک و پرا ئیو یٹ سیکٹر زسے سٹیک ہولڈرز، پروفیشنلز، تحقیق کا رو ں،فارمرز، ڈیری،پولٹری و فوڈ سیکٹرز سے صنعتکارو ں، فیکلٹی ممبران کی بڑی تعداد نے شر کت کی۔
اُس مو قع پر خطاب کر تے ہو ئے پروفیسر ڈاکٹر کو ثر عبد اللہ ملک نے کہا کہ ایگریکلچر سیکٹرملک میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور لائیو سٹاک سیکٹر کی تر قی حکومت پاکستان کی اولین تر جیحات میں شامل ہے اور سٹیک ہولڈرز کے مسا ئل کوحل کرنے کی یقین دہا نی کی۔ابرا ہیم حسن مراد نے کہا کہ لا ئیو سٹاک سیکٹر کو فعال بنا نے کے لیئے ضروری ہے کہ ہم اپنے لوکل مویشیو ں (گا ئے بھینسو ں) کی افزا ئش نسل کو بہتر بنا نے، جانورو ں میں پا ئی جانے والی بیما ریو ں کے تدارک اور چارے کی پیداوار کو بڑھانے کے لیئے ہائبر ڈ بیج کے زریعے کاشت کاری کرنے پر خصو صی توجہ دیں۔
پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد نے کہا کہ ڈا ئیلاگ کامقصد پبلک و پرا ئیو یٹ سیکٹر ز سے سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر نا تھا جہا ں وہ ملک میں لائیو سٹاک سیکٹر سے متعلقہ در پیش مسا ئل کو زیر بحث لا ئیں نیز کہا کہ ویٹر نری یونیورسٹی پاکستان میں لا ئیو سٹاک، پولٹری، ڈیری اور فوڈ صنعتو ں کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہے اور ان صنعتو ں کو در پیش مسا ئل حل کرنے کے لیئے بطور تھنک ٹینک اپنا کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر طلعت نصیر پا شا نے کہا کہ پولٹری، ڈیری اور میٹ انڈسری کو تر قی کے لیئے ساز گار ما حول کی ضرورت ہے اُنہو ں نے کہا کہ اگر ان صنعتوں کی تر قی ہو گی تو ملک میں فو ڈ سیکیورٹی ہو گی اور لوگو ں کو روز گار کے موا قع بھی حا صل ہونگے۔
اجلاس کے شر کا نے سویا بین کی در آمدکا مسلہ حل کرنے اور پولٹری کے خام مال پر ٹیکس کو ختم کرنے، اینیمل سلا ٹر کنٹرول ایکٹ کے مکمل نفا ذ، مادہ مویشیو ں کے سلا ٹر کو روکنے،خشک دودھ کی در آمد پر مکمل پا بندی لگانے اور دودھ کی قیمت ڈی کیپنگ کا مطا لبہ کیا۔شر کا نے لائیو سٹاک سیکٹر میںبجلی کے ٹیرف کو زرا عت کے ٹیرف کے مطا بق کرنے کا مطا بہ کیا نیز شر کا نے کلا ئمیٹ سمارٹ فارمنگ اور تعلیمی اداروں کے انڈسٹری کے ساتھ اشترا ک پر بھی زور دیا۔







