پاکستانسٹی

گیس چوری کریک ڈاؤن: پنجاب، خیبر پختونخواہ اور اسلام آباد میں مزید 163 گیس کنکشن منقطع، 42لاکھ سے زائدکے جرمانے عائد

لاہور (خبر نگار)
سوئی ناردرن کے تحت پنجاب، خیبر پختونخواہ اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گیس چوری کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران مزید 163 گیس کنکشن منقطع کردیے، گیس چوری میں ملوث افراد پر 42لاکھ سے زائد کے جرمانے عائد کردیے گئے ہیں۔ سوئی ناردرن گیس نے پشاور میں میٹر سے چھیڑ چھاڑ،گیس کے براہ راست استعمال، غیر قانونی کنکشن پر 32کنکشن منقطع کیے جانے کے علاوہ گیس چوری پر بیس لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا۔ گیس چوروں کے خلاف متعلقہ تھانوں میں تین ایف آئی آر بھی درج کروادی گئیں۔ راولپنڈی میں ریجنل ٹیم نے آٹھ گیس کنکشن منقطع کیے جبکہ گیس چوروں پر 17 ہزار روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔ مردان میں میٹر سے چھیڑ چھاڑ پر چھ جبکہ گیس کے براہ راست استعمال پر دوگیس کنکشن منقطع کردیے گئے۔ ریجنل ٹیم نے گیس چوروں پر 65 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔سیالکوٹ میں کمپریسر کے استعمال پر نو گیس کنکشن منقطع کردیے گئے۔ سرگودھا میں کمپریسر کے استعمال پر دو اور لائن کی غیر قانونی توسیع پر ایک کنکشن منقطع کردی گئی۔ گوجرانوالہ میں ریجنل ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے 14گیس کنکشن منقطع کرنے کے علاوہ گیس چوری کی مد میں 7 لاکھ 45 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے۔ گیس کے غیر قانونی استعمال پر گجرات میں کارروائیوں کے دوران تین کنکشن منقطع جبکہ 65ہزار کے جرمانے عائد کیے گئے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گیس کے غیر قانونی استعمال پر 13کنکشن منقطع کردیے گئے۔ ساہیوال میں گیس لائن کی غیر قانونی منتقلی پر پانچ کنکشن منقطع جبکہ گیس چوروں کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کروائی گئی ۔ ریجن نے گیس چوری پر ایک لاکھ 17 ہزار کے جرمانے بھی عائد کیے۔ فیصل آباد میں ریجنل ٹیم نے کریک ڈاؤن کے دوران 22کنکشن منقطع کرنے کے علاوہ ایک لاکھ 16ہزار کے جرمانے کیے۔ لاہور میں گیس کے غیر قانونی استعمال پر دو، گھریلو کنکشن کو تجارتی مقاصدکے لیے استعمال کرنے پر چار اور کمپریسر کے استعمال پر ایک کنکشن منقطع کرنے کے علاوہ سات لاکھ سے زائد کے جرمانے کیے گئے۔ بہاولپور میں ریجنل ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے کمپریسر کے استعمال پر نوجبکہ گیس کے غیر قانونی استعمال پر پانچ کنکشن منقطع کردیے۔ ملتان میں ریجنل ٹیم نے کمپریسر کے استعمال پر 15جبکہ غیر قانونی استعمال پر سات گیس کنکشن منقطع کرنے کے علاوہ 62 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے۔ شیخوپورہ میں گیس کے براہ راست استعمال اور غیر قانونی توسیع پر تین کنکشن منقطع کردیے گئے۔

One Comment

  1. You have access to different and many online slot game titles. Different types of slots have different themes at any licensed casino. You can choose slot machine games according to slot theme or just spin the reels of progressive jackpot slots if you are after winning and cashing out. Most online games real money slot machines have their own personality according to the theme of the game software. You can play these popular real online slots and Las Vegas games at most casinos. PlayOJO: This gambling site stands out with its wager-free bonuses. As a new player at PlayOJO, you’ll be treated with 50 free spins on Thor and the Trials of Asgard. Depositing and withdrawing is hassle-free and safe, with Jackpot City providing a sizable selection of reputable casino payment method options, including all major credit and debit cards.
    http://deakialli.com/wp-content/uploads/q427u/page.php?id=spotify-mit-tinder-verbinden
    As for your question about whether multiline, multi-coin machines induce play — yes, they do. The casino industry knows that the biggest profits come from players sitting at slot machines and playing for hours on end. These multiline, multi-coin slot machines are intended to maximize players’ time on them. Accepts And Dispenses Quarters Mini Slot Machines make great Centerpieces for a Vegas Themed Wedding or Party! Accepts And Dispenses Quarters The coins have to be sorted, and machines have to be refilled multiple times a day, he said. Finding a slot mechanic who knows how to service the older machines is difficult, and getting replacement parts is sometimes impossible, he said. Casinos are a whole different matter. They are always watching and if the slot machines can be scammed they will catch on and fix them. The roommate mentioned above above was from Vegas. Back in the early 80’s he would dare to try to cheat a Vegas slot machine.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button