پاکستانتعلیمسٹیصحت

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے زیر اہتمام مرحوم پروفیسرز پروفیسر ظفر اللہ چوہدری، پروفیسر آصف بیگ مرزا اور پروفیسر ارشاد حسین قریشی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

آج ہم جو کچھ بھی ہیں اپنے اساتذہ کی بدولت ہیں۔ مقررین

لاہور (خبر نگار)کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے زیر اہتمام مرحوم پروفیسرز پروفیسر ظفر اللہ چوہدری، پروفیسر آصف بیگ مرزا اور پروفیسر ارشاد حسین قریشی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
تعزیتی اجلاس میں شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے معروف افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر پروفیسر اختر سہیل چغتائی، پروفیسر عبدالمجید چوہدری، پروفیسر اسد اسلم خان، پروفیسر عامر زمان خان، پروفیسر قاضی محمد سعید، پروفیسر محمد یعقوب قاضی، پروفیسر عائشہ شوکت، پروفیسر مختار حسن رندھاوا، پروفیسر خلیل احمد رانا، پروفیسر غیاث النبی طیب، پروفیسر ثمینہ نعیم، پروفیسر شمسہ ہمایوں، پروفیسر سمعیہ ملک، پروفیسر جلیل الدولہ، پروفیسر بلقیس شبیر، پروفیسر محمود شوکت، ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر، ریٹائرڈ پروفیسرز پرنسپلز اور وائس چانسلرز سمیت فیکلٹی ممبران اور سٹوڈنٹس کی کثیر تعداد موجود تھی۔

اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا سٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر سید اصغر نقی نے سر انجام دئیے اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ آج ہم سب اپنے اساتذہ کی یاد میں اکھٹے ہوئے ہیں اور آج ہم جو کچھ بھی ہیں سب انکی بدولت ہیں۔
پروفیسر محمد امجد جو کہ مرحوم پروفیسر ارشاد حسین قریشی کے قریبی دوست تھے ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر ارشاد حسین قریشی 45 برس سے شعبہ طب سے منسلک رہے آپ نے اپنے تعلیمی کیرئیر کا آغاز بھی کنگ ایڈورڈ سے کیا اور چئرمین شعبہ میڈیسن اور رجسٹرار کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ کو بیسٹ ٹیچر کا ایوارڈ ملا، آپ نے ذاتی کاوشوں سے ایسٹ میڈیکل وارڈ کی تعزین و آرائش اور بحالی کروائی، آپ کے ہاتھ میں اللہ تعالٰی نے بہت شفا رکھی تھی،ان کا کہنا تھا کہ بطور دیرینہ دوست میری ان کے ساتھ بہت اچھی یادیں وابستہ ہیں اللہ سے دعا ہے کہ ان کے نیک کام ان کے لئے صدقہ جاریہ بنیں۔
پروفیسر فاروق افضل نے پروفیسر آصف بیگ مرزا کی زندگی اور ان کے ساتھ گزرے وقت پر روشنی ڈالی ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر آصف بیگ مرزا سرجری کے نامور استاد اور نہایت شفیق انسان تھے، آپ نے ایک مثالی زندگی گزاری آپ نے ہمیشہ ایمانداری محنت اور لگن سے اپنے فرائض سر انجام دئیے۔ آپ ہمیشہ اپنے سٹوڈنٹس، مریضوں اور ملازمین کے لئے مخلص رہتے۔ دعا ہے کہ اللہ پروفیسر آصف بیگ مرزا کے درجات بلند فرمائے۔
وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ طب کے تین درخشاں ستاروے ڈوب گئے اور اپنے خالق حقیقی کو جا ملے میرا ان تیوں اساتذہ اکرام سے بہت گہرا اور ادب والا تعلق تھا،
انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کو بہت کچھ دیااور ان کے بچے بھی اسی ادارے سے فارغ التحصیل ہیں۔ پروفیسر ارشاد حسین قریشی میرے بہت قریبی دوست تھے جبکہ پروفیسر آصف بیگ مرزا اور پروفیسر ظفر اللہ چوہدری کی شخصیت کے اثرات مجھ پر بہت گہرے ہیں۔ پروفیسر ظفر اللہ چوہدری میرے انتہائی محترم استاد تھے۔ آپ بیرون ملک سے اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملک واپس آئے آپ نے میو ہسپتال میں لیپروسکوپک سرجری کا آغاز کیا آپ عمر کے کم ترین حصے میں بطور پروفیسر تعینات ہوئے ، آپ کی قائدانہ صلاحیتوں کی دنیا معترف تھی۔ آپ کے ہزاروں طالبعلم پاکستان سمیت دنیا بھر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ آپ کی کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے لئے بے پناہ خدمات ہیں۔ آپ نرم مزاج اور انسانیت کی خدمت میں پیس پیش رہتے آپ میں انسانیت کی اوصاف حمیدہ صفات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آپ کے جانے کے بعد آپ کی کمی کو پورا تو نہیں کیا جا سکتا دعا ہے کہ اللہ آپ کے درجات کو بلند فرمائے۔
پروفیسر عبدالجلیل دولہ کا کہنا تھا کہ بطور دوست میرا پروفیسر ظفر اللہ چوہدری کے ساتھ ایک محبت اور خلوص کا رشتہ تھا۔ پروفیسر ظفر اللہ چوہدری کا ہر ایک کے ساتھ محبت اور پیار کا رشتہ تھا آپ ہر ایک کے ساتھ ہر وقت مدد کرنے کو تیار رہتے۔ محبت، محنت اور حق کے لئے ڈٹ جانا آپ کی خصوصیات تھیں۔
پروفیسر عامر زمان خان کا کہنا تھا کہ پروفیسر ارشاد حسین قریشی کنگ ایڈورڈ کے معروف اور قابل استاد تھے۔ پروفیسر آصف بیگ مرزا میرے استادوں میں سے تھے آپ کی اس ادارے کے بہت خدمات ہیں آپ مریضوں کی بہتری اور علاج کے لئے دن رات کوشاں رہتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پروفیسر ظفر اللہ چوہدری سے میری گزشتہ 3 دہائیوں سے وابستگی رہی۔ آپ بہترین لیڈر تھے آپ کی تربیت ہماری زندگیوں میں نہایت مفید ثابت ہوئی۔ میری دعا ہے کہ اللہ ان تمام حضرات کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
پروفیسر اسد اسلم خان کا کہنا تھا کہ پروفیسر ارشاد حسین قریشی سے میری گہری دوستی تھی میں نے اپنی زندگی میں ایسا ذہین اور قابل فزیشن نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر آصف بیگ مرزا ایک مخلص انسان تھے جبکہ پروفیسر ظفر اللہ چوہدری کی سی پی ایس میں بے پناہ محنت ہے امید ہے کہ ان کے بعد ان کے شاگرد پروفیسر محمود ایاز، پروفیسر عامر زمان خان اور دیگر ان کی محنت اور روایات کو آگے لے کر چلیں گے۔
تعزیتی اجلاس کے اختتام پر پروفیسر محمد امجد نے مرحومین کی ارواح کے ایصال ثواب اور بلندی درجات کے لئے دعا کروائی۔

4 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button