پاکستانسٹیسیاستصحت

محکمہ صحت پنجاب غریب مریضوں کی زندگیوں کی قیمت پر ہسپتالوں کی تزئین و آرئش پر بضد سیکرٹری صحت وزیر اعلی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے غریب مریضوں کی جانوں سے کھیلنے لگے

ہسپتالوں کے ذمہ اربوں روپے کے واجبات کے باعث مریضوں کا علاج معالجہ شدید متاثر ہورہا ہے ۔ سربراہان میڈیکل

ہسپتالوں میں اربوں روپے کے ناقص اور غیر معیاری کاموں کے حوالے سے متعدد شکایات سامنے آگئیں ، اجلاس ٹیچنگ ہسپتالوں میں 25ارب روپے کی تزئین و آرئش کرچکے 16ارب روپے سے مزید کریں گے ۔ علی جان خان سیکرٹری صحت اربوں روپے کی تزئین و آرائش میں نہ واش روم بنے، نہ لفٹیں لگائ گئیں ناقص کام ، دیواروں میں پانی آگیا ، تزئین و آرائش کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف نیب،اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے میں کیس بجھوائے جائیں گے ۔ وزیر صحت پنجاب

لاہور(امداداللہ قریشی )محکمہ صحت پنجاب غریب مریضوں کی زندگیوں کی قیمت پر ہسپتالوں کی تزئین و آرئش پر بضد ہوگیا، سیکرٹری صحت وزیر اعلی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے غریب مریضوں کی جانوں سے کھیلنے لگے ، مختلف ہسپتالوں کے سربراہان کی جانب سے ہسپتالوں کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی نہ ہونے فنڈز کی شدید کمی اورمریضوں کے علاج معالجہ شدید متاثر ہونے کی شکایا ت کے باجود سیکرٹری صحت نے ہسپتالوں کی تزئین و آرئش کے لئے حکومت سے مزید 16ارب روپے مانگ لئے ۔مختلف ہسپتال سربراہان کی جانب سے ہسپتالوں کی تزئین وآرئش میں ناقص کاموں کی حوالے سے متعدد شکایات سامنے آگئیں تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں وائس چانسلرز اور پرنسپل کانفرنس منعقد ہوئی جس میں وائس چانسلرز، پرنسپل اور ایم ایس صاحبان نے شرکت کی جبکہ حکومت کی جانب سے وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق ، سیکرٹری صحت پنجاب علی جان خان ، سپیشل سیکرٹری واجد شاہ سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس کی اندرونی کہانی کے حوالے سے ذرائع کے مطابق اس موقع پر مختلف وائس چانسلر ز، پرنسپلز اور ایم ایس صاحبان کی جانب سے ہسپتالوں میں جاری ری ویمپنگ کی ناقص حکمت عملی اور غیر معیاری کاموںکے حوالے سے متعدد شکایات کی گئیں علاوہ ازیں وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری صحت کو بتایا گیا کہ اس وقت ٹیچنگ ہسپتال اربوں روپے کے مقروض ہیں جسکی وجہ سے مریضوں کا علاج معالجہ شدید متاثر ہورہا ہے اور اگر یہ ادائیگیاں نہ کی گئ تو علاج معالجہ بالکل بند ہوجائے گا صوبائی دارالحکومت کے ایک بڑی میڈیکل یونیورسٹی کےوی سی نے کہا کہ ہمارے ہسپتالوں کا حال ملکی حالات جیسا ہے کہ جتنی رقی آتی ہے وہ بقایاجات جات کی ادائیگی میں اٹھ جاتی ہے اس وقت صرف میو ہسپتال کو 3 ارب سے زائد کے بقایاجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اگر پیسے نہ دیں تو کمپنیوں والے ادویات کی سپلائی بند کر دیتے ہیں کہ جس سے مریضوں کا علاج معالجہ شدید متاثر ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت واجبات ادا کرے اور پھر اداروں کے سربراہان سے کاردگی کی بات کرے
ایک میڈیکل یونیورسٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان ڈور الائیڈ ہسپتال میں اس رفتار سے کام نہیں ہو رہا کہ جس رفتار سے پہلے ہورہا تھا، الائیڈ ہسپتال میں کینسر وارڈ کی ریڈی ایشن مشین 40 سال پرانی ہے ، لینر ایکسلیریٹر کی خریداری کرنا چاہی بعد میں یہ منصوبہ ختم کر دیا گیا۔ ایک اور میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی کا کہنا تھا کہ ری ویمپنگ کے دوران جتنے نئے اے سی لگائے گئے ہیں ان کا اضافی بل کیسے ادا کیا جائے گا جبکہ ہسپتالوں کے پاس پہلے ہی بجٹ ناکافی ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر کے ہسپتالوں کے سربراہان کی شکایات اور ہسپتالوں کے حالات حاضرہ کو نظر انداز کرتے ہوئے سیکرٹری صحت علی جان کا کہنا تھا کہ ری ویمپنگ کی مد میں 25 ارب ٹیچنگ ہسپتالوں میں خرچ کر چکے ہیں او حکومت سے مزید 16 ارب مانگا گیا ہے جبکہ اس موقع پرسپیشل سیکرٹری واجد شاہ نے کہا کہ ری ریمنگ کے دوران لاہور کے ایک ہسپتال میں کام ٹھیک نہیں ہوا دیواروں میں نمی آگئی، واش روم ابل پڑے دروازے خراب ہو گئےاس موقع پر وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے انجینئرز کی کوئی دلچسپی ریویمپنگ پر نہیں ان کا دھیان صرف اپنی کمیشن پر ہوتا ہے ، وائس چانسلر اور پرنسپل ٹھیکدار کو بلائیں اول تو آتے ہی نہیں اپنا نمائندہ بھیج دیتے ہیں اب ہمیں سختی کرنا ہو گی تزئین و آرائش کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف نیب،اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے میںکیس بجھوائے جائیں گے ایسا لگتا ہے کمیونیکشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے انجینرز کام کرنے کو تیار نہیںاس موقع پر خواجہ سلمان رفیق کا بھی کہنا تھاکہ
اربوں روپے کی تزئین و آرائش میں نہ واش روم بنے، نہ لفٹیںلگائیں گئیں اور ناقص کاموں کے باعث تزئین و آرائش ہونے کے بعد دیواروں میں پانی آگیا ہے

4 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button