پاکستانتازہ ترینسیاست

پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹیریٹ سیل کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی وکلاء شعیب شاہین، عمیر بلوچ جبکہ سی ڈی اے کی جانب سے وکیل حافظ عرفات جبکہ ضلعی انتظامیہ سے اسٹیٹ کونسل ملک عبد الرحمٰن پیش ہوئے۔

شعیب نے دلائل دیے کہ سی ڈی اے نے اپنے ریکارڈ میں نوٹسز لگائے مگر موجودہ نوٹس کا کوئی ذکر نہیں، سی ڈی اے نے فراڈ کیا، اگر دیکھا جائے تو دو نوٹسز کا ایک ہی نمبر ہے، انہوں نے جو نوٹسز بھیجے وہ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ سرتاج علی کو بھیجے ہیں۔

سی ڈی اے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے خود مانا کہ انہوں نے کمرشل پلاٹ خریدا، اسکا استعمال ہی تبدیل کردیا، کمرشل پلاٹ کو پارٹی کےلئے استعمال کیا گیا جس سے وہاں کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی نے پلاٹ کرایہ پر دیا ہوا ہو تو نوٹس کس کو جائے گا؟ سی ڈی اے ایسے معاملات پر مالک اور کرایہ دار کو نوٹسز کیوں نہیں کرتا تاکہ یہ معاملہ ایک ہی بار میں ختم ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

5 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button