
ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت ہوئی تو پی ٹی آئی وکلاء شعیب شاہین، عمیر بلوچ جبکہ سی ڈی اے کی جانب سے وکیل حافظ عرفات جبکہ ضلعی انتظامیہ سے اسٹیٹ کونسل ملک عبد الرحمٰن پیش ہوئے۔
شعیب نے دلائل دیے کہ سی ڈی اے نے اپنے ریکارڈ میں نوٹسز لگائے مگر موجودہ نوٹس کا کوئی ذکر نہیں، سی ڈی اے نے فراڈ کیا، اگر دیکھا جائے تو دو نوٹسز کا ایک ہی نمبر ہے، انہوں نے جو نوٹسز بھیجے وہ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ سرتاج علی کو بھیجے ہیں۔
سی ڈی اے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے خود مانا کہ انہوں نے کمرشل پلاٹ خریدا، اسکا استعمال ہی تبدیل کردیا، کمرشل پلاٹ کو پارٹی کےلئے استعمال کیا گیا جس سے وہاں کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی نے پلاٹ کرایہ پر دیا ہوا ہو تو نوٹس کس کو جائے گا؟ سی ڈی اے ایسے معاملات پر مالک اور کرایہ دار کو نوٹسز کیوں نہیں کرتا تاکہ یہ معاملہ ایک ہی بار میں ختم ہو۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔







Your point of view caught my eye and was very interesting. Thanks. I have a question for you.
Thank you for your sharing. I am worried that I lack creative ideas. It is your article that makes me full of hope. Thank you. But, I have a question, can you help me?
**mitolyn reviews**
Mitolyn is a carefully developed, plant-based formula created to help support metabolic efficiency and encourage healthy, lasting weight management.
Your article helped me a lot, is there any more related content? Thanks!
Your article helped me a lot, is there any more related content? Thanks!