پاکستانسیاست

ٹیریان کیس؛ عمران خان کو نااہل قرار دینے کی درخواست قابل سماعت ہونے یا مسترد سے متعلق فیصلہ محفوظ

سابق وزیراعظم عمران خان پر ٹیریان نامی بیٹی کو ظاہر نہ کرنے کے الزام سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت ہوئی۔ ۔اسلام آباد

درخواست گزار نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں دئیے گئے بیان حلفی میں اپنی بچی کا نام ظاہر نہیں کیا، پبلک آفس ہولڈر میں ہے کہ عمران بطور پارٹی سربراہ بھی نہیں رہ سکتے، عمران خان نے پٹیشن میں ذکر کردہ حقائق کا جواب نہیں دیا جس سے وہ تسلیم شدہ ہیں، عمران خان کی نااہلی کے لیے تمام حقائق پٹیشن میں درج ہیں۔
چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے نہ انکار کیا نہ کچھ تسلیم کیا، ابھی تک عدالت یہ پٹیشن قابل سماعت ہونے کے حوالے سے سن رہی ہے۔

عدالت میں وکیل نے عمران خان کی جانب سے جمع کرایا بیان حلفی پڑھا اور کہا کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی، قاسم خان اور سلمان خان کا ذکر بیان حلفی میں کیا، عمران خان نے کہا دو بیٹے اپنے ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور وہ فنانشلی زیر کفالت نہیں، ٹیریان کی ابھی شادی نہیں ہوئی اسلامک لا کے تحت ابھی وہ زیر کفالت ہے۔

وکیل نے کہا کہ سامنے پارٹی نے کہا کہ ہم نے پٹیشن میں ڈی این اے کا لکھا حالانکہ ہم نے نہیں لکھا، انہوں نے کہا ٹیریان امریکا میں رہتی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ٹیریان اپنے بھائیوں کے ساتھ یوکے میں رہتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ درخواست ہم نے صرف قابل سماعت ہونے کی حد تک سنی ہے، اگر قابل سماعت ہوا تو کیس آگے چلے گا اور نہ ہوا تو کیس ختم ہو جائے۔

بعدازاں عمران خان کے خلاف نااہلی کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button