سٹی

پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات نہ کروانا آئین کی پامالی ہے۔ سول سوسائٹی تنظیموں کا مشترکہ اعلامیہ

مقامی حکومتوں کے عدم قیام سے جمہوریت ادھوری ہے

لاہور (خبر نگار)
پنجاب میں مقامی حکومتوں کے قیام کےلئے فوری انتخابات کروائے جائیں،انتخابات نہ کروا کر آئین ِ پاکستان کی مسلسل پامالی کی جارہی ہے ان خیالات کا اظہار سول سوسائٹی تنظیموں نے اپنے ایک خصوصی مشترکہ اجلاس میں کیا ،شرکاءنے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل7، 32 اور140-Aکی پاسداری کرتے ہوئے پنجاب میں فوری طور پر مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔تفصیل کے مطابق ظفر ملک کنونیئرشاہ حسین ریجنل نیٹ ورک،سیدہ امتیا زفاطمہ جنرل سیکرٹری وائس سوسائٹی ، ملک لیاقت علی اعوان صدرچلڈرن ایجوکیشن ویلفیئر فاﺅنڈیشن،میاں شاہد ندیم ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سوشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو ز، آمنہ افضل پروگرام منیجرویمن ان اسٹرگل فار ایمپاورمنٹ،سعدیہ نازلی پروگرام آفیسر یوتھ کمیشن فار ہیومن رائٹس، ماہم جبیںپروگرام منیجرعزم ویلفیئر فاﺅنڈیشن اور ساجد علی ڈائریکٹر پروگرامز سنگت ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن نے خصوصی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس سے اظہارِخیال کرتے ہوئے ظفر ملک کنونیئرشاہ حسین ریجنل نیٹ ورک نے کہا کہ آئین پاکستان آرٹیکل7کے مطابق "ریاست میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مقامی ادارے ہوں گے©”اس آرٹیکل کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب کیس2021میں قرار دیا کہ "مقامی اداروں سے مراد مقامی حکومتیں ہیں”۔ سیدہ امتیا زفاطمہ جنرل سیکرٹری وائس سوسائٹی نے گفتگو کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ آئین پاکستان آرٹیکل32گارنٹی کرتا ہے کہ "ریاست علاقہ کے منتخب نمائندوں پر مشتمل مقامی حکومتوں کی حوصلہ آفزائی کرے گی ان منتخب نمائندوں میں خواتین، محنت کشوں اورکسانوں کی نمائندگی یقینی ہو گی©”۔اجلاس میں ملک لیاقت علی اعوان صدرچلڈرن ایجوکیشن ویلفیئر فاﺅنڈیشن نے سوال اٹھایا کہ پنجاب مقامی حکومتوں سے محروم کیوں ہے؟جبکہ آئین پاکستان آرٹیکل140-Aکے تحت "ہر صوبہ پابند ہے کہ قانون کے ذریعے منتخب مقامی حکومتیں قائم کرے اور انہیں مالیاتی، سیاسی، اور انتظامی اختیارات منتقل کرے©”۔ اس موقع پرمیاں شاہد ندیم ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سوشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو زنے کہا کہ مقامی حکومتوں کے عدم قیام سے جمہوریت ادھوری ہے۔آمنہ افضل پروگرام منیجرویمن ان اسٹرگل فار ایمپاورمنٹ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر بدقسمتی سے یہاںمقامی حکومتوں سے متعلق تین قوانین تو پنجاب اسمبلی سے منظور کروائے گئے مگرتا حال مقامی حکومتیں قائم نہ ہو سکیں۔ساجد علی ڈائریکٹر پروگرامز سنگت ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین واضح کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں مقامی حکومتوں کا نظام ہو گا جس میں علاقہ کے منتخب نمائندے اپنی روز مرہ زندگی کے مسائل کا انتظام اور حل نکالتے ہیں اور آئین کی رو سے یہ ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہے اسی طرح ہماری حکومتی درج بندی میں مقامی حکومتیں تیسرا ستون ہیں۔ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ،سعدیہ نازلی پروگرام آفیسر یوتھ کمیشن فار ہیومن رائٹس، ماہم جبیںپروگرام منیجرعزم ویلفیئر فاﺅنڈیشن اور ساجد علی ڈائریکٹر پروگرامز سنگت ڈویلپمنٹ فاﺅنڈیشن نے کہا کہ دنیا بھر میںمقامی حکومتوں کا نظام آج کی روز مرہ ضروریات اور سہولیات کی بہتر مینجمنٹ کا احاطہ کرتا ہے کسی بھی جمہوری ملک میں بہتر مقامی حکومتیں ہی وہاں عوام کی روز مرہ زندگی پر اچھے یا برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں مقامی حکومتیں نظر انداز کیا گیا موضوع ہے۔پاکستان میں تین صوبوں میں منتخب مقامی حکومتیں نا مکمل حالت میں اس وقت تشکیل پا چکی ہیں مگر پنجاب میںبدقسمتی سے آخری انتخابات کا انعقاد2015ءمیں ہواتھا۔

گزشتہ کئی سال سے مقامی حکومتی ادارے غیرمنتخب افراد اور افسر شاہی کے ذریعے غیر فعال اور محدود ذمہ داریوںسے چلائے جا رہے ہیں۔سول سوسائٹی تنظیموں کے مشترکہ اجلاس میں اس التواءاور غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کو فی الفور یقینی بنایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button