کالم

پنجاب کا مسیحا اوردکھ درد کا ساتھی محسن نقوی

تحریر۔ محمد ناظم الدین ڈپٹی ڈائریکٹر تعلقات عامہ پنجاب

وزیر اعلیٰ پنجا ب کی سیلاب سے نمٹنے کی تدابیر و تیاریاں
ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہونے والی موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب کے بڑہتے خطرات
سیلاب بھی قدرتی آفات میں سے ایک آفت،جہاں سے بھی سیلاب کاگزر ہوتا ہے وہاں تباہی یقینی ہوتی ہے
سیلاب معاشی طور پر ملک کو بہت نقصان پہنچا کرپستی کی طرف لے جاتا ہے
پاکستان میں قدرتی آفات کی شدتوں اور تعداد میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ اضافہ ہوا،
گزشتہ سالوں میں جو بنیادی تبدیلی سامنے آئی وہ موسمیاتی تبدیلی کے واضع اثرات ہیں
پاکستان میں د نیا کے سب سے بڑے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں
ریسکیو1122، پاک فوج اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے بھر پور انداز میں امدادی سرگرمیوں کیلئے تیار
وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر فلڈ سے نمٹنے کے لئے روڈ میپ تشکیل
ہرضلعی انتظا میہ ایمر جنسی فلڈ پلان تیار کر کے ہائر اتھارٹی کو ارسال کرنے کی پابند
صوبائی وزراء اور سیکرٹریز بھی ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کیلئے انتظامات کی نگرانی پر مامور
سیالکوٹ کے برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ کی 24 گھنٹے مانیٹر نگ جاری
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں پانی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کا عمل جاری
نالہ لئی سمیت دیگر نالوں کے اردگرد تجاوزات کا خاتمہ
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز حفاظتی پشتوں اور بندوں کی مانیٹرنگ
کسی بھی ممکنہ سیلاب کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے صوبائی محکموں کی تیاریاں مکمل

نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کابینہ کے وزراء اور سیکر ٹریز کے ہمراہ صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں سیلاب کی بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کے بعد رات گئے گنڈا سنگھ والا بارڈر کے مقام پر دریا اور تلوار پوسٹ کے فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قصور کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ محسن نقوی نے دریائے ستلج میں پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور فلڈ ریلیف کیمپ میں کئے گئے امدادی انتظامات کا معائنہ کیا۔ محسن نقوی نے دریائے ستلج کے بیڈ میں موجود آبادیوں کے فوری انخلا کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے ساتھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔وزیراعلیٰ محسن نقوی نے سیلابی پانی میں ڈوبنے والے بچے کی زندگی بچانے پر ڈی پی او قصور، اسسٹنٹ کمشنر اور ایس ایچ او کو شاباش دی۔ وزیراعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ دریائے ستلج میں پانی کی آمد و اخراج سے تمام متعلقہ اداروں کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھا جائے۔ستلج کے بیڈ میں آبادیوں میں موجود لوگوں کا انخلاء پہلی ترجیح ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے سے ستلج کے اردگرد اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ کردیا ہے اور لوگوں کے ساتھ مویشیوں کے انخلاء کے لئے اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔وزیراعلیٰ محسن نقوی کو دریائے ستلج میں پانی کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ایم ایس ہسپتال کو ڈاکٹرز کی ڈیوٹی پر موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ فلڈ یونٹ کے لئے مختص بیڈز کو دیگر مریضوں کے لئے استعمال میں لایا جائے اور وارڈز میں اے سی فنکشنل ہونے چاہئیں۔
کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا نے کہا ہے کہ تمام ڈی سیز دریاوں کے کناروں پر موجود عارضی آبادیوں کو وہاں سے ہٹا دیں۔ کمشنر لاہور نے کہا کہ ہمسایہ ملک سے دریائے راوی میں داخل ہونے والے پانی پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ ریلیف انتظامات مکمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جسر کے مقام پر 36ہزار کیوسک جبکہ شاہدرہ پر28 ہزار کیوسک پانی بہہ رہا ہے۔ متعلقہ حکام نے کمشنر لاہور کو دریائے ستلج اور دریائے بیاس میں پانی کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی۔ کمشنر لاہور نے کہا کہ لاہور میں 19،شیخوپورہ 9،ننکانہ 5 اورقصور میں 11 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دئیے گئے۔ کمشنر لاہور کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہمسایہ ملک سے لاہور میں داخل ہونے والی ڈرینز میں کوئی مسئلہ نہیں۔ کمشنر لاہور نے فلڈ وارننگ سسٹم سے ہر گھنٹے کے بعد ڈیٹا انتظامیہ کیساتھ شیئر کرنے کی ہدایت کردی۔
ہمارے ملک میں ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہونے والی موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب کے خطرات بہت بڑہتے جا رہے ہیں۔ بارشیں ہمارے لئے قدرت کاتحفہ ہیں تاہم بعض اوقات زیادہ بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آ جاتی ہے اور کچے مکانات گر جاتے ہیں اسی طرح سیلاب بھی قدرتی آفات میں سے ایک آفت ہے۔اس آفت میں پانی کا ایک زور دار بہاؤیا ریلا جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے جہاں سے بھی سیلاب کاگزر ہوتا ہے وہاں تباہی یقینی ہوتی ہے۔سیلاب کا جس ملک کو بھی سامنا کرنا پڑا ہے وہاں ہزاروں کی تعداد میں لو گ لقمہ اجل بن گئے۔کئی افراد بے گھرہو جاتے ہیں اورمالی نقصان کا اندازہ فوری طور پر لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔سیلاب معاشی طور پر ملک کو بہت نقصان پہنچا کرپستی کی طرف لے جاتا ہے۔اس کے علاوہ وسیع پیمانے پر متاثرین میں کئی وبائی بیماریاں بھی پھوٹ پڑتی ہیں۔
ہمارا ملک پاکستان خصوصا پنجاب جغرافیائی طور پرایسے خطے میں واقع ہے جہاں پرمون سون موسم معمول کی زندگی پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔پاکستان میں قدرتی آفات کی شدتوں اور تعداد میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ اضافہ ہوا اور گزشتہ سالوں میں جو بنیادی تبدیلی سامنے آئی وہ موسمیاتی تبدیلی کے واضع اثرات ہی تھے۔جس کے سبب تواتر کے سا تھ پا کستان اورہمسائے ممالک میں گرمی کی لہریں اٹھیں اس گرمی کے اثرات سے گلگت،،بلتستان اورچترا ل وغیرہ کے علاقوں میں سیلاب اور شدید بارشیں ہوئیں۔ واضع رہے کہ پاکستان کے ان علاقوں میں قطبین کے علاوہ د نیا کے سب سے بڑے گلیشیئربھی موجود ہیں۔جو دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔جہاں تک ملک میں رونما ہونے والی قدرتی آفات میں فوری امدادی کاروائیوں کی بحالی کا تعلق ہے توصوبہ پنجاب میں اس بار بھی وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر پی ڈی ایم اے،ریسکیو1122، پاک فوج اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے بھر پور انداز میں امدادی سرگرمیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔پی ڈی ایم اے ادارہ جدید و سائنسی بنیادوں عمل پیرا ہو کر ہر آنے والی قدرتی آفات کا مقا بلہ کرنے بارے ماہرین کے باہمی مشوروں سے حکمت عملی بنا کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویز ن کے مطابق حکومت پنجاب نے کسی بھی قسم کی قدرتی آفات سے برقت نمٹنے اور اقداما ت کے لئے پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کو تشکیل دیا اور اس کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے اس کی صلاحیتیں کو جدید انداز میں ڈھالا گیا ہے۔ حکومت پنجاب کی تشکیل کردہ پالیسی کے مطابق اس ادارے میں کسی بھی آفت کا مقابلہ کرنے کی ہر قسم کی صلاحیت موجو دہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ہر سال مون سون موسم شروع ہونے سے قبل فلڈ سے نمٹنے کے لئے روڈ میپ تشکیل دیا جاتا ہے اور ہرضلعی انتظا میہ ایمر جنسی فلڈ پلان تیار کر کے ہائر اتھارٹی کو ارسال کرنے کی پابند ہوتی ہے جس پر اعلی سطحی کمیٹی اس کا جائزہ لیتی ہے۔اگر اس میں کسی قسم کا خلاء پایا جاتا ہے تو فوری طور پر فلڈ پلان کو مطلوبہ معیار پر لانے کی ہدایت کی جاتی ہےَ۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ ممکنہ سیلاب و دیگر آفات کے پیش نظر تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی ادارے ہمہ وقت چوکس اورصوبائی و وفاقی محکمے آپس میں قریبی رابطہ رکھ کر کام کریں گی۔کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام تیاریاں ہر لحاظ سے پوری رکھی جارہی ہیں۔ضروری مشینری و آلات مکمل فنکشنل کر دئیے گئے ہیں۔صوبائی، ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر فلڈ ایمرجنسی کنٹرول رومز 24 گھنٹے فنکشنل ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ بارش کی صورت میں شہری علاقوں سے نکاسی آب کے حوالے سے انتظامات میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گیاس سلسلہ میں دریاؤں میں پانی کی صورتحال کو 24 گھنٹے مانیٹر کیا جارہا ہے۔محکمہ موسمیات جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے موسم کے بارے میں مستند معلومات فراہم کررہا ہے۔ محکمہ صحت فرسٹ ایڈ فراہم کرنے کی ٹیموں اور ضروری ادویات کا سٹاک رکھے ہوئے ہے۔جانوروں کی ویکسینیشن اور ان کے چارے کیلئے پیشگی انتظامات بھی مکمل ہیں کئے جا چکے ہیں۔ صوبائی وزراء اور سیکرٹریز بھی ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کیلئے انتظامات کی نگرانی کے لئے فیلڈ میں موجود ہیں۔ سیالکوٹ کے برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ کو 24 گھنٹے مانیٹر کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں پانی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کا عمل جاری ہے۔ نالہ لئی سمیت دیگر نالوں کے اردگرد تجاوزات کا خاتمہ اور وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز حفاظتی پشتوں اور بندوں کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ کسی بھی ممکنہ سیلاب کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے صوبائی محکموں کی تیاریاں مکمل ہیں۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبائی وز را ء ا ور متعلقہ سیکرٹریز غیر اعلانیہ دورے کرکے ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کے انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے پینے کے صاف پانی کا مناسب سٹاک رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر حکومت پنجاب نے ہر سال کی طرح پی ڈی ایم اے کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے اربوں روپے کی خطیر رقم مختص کردی ہے۔سیلاب کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بچاؤ کے لئے جامع روڈ میپ تشکیل دئیے جانے کے بعد ہر صوبائی محکمہ حکومتی ہدایت کے مطابق عملی اقدامات شروع ہیں۔چیف سیکرٹری کی نگرانی میں فلڈسے قبل ہر سال 15 جون سے 15 اکتوبر تک محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے میں ماسٹر کنٹرول رومز کا قیا م عمل میں لا یا گیا ہے جبکہ اضلاع کی سطح پر فلڈ سنٹرز کا قیام ڈی سی اوز کی نگرانی میں کامکر رہا ہے۔محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کے وزیر اطلاعات عامر میں،سیلر ٹری انفرمیشن علی نواز ملک،ڈی جی پی آر روبینہ خان کی ہدایت پر محکمہ میں بنائے گئے کنٹرول روم سے عوام اور میڈیا کو دریاؤں، ندی،نالوں اوررود کوہیوں میں پانی کے بہاؤ بارے قوم کو ہر لمحہ صورت حال سے 24 گھنٹے با خبر رکھا جارہا ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے آنے والے سیلابوں میں اربوں روپے سے ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں سر انجام دی گئیں جن میں کئی میٹرک ٹن وزنی سامان ہزاروں ٹرکوں کے ذریعے متاثرین میں تقسیم کیا گیا۔حکومتی ہدایت پر سیلاب متاثرین کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے کروڑوں پانی مصفا گولیاں،فلٹریشن پلانٹس بھی فوری طور پر فراہم کئے۔ جبکہ صوبہ بھر کی انتظامیہ کو کروڑوں روپے ا یمر جنسی فنڈز کے لئے فراہم کئے گئے تاکہ مقامی سطح پرریلیف و ریسکیو کی سرگرمیاں انجام دے جا سکیں۔پاک آرمی کو بھی فلڈ ریلیف ایکوپمنٹس کی مرمت و دیکھ بھال کے لئے بھی فنڈز فراہم کئے گئے۔ سیلاب کے دنوں میں متاثرین سیلاب کے لئے فور ی ا مدادی سر گرمیوں کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے تاکہ سیلابی پانی میں گھرے ہوئے اور ریلیف کیمپوں میں مقیم لوگوں کو فوری طور پراشیاء ضروریہ و خورد و نوش فراہم کر دی جائیں۔ بہترین حکمت عملی کی بنا پر صوبہ بھر میں 12 جدید وئیر ہا ؤس کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ وئیر ہاؤسز ان اضلاع میں بنائے گئے ہیں جہاں سیلاب کا ہمیشہ خطرہ رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں امدادی سامان متاثرین کو فور ی طور پر مہیا کر دیا جائے ان وئیر ہاؤسز میں ہر قسم کی اشیاء ضروریہ و خورد و نوش کاذخیرہ وافر مقدار میں رکھا گیا ہے جبکہ لاہور او ر مظفر گڑھ کے وئر ہاؤسز جو کہ 7 ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہیں جن میں 7500میٹرک ٹن سے زائد سامان رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔یہ دونوں وئیر ہاؤسز جدید انداز میں تعمیر کئے گئے ہیں جہاں پر کھانے پینے کی خشک خوراک اور اشیاء ضروریہ کے علاوہ بڑی و چھوٹی کشتیاں و موٹر بوٹس کا ذخیرہ،جدیدپانی نکالنے کی مشینری کے ساتھ ساتھ دیگر امدادی سامان کا وسیع ذخیرہ رکھا جاتا ہے۔ کسی بھی سیلاب کے بعد سروے کے دوران غلط معلومات فراہم کرنے پر این ڈی ایم ایکٹ2010ء کی دفعہ 34 کے تحت دو سال قید یا جرمانہ کی سز ا رکھی گئی ہے تاکہ کوئی بھی غیر متعلقہ شخص مفاد حاصل نہ کر سکے۔ضلعی سطح پر ڈ یز اسٹر منیجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ مقامی سطح پر سیلاب کے دوران دریاؤں میں پانی کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی طے کی جا سکے۔ سیلاب کے دنوں میں تمام دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی قبل از وقت آمد پر خلائی رصد گاہ سپارکے سٹیلائیٹ کے ذریعے مدد حا صل کیجا رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button