کالم

پاک بھارت کشیدگی اور دورہ ایرانی صدر

تحریر : علی بیگ
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بھارت نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک صدق دلی سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا_ بھارت کی دوسرے ممالک کے علاقوں پر بزور طاقت قبضہ کرنے کی توسیع پسندی کی پالیسی بھی عالمی سطح پر عیاں ہے_ بھارت نے 1947 میں تمام بین الاقوامی قوانین کو یکسر مسترد کر کے کشمیر، جونا گڑھ، حیدرآباد اور کئی دوسری ریاستوں پر زبردستی قبضہ کر لیا حالانکہ ان میں سے بیشتر پاکستان سے اپنے الحاق کا فیصلہ کر چکی تھیں_ کشمیر کے تنازعہ پر یو-این-او نے کشمیر میں استصواب رائے کا فیصلہ کیا مگر آج 77 سال گزرنے کو ہیں بھارت نے یو-این-او کی متفقہ قرارداد کے باوجود کشمیر میں رائے شماری نہیں کرائی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ من مانی اور غیر آئینی قانون سازی کر کے کشمیر پر اپنے قبضے کے پنجے گاڑ لئے ہیں بھارت کی بے شرمی اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ اب تو وہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہنے لگا ہے اور کشمیر کے تزکرے پر یو-این-او کو بھی آنکھیں دکھانے لگا ہے_ بھارت نے 1971 میں پاکستان کے صوبے مشرقی پاکستان پر حملہ کر کے غیر ملکی طاقتوں کی سازشوں اور مدد سے مشرق پاکستان کو پاکستان سے الگ کر دیا_ بھارت عرصے سے پاکستان میں اندرونی خلفشار اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے جبکہ پاکستان بین الاقوامی اداروں میں بھارت کو ننگا کرنے یا سفارتی مخاذ پر اُس کا شیطانی چہرہ دکھانے کی بجائے صرف مزمتی بیان جاری کرنے پر اکتفا کر رہا ہے_ اگر چہ بھارت کا اکھنڈ بھارت کا مزموم منصوبہ بہت پرانا ہے لیکن بھارتی حکومت آج کل اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے پوری طرح کوشاں ہے اور پوری شدومد سے اس پر کام ہو رہا ہے_ وزیراعظم بھارت مودی کی ہدایت پر اکھنڈ بھارت کا نقشہ تیار کر کے بھارتی پارلیمنٹ میں آویزاں کر دیا گیا ہے_ اکھنڈ بھارت میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، سری لنکا وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے_ اکھنڈ بھارت سے مراد گریٹ انڈیا ہے یعنی بھارت اکھنڈ بھارت میں شامل کئے گئے ممالک پر قبضہ کر کے گریٹ انڈیا بنانے کا خواہشمند ہے_ بھارت نے اپنی سرزمین پر مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہے_ ماضی میں جب عرب تاجر تجارت کی غرض سے بھارت میں آئے تو ان تاجروں کی ایک بڑی تعداد بھارت کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئی_ آج کل بھارتی راہنماؤں کی ایک بڑی تعداد اپنی تقریروں اور تحریروں میں عرب سے آنے والے ان عربی تاجروں کو گُھس بھیٹیے کے القاب سے مخاطب کر رہی ہے_ حیران کن امر یہ ہے کہ بھارت مسلمانوں پر گھٹیا الزامات عائد کر رہا ہے جبکہ عرب ممالک بھارت سے تجارتی مراسم بڑھانے پر ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں_ پاکستان بھارت کی شیطانی کارروائیوں کا موثر جواب دینے میں اپنا صحیح کردار ادا نہیں کر رہا_ پاکستان نے اب تک بھارت کے اکھنڈ بھارت کے غیر قانونی منصوبے کو یو-این-او اور دوسری بین الاقوامی تنظیموں کے اجلاسوں میں موثر طریقے سے نہیں اُٹھایا اس کے علاوہ سفارتی محاذ پر بھی آج کل پاکستان ہر مسئلے پر صرف مزمتی بیان جاری کرنے تک محدود ہو چکا ہے_ پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات کے فرائض صرف پی ٹی آئی، بانی پی ٹی آئی پر تنقید اور حکومتی راہنماؤں کی مدح سرائی تک محدود ہیں_ میری رائے ہے کہ پاکستان میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے عہدے کا نام بدل کر وفاقی وزیر برائے مزمتی بیانات اپوزیشن و مدح سرائی برائے حکومتی راہنما رکھ دینا چاہیے_ آپ گزشتہ ایک ماہ کے حکومتی وزرا کے بیانات اور تبصرے چیک کر لیں آپ کو بھارت کی مزموم کارروائیوں پر خاموشی کا سمندر نظر آئے گا_ وفاقی وزرا کے بیانات صرف اپنی کرسی پکی کرنے والے بیانات تک محدود ملیں گے_ ان وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ وہ عوامی خدم اور عوامی مسائل کے حل کے لئے سیاست میں ہیں اُن کے نزدیک عوامی خدمت اپوزیشن میں رہ کر نہیں صرف حکومتی کرسی پر بیٹھ کر ہو سکتی ہے_ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں حکومتی کرسی کا ایک اپنا ہی مزہ ہے_
ایران کے صدر ابراہیم ریئسی پاکستان کے تین روزہ دورے پر پاکستان آئے_ پاکستان نے ان کے شاندار استقبال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی صدر ایران خود اپنے استقبال سے بے حد متاثر ہوئے ہیں_ بھارت کے علم میں ہے کہ پاکستان اور ایران میں برادرانہ مراسم ہیں جو ماضی میں ہر آزمائش پر پورے اُترے ہیں_ بھارت ہمیشہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں رخنہ ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا_ کچھ عرصہ قبل چین نے گوادر کو انٹر نیشنل بندرگاہ بنانے کے لئے اقدامات کئے تو بھارت کی چھاتی پر سانپ لوٹ گیا اُس نے ایران سے ہمدردی جتاتے ہوئے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کو جدید بندرگاہ بنانے کے لئے ترقیاتی منصوبے اور اقدامات شروع کر دئیے_ بھارت نے انجینئروں، ٹیکنیشنوں اور کارکنوں کے بھیس میں را کے ایجنٹوں اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی چاہ بہار پہنچا دیا_ بلوچستان پاکستان سے فرار ہو کر ایران میں پناہ لینے والے علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے ان بھارتی تربیت یافتہ دہشت گردوں سے رابطے قائم کر لئے بھارتی تربیت یافتہ دہشت گردوں نے پاکستان کے ان گمراہ افراد کو دہشت گردی کی تربیت دی اور پھر انہیں گولہ بارود اور دہشت گردی کا مواد دے کر بلوچستان بھیجنا شروع کر دیا ان گمراہ بلوچوں نے بھارتی دہشتگردوں سے مل کر بلوچستان کے مختلف شہروں، کراچی اور دوسرے علاقوں میں دہشت گردی کی وارداتیں شروع کردیں_ بھارتی دہشت گردوں نے ان گمراہ بلوچوں کی مدد سے بلوچستان میں اپنے خفیہ اڈے بھی قائم کر لئے اب را کے ایجنٹ اور دہشت گردوں نے بھی ان خفیہ اڈوں میں رہ کر دہشت گردی کی وارداتیں شروع کر دیں_ بھارتی جاسوس کلبھوشن اس کا ثبوت ہے_ بھارت نے بلوچستان سے فرار ہو کر ایران میں پناہ لینے والے بلوچوں کے ذریعے ایران سے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر دیں_ حتیٰ کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں پاکستان اور ایران کی سرحدی سیکورٹی فورسز آمنے سامنے آگئیں_ تاہم دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی مصالحانہ کوششوں سے معاملہ سلجھ گیا اور بھارتی منصوبہ جو پاکستان اور ایران میں نفاق پیدا کرنے کا تھا خاک میں مل گیا_
ایرانی صدر کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان کی حکومت ایرانی صدر اور اُن کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد کو بھارت کے اکھنڈ بھارت کے مزموم منصوبے کے بھیس میں بھارت کا شیطانی چہرہ دکھا سکتی تھی_ پاکستان ایرانی صدر کو بھارت کی اسلام دشمنی سے بھی آگاہ کر سکتی تھی آج کل بھارت کے راہنما کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ بھارت میں مسلمان اور ہندو ایک دوسرے کے سامنے آنے والے ہیں اُن میں ٹاکرہ ہونے والا ہے_ بھارت کے کئی صوبوں اور شہروں میں تو ہندو مسلم فسادات ہو بھی چکے ہیں جن میں بھارتی فوج اور پولیس ہندو فسادیوں کی امدادی جماعت کے طور پر تھی ان فسادات میں درجنوں مسلمان مارے گئے اور اَن کی جائدادوں کو نزر آتش کر دیا گیا_ پاکستان نے اس بھارتی ظلم و ستم کو مناسب طریقے سے عالمی سطح پر نہیں اٹھایا_ جبکہ پاکستان کا سفارتی محاذ بھی کمزور رہا_ بھارت پاکستانیوں کے خون کا پیاسا ہے جبکہ ہمارے وزیر خارجہ کو بھارت سے تجارت شروع  کرنے کی فکر کھائے جارہی ہے_

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button