کالم

تحریر : بشریٰ اظہر

شعور
آج کے دور میں ہر شخص اپنے اپنے مقام پر جنگ لڑ رہا ہے وہ جنگ خواہ اپنے آپ سے ہو حالات سے ہو بیماری سے ہو لڑ ضرور رہا ہے اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں اکثریت لوگوں کی ایک دوسرے سے بدزنی اور دلی اور ذہنی بے سکونی کا شکار ہو رہے ہیں حالانکہ یہ جنگ تو انسان ازل سے لڑتا آ رہا ہے اور ابد تک لڑتا رہے گا اس جنگ کو کون ہے جس کو یہ شعور ہوتا یا اس کو دیا جاتا کہ کتنے مضبوط اعصاب کا مالک اور یہ مشکل خیر کے لیے آئی ہے
مشکلات سے ہر کوئی لڑ تو رہا ہے لیکن بہت پریشانی اور بد دلی کے ساتھ کیونکہ آج کے دور میں کوئی رشتہ خواہ وہ والدین ہوں دوست ہوں یا اساتذہ کوئی یہ شعور نہیں دیتا کہ یہ مشکل وقت ہی آپ کے اندر چھپی قابلیت کو نکالنے کے لیے آیا ہے اپ کو کچھ سکھانے اور آپ کو مضبوط کرنے کے لیے آیا ہے چونکہ یہ شعور نہیں ہوتا تو آج کے دور کا انسان اپنے ارد گرد کے لوگوں سے ناراض حتی کہ نئی نسل میں ذہنی اور دلی بے سکونی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ خودکشی اور پاگل پن کے بہت زیادہ واقعات سامنے نے آرہے ہیں آپ خود نوٹ کر لیں آج کل ایک طالب علم علم حاصل کرتا ہے اور نتیجہ میں اس کو شاندار ملازمت جو وہ چاہ رہا ہوتا ہے نہیں ملتی تو اب وہ بہت پریشان ہوتا ہے اور جب وہ اس کو حاصل کرنے کے لیے وہ کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو معاشرے کا مظلوم ترین شخص سمجھتا ہے اور اسی طرح ہر کوئی حتی کہ گھریلو خواتین بھی ان کو گھریلو ذمہ داری نبھانے میں مشکل آتی ہے تو وہ اس قدر پریشان ہو جاتی ہیں حالانکہ یہ تو سسٹم کا اور کائنات کا حصہ ہے
اس کا حل یہ شعور دیتا ہے کہ ہر پریشانی آسانی کے لیے آتی ہے اور جو خیر آپ کے لیے اندر ہوتی ہے اس کو باہر نکالنے کے لیے آتی ہے اسی کا نام زندگی ہے اور خاص طور پر مسلمان ہونے کے ناطے(ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے)اس پر ایمان ہونا چاہیے
تو آئیے آج سے ایک سے ادنیٰ کوشش کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کو یہ شعور دینے کی یہ مشکل یہ جنگ کبھی ہمیشہ نہیں رہے گی اس کے ساتھ آسانی آتی ہے اور آکر رہے گی کیونکہ مشکل وقت تلخ ضرور ہوتا ہے لیکن یہی کڑوا وقت بہت سکھ بھی لے کر آتا ہے الحمدللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button