کالم

عصر حاضر میں طلباء کی ذمہ داریاں

تحریر : محمد اشتیاق قادری

عصرحاضر میں طلباء وطالبات کی ذمہ داریوں کو بیان کرنے کے لیےضروری ہے کہ ہم اس بات کو دل و دماغ اور عقل و شعور کے دریچے کھول کر سوچیں کہ طلباء و طالبات پر جوذ مہ داریاں عائد ہوتی ہیں کیاوه اس سے عہدہ برآ ہونے کو لازمی خیال کرتے
ہیں یا نہیں ؟ اور ان فرائض سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں ؟
بچے قوم کے معمار ہیں، یہ ایک مشہور مقولہ ہے جس کی گردان ہم دن میں ہزار بار کرتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ یہ مقولہ ہم سے کس چیز کا متقاضی ہے؟ یقینا ً ان باتوں کو فضول اور لغوجان کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
طلباء پر عائد ذمہ داریوں میں ملک وملت کے لیے کچھ کر گزرنے کا عزم مصمم بھی شامل ہے۔ طلباء کا فرض بنتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ملک سے خود پیار کریں بلکہ دوسروں پر بھی یہ بات عیاں کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں کہ یہ وطن ہمارے آباء نے کتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ۔ اگر ہم تحریک پاکستان کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ تحریک پاکستان میں بھی طلباء ہی ہر اول دستے کے طور پر کام کرتے رہے۔ اور اب تعمیر پاکستان کے لیے بھی قوم طلباء کی منتظر ہے۔
؎ تعمیر وطن کے لیے سر جوڑ کے نکلو
تخریب کے ہر پہلو سے منہ موڑ کے نکلو
لیکن آج ہماری قوم کے معمار جس ڈگر پر چل نکلے ہیں وہ یقینا ان کو تباہی کی طرف لے جائے گی ۔ طلباء و طالبات اغیار کے رسم و رواج کو اپنانے کو اچھا خیال کرنے لگے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر اور سوچ کا زاویہ تبدیل ہو چکا ہے۔ وہ اسلام جیسے دین فطرت اور مکمل ضابطہ حیات کو چھوڑ کر مغرب کی کھو کھلی تہذیب کی رنگینیوں میں محو ہیں۔
؎ مانگتے پھرتے ہیں اغیار سے مٹی کے چراغ
گھر کے خورشید پر ڈال دیئے سائے ہم نے
آج طلباء اپنی ذمہ داریوں کو بھلا چکے ہیں وہ اساتذہ کرام کے ادب واحترام کو پس پشت ڈال چکے ہیں اور با ادب با نصیب کا کلیہ بھلا بیٹھے ہیں ۔ آج کا طالبعلم یقینا اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہے۔ وہ کامیابی تو چاہتا ہے لیکن کامیابی کے حصول کے لیے راہنماؤں یعنی اپنے اساتذہ کے احکامات کو پس پشت ڈال چکا ہے جوکہ کامیابی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔
؎ شب ظلمت میں تنہا نکلو یا پھر اس کے ساتھ چلو
جس کی ٹھو کر راہ نکالے راہ میں ٹھو کر کھائے کم یقینا اس شعر میں شاعر کا اشارہ اساتذہ کرام ہی کی طرف ہے۔ آج کا طالبعلم راہِ طلبِ علم و ہنر میں موجود مشکلات سے پریشان تو ہو جاتا ہے، لیکن اسے یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے۔
؎ جو چلتے ہیں انھیں کو راہ میں ٹھو کر بھی لگتی ہے
یہ ٹھو کر کھا کے خوش قسمت سنبھل جایا ہی کرتے ہیں
راہ ِطلب اور راہِ وفا میں مشکلات ضرور ہیں لیکن یہ مشکلات ان کامیابیوں کے نتیجے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں جو ان کامقابلہ جوانمردی اور ہمت سے کرنے پر حاصل ہوتی ہیں ۔
؎ راہ وفا میں ہر سو کانٹے
دھوپ زیادہ سائے کم
لیکن اس پر چلنے والے
خوش ہی رہے پچھتائے کم
آج اس بات کا پختہ عزم کرنے کی ضرورت ہے کہ طلباء و طالبات اپنی ذمہ داریوں کو، جو کہ ملک وملت کی ترقی اور اساتذہ کے ادب و احترام کے حوالے سے ان پر عائد ہوتی ہیں ،نبھانے کی کوشش کریں۔ محنت و سعی ، اساتذہ کرام کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل پیرا ہو کر اور اپنے بزرگوں کی دعاؤں سے اس ملک کو وہ بلندی عطا کریں کہ فلک بھی اس کی بلندی و عروج پر رشک کرے۔
؎ ہم اپنے خون سے صحرا میں گل کھلا دیں گے
چمن میں کون بہاروں کا انتظار کرے
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو اس قابل بنائے کہ وہ اپنے ملک وقوم اور اساتذہ کے نام کو روشن کر سکیں۔ آمین!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button