پاکستانسٹی

معاشرہ میں خود احتسابی کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت

نیب نے اب تک 900 ارب روپے ریکوری کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں

سرکاری محکموں کے مالی معملات ڈیل کرنے والے افسران،ملازمین متعلقہ قوانین کی تربیت ضرور حاصل کریں.کرپشن کے خلاف طویل جد وجہد کرنا ہوگی، قومی احتساب بیورو کی کارکردگی بہت اچھی ہے : آئی پی ایچ میں احتساب بارے آگاہی سیمینار

لاہور (خبرنگار)مالی بد عنوانی اور کرپشن کے خاتمہ کیلئے قانون احتساب پر جہاں عملدرآمد لازمی ہے وہاں معاشرہ میں خود احتسابی کے کلچر کو پروان چڑھانا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگوں میں حلال و حرام اور اچھے برے کا احساس پیدا ہو اور ایک مہذب معاشرہ تشکیل پا سکے. کرپشن کے خاتمہ کیلئے نقد اکانومی ختم کر کے تمام سسٹم کو degitalized کرنے کی ضرورت تاکہ ہر قسم کا لین دین ٹرانسپرنٹ طریقہ سے ہو اور کرپشن کا امکان نہ رہے۔
ان خیالات کا اظہارسابق گورنر پنجاب، چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اور سابق چیئرمین قومی احتساب بیورو لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائر) خالد مقبول نے آئی پی ایچ میں قومی احتساب بیورو پنجاب کے زیر اہتمام احتساب بارے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے ڈائریکٹر عمران سہیل، ایڈیشنل ڈائریکٹر عمر رندھاوا،ڈپٹی ڈائریکٹر محمّد ساجد،ڈین آئی پی ایچ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے خطاب کیاجبکہ سیمینار میں محکمہ صحت کے افسران، ملازمین اور انسٹیٹیوٹ کے سٹاف نے شرکت کی۔انکا کہنا تھا کہ دین اسلام سمیت تمام مذاہب دیانت داری اور راستبازی کا درس دیتے ہیں لہٰذا یہ مذہبی سکالرز اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ کرپشن و بدعنوانی سے پاک ایک آئیڈیل معاشرہ قائم کرنے کیلئے لوگوں کے اندر خود احتسابی کے احساس کو فروغ دیں تاکہ لوگوں میں ارتکاب جرم سے پہلے یہ سوچ فروغ پائے کہ اگر دنیا کے قانون سے بچ بھی گئے تو خدا کی عدالت میں جوابدہی سے نہیں بچ سکیں گے۔مقررین کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری محکموں کے وہ افسران اور ملازمین جو مالی معملات (financial matters), پرچیز،آڈٹ،ٹینڈرز کو ڈیل کرتے ہیں انھیں پیپرا قوانین اور نیب قوانین کے بارے تربیت ضرور حاصل کرنا چاہئے تاکہ مذکورہ معملات کو احسن طریقہ سے نمٹا سکیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر محمّد ساجد نے اپنی پریزنٹیشن میں نیب کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا نیب اب تک 900 ارب روپے کی ریکوری کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیںاور بڑے بڑے مالی سکینڈل پکڑے ہیں. لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر خالد مقبول نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشرہ میں بہت گراوٹ آئی ہے اور بد قسمتی سے آج مالدار کرپٹ آدمی کو عزت سے دیکھا جاتا ہے انہوں نے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو سربہاتے ہوئے کہا کہ نیب نے بڑی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں کرپشن کے خاتمہ کیلئے ملکر نیب کا ساتھ دینا ہوگا. ڈین آئی پی ایچ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں اکنامک ہیلتھ بھی پبلک ہیلتھ کا ہی حصہ ہے کیونکہ اگر معیشت کی حالت خراب ہو تو بیمار معیشت براہ راست پبلک ہیلتھ پر اثر انداز ھوتی ہے،اگر ملک کے معاشی حالات خراب ہوں تو ہیلتھ سیکٹر کیلئے بھی فنڈز کی دستیابی مسلہ بنجاتی ہے لہٰذا معاشی صحت کو بہتر بنانے کیلئے کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ ضروری ہے ڈاکٹر زرفشاں نے مزید کہا کہ انسٹیٹیوٹ آفپبلک ہیلتھ صحت عامہ کو بہتر بنانے کی بلواسطہ یا بلاواسطہ،ہر کوشش کا ساتھ دیگا اور انسٹیٹیوٹ کا پلیٹ فارم کرپشن کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے، سیمینار ز کے انعقاد اور ٹریننگ ورکشاپس کیلئے اپنی خدمات فراہم کرتا رہے گا. سیمینار کے اختتام پر کرپشن کے خلاف آگاہی واک بھی منعقد کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button