
ہوسٹنگ بزنس نیٹ 2024 کے تیسرے ایڈیشن سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ مالیاتی شمولیت عوام کی سیاسی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔
صدر مملکت نے مینڈیٹ کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا ویب سائٹس کی بندش کی وجہ تنقید کا سامنا کرنے کیلئے فکری صلاحیت کی کمی ہے۔ افسوس ہے کہ قابل افراد کو سیاست سے نکالا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے مالیاتی شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے معاشرے کے محروم طبقات کو معیشت کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے پر زور دیا۔
صدر مملکت نے ملک میں سست فیصلہ سازی اور قیادت کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اچھی قیادت اور بروقت فیصلہ سازی کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ آبادی کے بڑے حصے کو تعلیم دینے کیلئے ہزاروں نئے اسکولوں اور اضافی وسائل درکار ہوں گے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ چین نے تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری سے اپنے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا، سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کیلئے ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جا سکتا تھا۔
ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کم ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے مسئلے پر قابو پا کر پاکستان غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم کر سکتا ہے، بینک خواتین کو آسان شرائط و ضوابط پر کاروباری قرضے فراہم کر رہے ہیں ۔







