
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا آرڈر کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ الیکشن ٹریبونل صنم جاوید کو سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔
فیصلے کے مطابق صنم جاوید کا شوہر سال 2023 کے اثاثہ جات نامساعد حالات کے باعث جمع نہیں کروا سکا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے آرڈر میں کہا ہے کہ صنم جاوید نے اپنے شناختی کارڈ کی واضح کاپی مہیا نہیں کی، اس بنا پر بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کاغذات مسترد نہیں کیے جا سکتے۔
اسی جیل میں قید عمر سرفراز چیمہ کے کاغذات نامزدگی پر اسی دن جیل حکام دستخط کرتے ہیں۔ یہ صنم جاوید کی غلطی نہیں، جیل حکام کی بدنیتی ہے۔ انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تاکہ صنم جاوید کے کاغذات منظور نہ ہو سکیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت پیشی کے موقع پر صنم جاوید نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا شکریہ کہ سینیٹ کے لیے نام دیا، ہمارے پاس اتنے نمبر نہیں ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی کا شکریہ۔
انہوں نے کہا کہ مریم بی بی اگر آپ اتنی دھاندلی کے بعد وزیراعلیٰ بن گئی ہو تو عوام کے لیے کام کریں۔ مریم بی بی نے تھیٹر شو کھولا ہوا ہوتا ہے۔







