پاکستانی ادب و ثقافت کا ایک بہت بڑا نام و روشن ستارہ۔۔جاوید شیدا سابقہ ڈائریکٹر پی ایچ اے لاھور

تحریر۔۔شہزاد بھٹہ
لاھور صدیوں سے ادب و ثقافت تہذیب وتمدن اور فنون لطیفہ کا گہوارہ رھا ھے جس نے تہذیب و تمدن کے مختلف ادوار دیکھے اسی وجہ سے لاھور کو زندہ دلان لوگوں کا شہر کہا جاتا ھے لاھور نے ھر شعبہ زندگی میں بڑے بڑے عظیم نام پیدا کئے ھیں جہنوں نے تاریخ میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ھے
انہی عظیم ناموں میں ایک بڑا نام جاوید شیدا ھے جہنوں نے سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنے ادبی سفر کا سلسلہ جاری رکھا
جاوید شیدا پاکستان کی بہت بڑی ادبی شخصیت اور قائد اعظم کے ساتھی ایم اے شیدا کے فرزند ھیں
ایم اے شیدا تحریک پاکستان کے نمایاں لیڈروں میں شمار ھوتے ھیں جن کا شمار قاہد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں ھوتا ھے ایم اے شیدا کا پاک وہند کے ایک انتہائی قابل قدر اور معتبر علمی ادبی خانوادے سے ھے
جاوید شیدا کے والد ایم اے شیدا کو تقسیم ہند سے پہلے ھی مجاھد پاکستان پکارا جاتا تھا
جاوید شیدا شروع سے ھی ادب و شاعری سے شغف رکھتے تھے اور پچپن سے اپنے والد گرامی کے دوستوں سید عبد المجید عدم، فیض احمد فیض ،احمد ندیم قاسمی، سید نقش ھاشمی، اختر رومانی۔ شاھد چاندی پوری، مینر نیازی ، سید وقار عظیم ،طفیل ھاشمی عبد الحمید کوثر اور سرور مجاز کی علمی و ادبی محفلوں سے فیض یاب ھوتے ھوئے خود ایک اعلی مقام پر فائز ہوگئے
جاوید شیدا نے کچھ عرصہ پہلے اپنے دیرینہ دوست شہزاد بھٹہ سے ملاقات کی اور اس موقع مختلف امور پر گفتگو ھوئی اور جاوید شیدا نے شہزاد بھٹہ کو اپنی تحریر کردہ اردو غزلیات پر مشتمل خوبصورت کتب دشت شب اور رقص آگہی پرخلوص جذبات کے ساتھ پیش خدمت کئیں
جاوید شیدا پاکستان کے زندہ جاوید شاعر اور دنیائے ادب کے روشن ستارہ ھیں جہنوں نے اپنی زندگی ادب کے لئے وقف کر رکھی ھے جاوید شیدا موجودہ دور کی ایک منفرد آواز و شاعر ھیں جاوید شیدا کو الفاظ کا گہرا شعور حاصل ھے
جاوید ایک شاعر کالم نگار ڈراما نگار تجزیہ نگار و محقیق غرض ادب کے تمام پہلو شیدا کی ذات میں پہناں ھیں
جاوید شیدا نامور ادیب / شاعر ھونے کے ساتھ ساتھ ایک ایماندار شفیق انتھک محنتی بیورو کریٹ بھی ھے جو ڈائریکٹر پی ایچ اے کی حیثیت سے لازوال خدمات سرانجام دینے کے بعد سرکاری ملازمت سے ریٹائرڈ ھوئے
جاوید شیدا نے بطور ڈائریکٹر پی ایچ اے باغوں کے شہر لاھور کو سنوارنے اور خوبصورت بنانے میں گراں قدر خدمات انجام دیں خاص طور پر بین الاقوامی جشن بہاراں و بسنت ایونٹ کی صورت میں ادب و ثقافت کی بے پناہ خدمات سر انجام دیں آپ جشن بہاراں کے بانیوں میں شمار ھوتے ھیں
قدرت نے جاوید شیدا کو ان گنت صلاحیتوں سے نوازا ھے جاوید شیدا ایک بہترین منتظم ھیں جہنوں نے لاھور شہر میں ھونے والی بے شمار شعر و ادب کی محفلوں میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض نبھاتے ہوئے نہایت پرلطف انداز و خوش اسلوبی سے نظامت کی زمہ داریاں بھی انجام دیں آپ لاھور شہر میں ھونے والے ھر ادبی محفل کی جان رھے ھیں سرکاری سطح پر ھونے والی مختلف تقریبات میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض بھی انجام دیتے رھے ھیں آپ کے پاس الفاظ کا ایک سمندر موجود ھے
جاوید شیدا ایک ایسا شاعر ھے جو افسروں کے درمیان شاعروں و ادیبوں کا حقیقی نمائندہ رھا آپ کی ادب کے فروغ کے لیے گراں قدر اور تاریخی خدمات ھیں ناصر باغ میں چوپال کا قیام، الحمرا ہال نمبر 3 کے نیچے ادبی بیٹھک کا قیام، پاک ٹی ہاؤس کی بحالی اور پنجابی انسٹیٹیوٹ آف کلچر اینڈ لٹریچر ( پلاک) کے قیام میں بھی جاوید کی کاوشیں شامل حال ھیں

جاوید شیدا کی پہلی کتاب 2012 میں شائع ھوئی جو ان کے حلقہ احباب کے لئے ایک خوش گوار حیرت کا باعث تھی آپ کی تصانیفِ میں دشت شب ( اردو غزلیات)، خاموش محبت ( افسانہ) ،گمان یقین ( اردو غزلیات), حقیقت لاھور ( تاریخ لاھور) ،قلم گرد، پیا ملن کی آس (ڈرامہ)، حرف شناس( منتخب کالم )، خاصاں دی گل ( مجموعہ نعت)، پانی وچ پتاسا( پنجابی کافیاں غزلاں)، رفوگر (افسانہ ) ، رقص اگہی( اردو غزلیات) مجاب( ناول ) ، سو فیصد سچ( ہوش ربا حقائق) اور چپ دا شور شامل ہیں
جاوید شیدا ایک عظیم شاعر و ادیب ھونے کے ساتھ انسان دوست شخصیت کے مالک ھیں جہنوں نے ادب کے ساتھ ملکی اداروں کے لیے لاتعداد کارنامے انجام دیئے ھیں آپ کے کریڈٹ میں بے شمار کامیابیاں ھیں مگر افسوس حکومتی سطح پر آج تک جاوید شیدا کی خدمات کو فراموش کیا گیا ھے
شیدا آج کل لاھور کے ادبی حلقوں کے رویوں سے کچھ خائف رہتے ھیں جو ان کو یکسر بھول گئے ہیں
حکومت پاکستان و پنجاب سے مطالبہ ھے کہ جاوید شیدا کی ادبی ثقافتی علمی خدمات خاص طور پر بین الاقوامی جشن بہاراں و بسنت بہاراں کو اعلی پیمانے پر آرگنائزر کرنے پر ان کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ھوئے قومی صدارتی ایوارڈ دیا جائے







