کالم

قانون دان اورمیدان سیاست

انووک/ثناءآغاخان

پاکستان میں ہر دور میں انتخابات سے قبل وفا نہ ہونیوالے وعدے اور عوام کوبیوقوف بنانیوالے بلندبانگ دعوے معمول کی بات ہے لہٰذاءیہ پرانا سکرپٹ اب مزید نہیں چلے گا۔ ہم نے حکومت کو ریاست سے مطابقت دے دی ہے،عوام نے حکومت کو ریاست مان لیاجودرست نہیں ۔عدلیہ اس سے اوپر بیٹھ گئی اور مقتدر حلقے اس سے بھی اوپر چلے گئے ہیں۔ ہم نے ریاست کو کباڑ خانے میں پھینک دیا ،پاکستان کے دو تہائی شہری ریاست کی سہولیات سے محروم ہیں۔موجودہ حکومت سے میرا سوال ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا سو موٹو کااختیاراب کہاں گیا،اگر انصاف کی فراہمی کی نیت سے سوموٹولیاجائے تواس میں کوئی قباحت نہیں۔ کیا اس سے پہلے کسی حکمران نے اسٹیبلشمنٹ کےخلاف جارحانہ رویہ اختیارنہیں کیا ،تندوتیز بیانات نہیں دیے۔شومئی قسمت عدالت عظمیٰ پرحملے میں ملوث حکمران جناح ہاﺅس پرحملے کے ملزمان کا محاسبہ کررہے ہیں ۔ کیاماضی میں ان نادانوں کی مہم جوئی کے نتیجہ میںہماری پاک فوج کمزور ہو ئی،ہرگز نہیں ہوئی ۔ پاکستان کے عوام یہ چاہتے ہیں کہ ہماری آرمی مزید مضبوط ہو مگر پاکستان میں یہ کھیل تماشا دوسرا رخ اختیار کرتاجارہا ہے۔ حکمرانوں پرتعمیری تنقیداورانہیں آئینہ دکھانے کی پاداش میں باضمیر صحافیوں کے گھروں پر فائرنگ، زبان بندی کی دھمکیاں، یہاں تک کہ ان کے عزیز و اقارب کو بھی ڈرایادھمکایا جاتاہے۔ اس سب کے بعد بھی جب قلم خاموش نہیں ہوئے ،زبانیں گنگ نہیں ہوئیں تو انہوں نے اپنی توپوں کا رخ قانون دانوں کی طرف موڑدیا کیونکہ ارباب اقتدارواختیار جانتے ہیں یہاں قانون مقدم نہیں۔وکلاءبرادری کی حکومت کیخلاف ممکنہ احتجاجی تحریک بلڈوز کرنے کیلئے انہیں تقسیم کردیا گیا۔پنجاب کے سابق گورنر اورعدالت عظمیٰ کے سینئر ترین قانون دان سردار لطیف کھوسہ کی رہائشگاہ پرحالیہ فائرنگ اورانہیں پیپلزپارٹی سے نکالنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔
زندگی، موت، رزق اورعزت وذلت بیشک اللہ کے ہاتھ میں ہے لہٰذاءدوسروں کی عزت کے ساتھ کھیلنا بندکردیاجائے۔ قانون نافذ کرنے والے طاقتور افراد پر حملہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ کرنے والے لوگ قانون کی دھجیاں بھی اڑا سکتے ہیں۔جس طرح میں نے اوپر لکھا کہ چند دن پہلے سردار لطیف کھوسہ کے گھر پرشدید فائرنگ کی گئی اور ان کے صاحبزداے پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ کہاں ہے قانون نافذ کرنےوالے ادارے؟ کیا ایک سینئر ترین سیاستدان اورقانون دان کا گھر جناح ہاﺅس کی طرح مقدم نہیں۔کیا ہم سب صحافیوں کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کاخیال رکھنا اوراس کی حفاظت یقینی بنانا ہمارے ریاستی اداروں کافرض منصبی نہیں ۔جس طرح لاہورکے کورکمانڈر ہاو¿س میں توڑ پھوڑ اورجی ایچ کیو کے باہرجلاﺅگھیراﺅ ہرگز قابل برداشت نہیں اس طرح عام شہریوں کی چادراورچاردیواری کوروندنا بھی ناقابل معافی اقدام ہے۔
کیا سانحہ 9 مئی کے نیچے ہم نے تمام آئین دفن کر دینا ہیں،کیا انسانوں کے بنیادی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں۔ کیا کروڑوںشہریوں بنیادی حقوق کوسلب کرلیاگیا ہے ۔ پاکستان جنگل کے قانون کامتحمل نہیں ہے۔ کلمہ حق بلند کرنے پر آج سردار لطیف کھوسہ کاپیپلزپارٹی کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی اورنظریاتی رشتہ ختم کردیا گیا،ہوسکتا ہے ممتازقانون دان چوہدری اعتزازاحسن کوبھی حق گوئی کی سزاکے طورپر پیپلزپارٹی سے نکال باہرکیاجائے ،میں سمجھتی ہوں سردارلطیف کھوسہ اورچوہدری اعتزازاحسن دونوں پیپلزپارٹی کی ضرورت تھے انہیں سیاست میں اپناوجود برقراررکھنے کیلئے ہرگز پیپلزپارٹی کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہے ۔اس طرح کے قدآوراورباکردارسیاستدانوں کا پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری یاشریک چیئرمین آصف زرداری کے پیچھے کھڑے ہونا اچھا نہیں لگتا ۔
مبینہ طورپررجیم چینج کے ایک سال کے دوران حق سچ اور آئین و قانون کی بات کرنے پر یہاں کسی بھی شخص کوارشد شریف کی طرح موت کے گھاٹ اتاراجاسکتا ہے یاعمران ریاض خان کی طرح غائب کیاجاسکتا ہے۔پاکستان کے سینئر سیاستدان اورقانون دان سردارلطیف کھوسہ کے گھر پر فائرنگ کاواقعہ یقینا وکلاءبرادری کیلئے ایک پیغام ہے۔ شرپسند عناصر نے تمام کارکنان کو تو ڈرا دھمکا کر ایک طرف بیٹھا دیا اب باری ہے قانون کے علمبردار ایڈووکیٹ حضرات کی۔ پاکستان میں ایسے بہت سے نام نہاد گلو بٹ دندناتے پھرتے ہیں جو نہ توآئین کی پاسداری کرتے ہیں اوران کے نزدیک انسانیت کی کوئی قعت ہے۔ میں سوچتی ہوں فوجی ڈکٹیٹر پرویزمشرف اپنے آمرانہ ہتھکنڈوں کے باوجودوکلاءکو خوفزدہ کرنے میں ناکام رہا تو فوجی آمر ضیاءالحق کی باقیات بھی قانون دانوں کوزندانوں سے نہیں ڈراسکتی ۔ پاکستان میں آئین کی سپرمیسی اورقانون کی حاکمیت کیلئے قانون دان عنقریب میدان سیاست میں ضرور اتریں گے اوران کی بھرپور مزاحمت سے اشرافیہ کی آمریت کاپہاڑ ریت کی دیوارکی مانند ریزہ ریزہ ہوجائے گا ۔جمہوریت پسند،قانون پسند اورآزادی پسند چاہے جس جماعت میں بھی ہوں ان کی ترجیحات میںجمہوریت ہمیشہ سرفہرست ہوتی ہے اور جمہوریت کی بقاءکی جدوجہد وہ اپنے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر کرتے ہیں اوران کے دم سے صبح آزادی کی امید قائم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button