انسانیت شرم کے مارے ڈوب گیئ ہے

کامریڈ محمد علی
بلکہ انسانیت نام کی یہاں کوئ بلا موجود ہی نھیں رہی۔ہر طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔نہ کوئ گھر محفوظ ہے نہ شہر نہ گاؤں نہ بارڈر نہ ساحل پر ہر سو موت رقصاں ہے۔ کہیں جہالت تو کہیں غربت کے ہاتھوں لوگ مر رہے ہیں۔ حال ہی میں پنجاب ،آذاد کشمیر کے سینکڑوں نوجوان سمندر میں ڈوب گئیے جو بدقسمت رزق کی تلاش میں دیار غیر جا رہے تھے۔
زمینی بارڈر ہوں یا سمندری ساحل کوئ پوچھنے والا نھیں ہے۔ہر جگہ رشوت خوری اور غیر ذمہ داری کا چلن ہے۔
کراچی سمیت ملک بھرمیں 1975 سے ملیں ،کارخانے بند پڑے ہیں جو آج تک چلاے نھیں گیئے۔ بیروزگاری و مہنگائ و لاقانونیت کا اک طوفان بدتمیزی ہے۔جو ملیں چالو ہیں وہاں لیبر لاز پہ عملدرامد نھیں کروایا جارہا مل مالک پرائیویٹ غنڈوں کی مدد سے مزدوروں پہ تشدد کرتے ہیں غنڈہ گردی کرتے ہیں۔لیبر ڈیپارٹمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ،،ستو پی کر،، سوۓ ہوے ہیں۔جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان زندگی داؤ پہ لگا کر ڈنکی لگانے پہ مجبور ہیں۔مہنگائ آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔جب تک ہمارے محنت کش منظم نھیں ہوں گے جب تک اسمبلی میں نھیں جایئں گے متحد نھیں ہوں گے ہمارے مسئلے حل نھیں ہوں گے۔مزدوروں کی کمزوری اور تتربتر ہونے کی وجہ سے سرمایہ داروں کے حوصلے بڑھ گیئے ہیں وہ ننگے تشدد پہ اتر آے ہیں۔ابھی کل ہی الکرم ٹیکسٹائل کے سیکیورٹی افسر نے جس طرح محنت کشوں پہ تشدد کیا مہذب دنیا میں اس لاقانونیت کا تصور بھی نھیں کیا جا سکتا جب کہ یہاں ان ظالموں کا ہاتھ روکنے والا کوئ نھیں۔یہ حاکم جو پیٹرول چالیس روپے پہ لانے کے دعوے کر رہے تھے روسی پیٹرول بھی آ گیا مگر ریٹ کیوں کم نھیں ہوا؟مزدور اگر اپنا حق مانگنے جاے تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا یے۔سیاست چوں چوں کا مربہ بنی ہوئی ہے جب تک سنگل پارٹی اقتدار قائم نھیں ہو گا مسئلے حل نھیں ہو سکتے۔جب تک حکمرانی اور انتخاب شفاف نھیں ہوں گے ۔جعلی کھانے ملاوٹ والی اشیا،رشوت کرپشن کا دور دورہ ہے سینیٹرز کو بیک جمبش کتنی مرعات بخش دی گیئ ہیں کیونکہ کوئ پوچھنے والا نھیں ہے جب تک مزدور خود آواز بلند نھیں کریں گے ان ستمگر سرمایہ داروں کو شرم نھیں اے گی۔انسانیت تو مر گیئ ہے۔ حوس ،منافع پرستی و خود غرضی ہر طرف ناچتی ہےیہ ظلم و ستم مردہ باد ۔پاکستان پایئندہ باد ۔ہم پاکستان کے محافظ ہیں۔
پاکستان ہے تو ہم ہیں پاکستان نھیں تو ہم نھیں ہیں۔ہم نے پاکستان اس لیئے حاصل نھیں کیا تھا۔بڑی قربانیوں سے پاکستان ہمیں ملا ہے مگر اس پہ چور لٹیروں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ غریب کا بچہ ورکشاپ میں ہو اور سرمایہ دار کا بچہ بہترین تعلیم حاصل کرتا ہے۔غریب کے بچے بغیر دوا دارو کے مرتے ہیں گندہ پانی پیتے ہیں جب کہ امیر کے بچے منرل واٹر پیتے ہیں۔ اب ایسا نھیں چلے گا ہمیں متحد ہونا ہو گا ہمیں کالے قوانین کے خاتمے کی جدوجھد کرنا ہو گی۔







