حج مشکل عبادت، پاکستانیوں کیلئے مشکل تر

تحریر: انور خان لودھی
حج مشکل عبادت یے، گھر بار چھوڑنا، خطیر رقم خرچ کرنا، سفر وحضر کی صعوبتیں برداشت کرنا اس کا حصہ ہے۔ عبادت مشکل ہے تو یقیناً اجر بھی بڑا ہوگا۔ یہ مشکل عبادت پاکستانیوں کیلئے مشکل تر جوں بن گئی؟ کرونا نے جہاں دنیا بھر میں تباہی پھیلائی وہاں اہل اسلام کے تین حج بھی کھا گیا۔ 2020 اور 2021 میں صرف چند ہزار مقامی افراد نے حج کیا اور 2022 میں جب کرونا کی پابندیاں قدرے نرم ہوئیں تو حجاج کی تعداد ایک ملین سے کم رہی۔ رواں سال حجاج کی اصل تعداد بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کو بھرپور کوٹہ الاٹ ہوا لیکن افراط زر سے عوام کی قوت خرید کم ہو کر رہ گئی ہے جس کا اثر حج کا ارادہ کرنے والوں پہ بھی ہوا۔ گذشتہ برس جو حج سات ساڑھے سات لاکھ میں ممکن تھا اس سال پونے بارہ لاکھ کا پیش کیا گیا۔ عوام کو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں چنانچہ حج کیلئے درخواستیں کم آئیں۔ کوئی قرعہ اندازی نہ ہوئی۔ سب درخواستیں قبول اور پہلی بار ایسا ہوا کہ پاکستان نے سعودی عرب کو حج کا کوٹہ واپس کیا۔ 2023 میں بھی پاکستان کے لیے مقرر کردہ حج کوٹے کے تحت دستیاب نشستیں زیادہ تھیں مگر درخواست دینے والے امیدوار کم رہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے سرکاری حج سکیم کے لیے قرعہ اندازی کیے بغیر تمام امیدواروں کو جانے کا موقع دیا۔ حکومت نے سپانسرشپ سکیم کا کوٹا بھی بڑھایا تھا جس کے ذریعے اوورسیز پاکستانی یا ان کے رشتہ دار ڈالرز میں ادائیگی کر کے حج پر جا سکتے تھے، مگر اندازوں کے برعکس زیادہ لوگوں نے اس کوٹے کے تحت بھی درخواستیں جمع نہیں کروائیں۔ درخواستوں میں کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حج پر اٹھنے والے اخراجات میں بےتحاشہ اضافے کے بعد اب پاکستانیوں کی اکثریت اس مذہبی فریضے کے لیے رقم کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتی۔ وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ سرکاری حج کی قیمت میں اضافے کی وجہ جہاں عالمی سطح پر مہنگائی سے سعودی عرب میں سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ ہے وہیں 2022 کی نسبت امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا بھی اس میں اہم کردار ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ‘تین بڑے خرچے ہیں جن کے باعث حج مہنگا ہے جن میں 20 فیصد خرچ فضائی ٹکٹ کا ہے، اس کے علاوہ وہ ضروری اخراجات ہیں جو پانچ دن کے وہاں مکاتب اور مشائر کے ادا کرنا ہوتے ہیں اور تیسرا بڑا خرچ 40 دن کی رہائش اور کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات ہیں۔ سرکاری حج کے اکانومی پیکج کی قیمت پاکستان کے شمالی علاقوں کے لیے 11 لاکھ 75 ہزار جبکہ جنوب میں واقع علاقوں سے 11 لاکھ 65 ہزار روپے لئے گئے ہیں۔ پاکستان کے ایک لاکھ 79 ہزار 210 کوٹے کا لگ بھگ آدھا سرکاری سکیم میں ہے اور آدھا پرائیوٹ ٹور آپریٹرز کے حوالے ہے۔ اس نجی کمپینوں کی تعداد قریباً 800 کمپنیاں ہیں جو جج کے دس سے بارہ مختلف پیکجز آفر کر رہی ہیں۔ مہنگائی نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد عازمین کو مکہ اور مدینہ میں سنبھالنا یقیناً ایک چیلنج ہوتا ہے۔ وزارت حج پاکستان نے ہر سال کی طرح یہ چیلنج قبول کیا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عازمین حج کی رہائش، خوراک، علاج معالجے، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات کو بخوبی پورا کرنے کیلئے ایک جامع اور مربوط نظام کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں پاکستانی حج حکام کامیاب رہے ہیں۔ معمولی شکایات سامنے ضرور آئیں لیکن سب جو راضی رکھنا کسی بھی ٹیم کیلئے ممکن نہیں ہوتا۔ حج پروازیں شروع ہونے سے قبل ہی پاکستان سے حج مشن کے دستے سعودی عرب پہنچے اور پاکستانی عازمین کیلئے انتظامات کو حتمی شکل دی۔ مشن میں معاونین، طبی ماہرین اور وزارت حج کے ارکان شامل تھے۔ 21 مئی سے حج پروازیں شروع ہوئیں۔ پاکستان سے آنے والے عازمین حج کا قافلہ شہر نبی ﷺ مدینہ منورہ پہنچا تو ان کا استقبال پاکستان حج مشن اور سعودی وزارت حج نے کیا۔ عازمین کو کھجور، قہوہ اور گلدستے پیش کئے گئے۔ وزارت اسلامی کی جانب سے اسلامی کتابوں کے تحفے بھی دیے گئے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل حج جدہ عبد الوہاب سومرو نے کہا کہ عازمین حج کیلئے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی حکومت کی جانب سے تمام انتظامات مکمل ہیں۔ انہوں نے حجاج سے کہا ہے کہ وہ اپنا وقت حج کے ارکان ادا کرنے اور توبہ استغفار میں گزا ریں ، انہیں مملکت کے قوانین اور اسلامی آداب کا ہر طرح احترام کرنا ہے انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہہے کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے اور اس میں حج کو کسی طرح بھی سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ، ہمیں مملکت کے امن اور خادم الحرمین شریفین کی ہدایات پر پوری طرح عمل پیرا ہونا ہے۔ سعودی وزارت حج کے قواعد کے مطابق امسال بھی حکومتی سکیم کے تحت آنے والے عازمین کو دوران حج 3 وقت کا کھانا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں فراہم کیا جا رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل حج کا کہنا تھا کہ امسال مدینہ منورہ میں سرکاری حج سکیم کے تحت آنے والے تمام عازمین کو مسجد نبو ی شریف سے ملحق عمارتوں میں ٹھہرانے کا بندوبست کیا گیا ہے جبکہ مکہ مکرمہ میں العزیزیہ اور بطحا القریش میں عمارتیں حاصل کی گئی ہیں۔ مکہ مکرمہ میں عازمین کی حرم شریف آمد ورفت کیلئے ٹرانسپورٹ کمپنی سے معاہدےکیے گیے ہیں ۔ ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کرنے والے ادارے کو اس امر کا پابند بنایا گیا ہے کہ عازمین کیلئے جدید بسیں فراہم کی جائیں تاکہ انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ مکہ مکرمہ میں عازمین کو ٹرانسپورٹ کی سہولت 24 گھنٹے فراہم کی جا رہی ہے جس کے لئے خصوصی عملے کی ذمہ داریاں بھی لگائی گئی ہیں جو اس امر کو ہر طرح سے یقینی بنائیں گے۔ تجربات کی روشنی میں امسال جدہ حج ٹرمنل اور مدینہ منورہ ائیر پورٹ پر سعودی انتظامات کی وجہ سے عازمین کو کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑا ۔ امسال عازمین کے سامان کے حوالے سے مکتب الوکلاءنے ذمہ داری لی ہے کہ وہ سامان وصول کریں تاکہ عازمین کو کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہ ہو۔ حج مشن کے اہلکاروں نے مشاعر مقدسہ ٹرین سے استفادہ کرنے کا اہتمام کیا۔ اکثر پاکستانیوں کو منیٰ میں ایسے سیکٹر الاٹ کئے گئے جو حرمین ٹرین کے سٹیشن کے پاس ہوں تاکہ عرفات اور مزدلفہ آنا جانا آسان ہو۔ ٹرین کی رسائی نہ رکھنے والے عازمین کیلئے بسوں کا اہتمام کیا گیا۔ بطحا قریش اور عزیزیہ میں پاکستانیوں کیلئے عمارات کرائے پر لینے میں اس بات جا خیال رکھا گیا کہ وہ بڑی سڑک پہ واقع ہوں تاکہ ان کو شٹل سروس بسوں سے استفادہ کرنے میں دقت نہ ہو۔ تمام عمارات میں روزانہ کی بنیاد پہ آب زم زم پیک بوتلوں میں فراہم کیا جا رہا ہے۔ ہر عازم حج کو وزارت حج کی طرف سے جائے نماز کا تحفہ دیا گیا ہے۔ حجاز مقدس میں جس قدر دھوپ اور گرمی ہے جائے نماز کے ساتھ ساتھ چھتری بھی تحفے میں دی جاتی تو اچھا ہوتا۔ حج مشن کا ایک شعبہ عازمین کے گم شدہ سامان کی شکایات دور کرنے کیلئے مختص ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں حجاج جدہ سے مکہ، مکہ سے مدینے، مدینے سے مکہ پہنچتے ہیں تو سامان گم ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ عزیزیہ میں پاکستانی مشن آفس کے افسر ناصر خان نیازی نے بتایا کہ گمشدہ سامان ریکور کرنے میں 99 فیصد کامیابی ملتی ہے۔ پاکستانی عازمین کو مکہ مکرمہ میں دو بسیں استعمال کرکے حرم شریف پہنچنا پڑتا ہے۔ عزیزیہ اور بطحا قریش سے پاکستانیوں کو پہلے کدئی اور اجیاد کے اڈوں تک پہنچایا جاتا ہے جہاں سے مکہ انتظامیہ کی اپنی بسیں انہیں حرم شریف کے قریب لے کر جاتی ہیں۔ اس عمل میں تاخیر اور مشکلات بڑھ جاتی ہیں تاہم پاکستانی حج مشن کا کہنا ہے کہ حرم کے نواح میں واقع ہوٹل چونکہ انتہائی مہنگے ہیں اس لئے پاکستانی عازمین کے حج بجٹ کو مناسب رکھنے کیلئے فاصلے پر رہائشیں لینا پڑتی ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی پرائیویٹ کمپنیاں بھی مکھی پہ مکھی مار رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب یہ کمپنیاں سرکاری سکیم سے زیادہ پیسے وصول کر رہی ہیں تو ان کی سہولتیں بھی سرکاری سکیم کے حجاج سے بہتر یوں لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ وزارت حج کو نجی حج کمپنیوں کی پیش کردہ سہولتوں کا آڈٹ کرنا چاہئے۔ میرے ایک کولیگ نجی کمپنی کے ذریعے حج پہ پہنچے۔ میں نے کہا کہ کہ آپ کو کس ہوٹل میں ٹھہرایا ہے تو مایوسی سے بولے ہوٹل کہاں، کسی محلے کی گلی میں ایک عمارت ہے جہاں ٹیکسی والے بھی مشکل سے پہنچتے ہیں۔ وزارت حج کو ایک اور پہلو پہ توجہ دینی چاہئے کہ جب انہوں نے دو بڑے علاقے پاکستانی عازمین حج کی رہائش کیلئے چنے ہیں تو دونوں علاقوں میں یکساں طبی سہولتیں فراہم کردیں۔ فی الوقت عزیزیہ میں ہسپتال قائم ہے لیکن بطحا قریش میں نہیں۔ ڈیوٹی ڈاکٹر یہاں سے بہت سے مریضوں کو عزیزیہ میں واقع ہسپتال ریفر کرتے ہیں جن کو ایمبولینس لے کر جاتی ہے۔ تاہم دس ہزار افراد کیلئے ایک ایمبولینس نا کافی ہے۔ مشکل عبادت کا عروج کل 9 ذوالحج کو وقوف عرفات کی شکل میں ہے۔ دعا ہے کہ دنیا بھر سے آئے عازمین حج کیلئے یہ مرحلہ بخیر و خوبی انجام پائے اور اسلام کا یہ عظیم مجمع امت مسلمہ کی وحدت اور یگانگت کا پیام بر ثابت ہو۔







