کالم

دائروں کا سفر

عبدالقیوم خان

سر زمین پاکستان کی خوبصورت وادی مہران صوبہ سندھ کراچی کے حالیہ ہونے والے مئیر کے الیکشن میں پیپلز پارٹی جس طرح "جیتی” ہے اور پھر بلاول بھٹو زرداری صاحب نے اپنی "کارکردگی "کا اظہار کیا ہے ہم ایسے بزعم خود پروگریسو سوچ اور اپروچ رکھنے والے اذہان پریشان ہیں کہ یہ جمہور،جمہوریت اور جمہوری اقدار کی پاسبان پیپلزپارٹی آخر کیوں بند گلی کی طرف جا رہی ہے وقت کے ساتھ ساتھ خالص جمہوری رویے اور اقدار میں پختگی ،وسیع القلبی کا اظہار ہو نہ کہ اقتدار کی ہوس کا عکس، فرمایا: "جس طرح ہم نےکراچی مئیر کا الیکشن جیتا ہے ایسے ہی پورے پاکستان میں جیتیں گے” بھئی واہ ! کیا کہنے ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔۔۔مطلب پاکستان کی جمہوری(سو کالڈ) قوتوں نے اپنا رویہ نہیں بدلنا خالص جمہوریت اور جمہوری اقدار کو پروان نہیں چڑھنے دینا اور نہ ہی چڑھانا کہ یہ نیکی کام کہیں غلطی سے ہی سرزد نہ ہوجائے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سیاسی پارٹیوں نے دھونس دھاندلی،زور زبردستی کسی بھی قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کے نام کو جمہوریت کا نام دے رکھا ہے۔کسی بھی ذلت آمیز طریقے سے حاصل کی گئی حکومت مل جائے تو سب ٹھیک ورنہ سلیکٹیڈ سلیکٹیڈڈ کا رولا ڈالی رکھو۔
مرحوم پچھلی حکومت ہو،موجودہ پی ڈی ایم میں شامل تمام وقتی مفاد پرستوں کا ٹولہ ہو سب کا اقتدار کے لیے ایک ہی طریقہ واردات ہے، سب ایک ہی تھالی کے چٹےبٹے ہیں، غریب عوام مزدور کسان جائے بھاڑ میں۔
ہوشربا مہنگائی، آٹا دال گھی شکر،بجلی گیس پانی کے بلوں میں بے تحاشا آئے روز اضافہ، جینا محال غریب عوام کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ بھی کنگال، موجیں ہیں تو بس اشرافیہ کے تمام گروہوں کی ۔
تاریخ کا سبق ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا، یہ محاورہ بالکل سچ ثابت ہوا پاکستان میں ہمیشہ مقتدر قوت اپنی من پسند سیاسی جماعت کو آشیرباد سے پروان چڑھاتی ، جھوٹا جزوقتی اقتدار کا جھونٹا دیتی اور پھر ٹشو پیپر کی طرح استعمال کر کے ڈسٹ بن میں پھینک دیتی ہے یا کسی سرمایہ دار کباڑیے کے ہاتھوں اپنا شئیر رکھ کر اونے پونے بیچ کر ثواب دارین حاصل کر لیتی ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ” ،اقتدار کی خاطر مقتدر اوررجعت پسند حلقوں کو راضی رکھنے کے چکر میں دستور بناتے وقت کیا کیا سمجھوتے نہیں کیے تو کیا یہ سب کرنے کے باوجود تخت سے تختہ دار تک نہیں پہنچے،میاں محمد نواز شریف کوکون اور کس طرح لایاکس گملے میں پروان چڑھایا تین مرتبہ اقدار دیااور کیسے ان کو ذلیل و رسوا کرکے نکالا گیا،کسی کو تختہ دار پر توکسی کو بیرون ملک اور کسی کو ملک کے اندر عبرت کا نشان بنادیا ۔
سوچنےوالی بات یہ ہےکہ ان کے گملوں میں مضبوط جڑ کے بغیر اگے پودوں سے مقتدر قوتوں کا نبھا نہیں ہو پاتا تو سوچئے جب اصلی عوامی جمہوری قوت برسر اقتدار آگئی یا ان سے سامنا ہو گیا تو کیا تماشا ہو۔
بہرحال کراچی مئیر کاانتخاب اور اس پر بلاول بھٹو زرداری صاحب کاسنہری حروف سے لکھا جانے کے قابل بیان کہ” جس طرح” ہم کراچی مئیر کا انتخاب جیتے ہیں ویسے ہی پاکستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات ” جیتیں” گے ۔مطلب ہر طرف سے "ہاں” ہے ۔بات پکی ہوگئی ہے اب بس الیکشن(سلیکشن ) کی رسمی کاروائی باقی ہے۔۔۔آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا۔193 ووٹ کے مقابلے میں 173ووٹ کی جیت کیا خوبصورت جمہوریت ہے،مقتدر قوت اپنی حالیہ طلاق یافتہ سیاسی جماعت کے دور اقتدار میں سینٹ الیکشن میں ایسی فلم چلا چکی ہے ۔ فلم کو مزید ریوائنڈ کریں تو تاریخ کے اوراق میں یہ منظر کئی بار دیکھنے کو ملے گا اسی کی دہائی کے بھٹو v شیخ مجیب الرحمن الیکشن
، یہ تو صاف نظر آرہا جیسے آج اقلیت میں ہونے کے باوجود اکثریتی جماعت کو ہرا کر کراچی کا مئیر منتخب کروا لیا ہے تاریخ بار بار دہرائی جا رہی ہے یہ کتنی بدقسمتی کی بات کہ پاکستان میں کبھی بھی عوام کو خالصتا عوامی مینڈیٹ کی حکومت دستیاب نہیں ہوئی،ہمیشہ مقتدر قوت، اشرافیہ کی منتخب (مسلط) کردہ حکومت رہی۔پچھتر سال میں تقریبا 40 سال تو وہ خود ریاست پربازور طاقت مسلط رہے یا پھر ان کے کٹھ پتلی تماشے،بنام جمہوریت تماشا دیکھاتے رہے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نوجوان سیاسی قیادتیں بھی بزرگوں کی پرانی بری روش کو ترک نہیں کر پائیں باربار وہی تماشا وہی کرپٹ گھسا پٹا سکرپٹ وہی فلم ۔عوام کی آنکھیں بار بار ایک ہی منظر دیکھ کر پتھرا سی گئی ہیں،دل دماغ،سوچنے سمجھنے پرکھنے کی صلاحیت مٹ چکی ہے۔جمہوریت کا جعلی سا بھرم تو باقی رہنا چاہیے،افسوس! مقتدر قوتوں نے وہ تکلف بھی ختم شد کر دیا ہے۔جبر،استحصال دھونس دھاندلی،اظہار رائے پر پابندی، گھٹن کے اس دور میں خوبصورت آرٹ ادب موسیقی کی کون کوئی کیا بات کرے،اس پر آشوب دور میں کہاں ہیں عوامی جذبات و احساسات کی ترجمانی اور حقوق کا الم بلند کرنے والے،کہاں گئے مہنگائی مارچ پر ڈونگرے برسانے والے،دائیں بائیں بازو والے۔سرمایہ دارانہ،جاگیردرانہ جمہوریت سے کبھی بھی عوامی فلاح و بہبود کا راستہ نہیں نکل سکتا اس میں امیرطبقہ ،امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا ہے عوام کواس دلدل سے کون نکالے گا،کیا دائیں اور بائیں بازو والےدونوں کاشعور یہاں ناکام ہوگیا اپنے اپنے تضادات کی وجہ سے،
انقلابی چاہے وہ لیفٹ کے ہوں یا رائٹ کے انسان دوست رویہ رکھنے والے” ہمدردان ملت”
یہ درست ہے کہ رائٹ بلاک والوں کے اپنے بنیادی علمی فکری شعوری ماورائی اساطیری تصورات پر استوار ڈھانچے کے سبب کچھ مسائل ہیں وہ تو خود ،ظالم سرمایہ دارانہ نظام کےحصہ دار اور اس سے مستفید ہونے والے ہیں، ان کے پاس پلاٹوں،پلازوں،جاگیروں زمینوں، جائیدادوں کی ذاتی ملکیت کے حق میں دلائل و مباحث ہیں،وہ تو کسی بھی چھوٹی موٹی چیز کا مالک بن کر ” حق ملکیت ” جتانا چاہتے ہیں فرد، معاشرہ، ریاست سے ہوتے ہوئےکرہ ارض کی سب ریاستوں کی ملکیت کے دعویدار ٹھہرے اس طرح مالک سے ملوکیت کا سفر طرح طرح کے الفاظ کو تقدیس کا لبادہ اوڑھا کر مختار کل بننے کی بے قراری ان کے من میں مچلتی ہے، اس طرح ذہنی و فکری شعور، لاشعور میں جو تضادات ہیں اس سے دنیا بھر کے تمام ماورائی اساطیری تصورات کے چکر میں پھنسے ان کےگرویدہ گروہوں کی ہر قسم کی، کی جارہی یا کی گئی ارضی فلاح کی ایکٹیوٹی کا ثمر بالآخر تعمیر کی بجائے تخریب مقدر ٹھہرتا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ یہ بات ان کے گلے کا طوق ہے ۔ پر سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ لیفٹ والوں پر کیا بنی ! بھئی کدھر گئی ان کی جدوجہد، انسان دوستی ایکتا ، اشتراکی فلسفہ ظالم کے خلاف ڈٹ جانا بہادری کیا سب ہوا ہوگئی ؟ کیایہ ملک کی مکمل تباہی و بربادی ،،قیامت،، تک ” لازم ہے ہم بھی دیکھیں گے،، کی ڈگ ڈگی بجاتے رہیں گے اور عوام کو مہنگائی ملاوٹ لوٹ مارظلم کی استعماری قوتوں سے نکالیں گے گے یا لازم ہے ہم بھی دیکھیں گے کی لوری سنا سنا کےجگانے کی بجائے سلاتے رہیں گےپیراشوٹر انقلابیوں کی بجائے اصلی علمی فکری بزرگ رہنماؤں اور ہوش مند پرچوش مہذب، تربیت یافتہ نوجوانوں کی پھر سے صف بندی ضروری ہے ورنہ پچھلے پچھتر سال سے یہ دائروں کا سفر یوں رائیگاں تو ہے ہی
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں اک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
منیر نیازی کے اس شعر میں بتائے ،، گنجھل،، سے نکلنا ہوگا۔
مقتدر قوتوں کی نئی” سیاسی فلم ،، کی ایک بار پھر نئے پرنٹوں اور آوارہ پرندوں کے ساتھ تھکی تھکی نمائش جاری ہے، سرمایہ داروں وڈیروں،پراپرٹی ڈیلروں اور الیکٹیبلز کے جتھوں پر مشتمل سیاسی فلم کی نمائش سے بزرگوں کی جمہوریت اور جمہوری پارٹیوں کے بارے میں بات درست معلوم ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہےکہ ،،سرمایہ دارانہ ،جاگیردرانہ جمہوریت ایک فریب اک سراب ہے خصوصا تیسری دنیا کے لئے ایک فراڈ سے بھی بڑھ کوئی اگلی شےہے، یہ سرمایہ دار طبقے کی اچھل کود کے ایک کلب سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔
سرمایہ دار طبقے نے ہر اس پیشے کی عظمت چھین لی ہےجس کی عزت ہوتی آئی تھی اس نے طبیب،وکیل،مزہبی پیشوا،شاعر، اہل علم، سب کو اپنا زرخرید غلام بنا لیا ہے نا جانے کیوں ہم اب بھی ڈیموکریسی کو بیسٹ روینج قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ (چاہے یہ انتقام عوام سے لیا جا رہا ہو۔۔۔۔ ہم مایوس نہیں ہوے )
بہرحال مقتدر قوتیں اپنی کٹھ پتلی بغل بچہ ”جمہوری،، قوتوں کے ساتھ مل کر عوام سے بدلہ لے رہی ہیں مہنگائی بے روزگاری لاقانونیت کے ہاتھوں ستائے غریب عوام کی چیخیں ” اس سے آگے جہاں اور بھی ہیں ” وہاں تک سنائی دی جارہی ہیں پر نتیجہ : ندارد ! تو پھر حل کیا ہے ۔۔۔؟
مقتدر قوتوں کی طرف سے نئے اور پرانے پرندوں اور پرنٹوں سے سجی تھکی ہاری فلم کی نمائش
کو دیکھتے ہوئے بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہی "چراغ ” بجھیں گے تو روشنی ہو گی ۔
ہنوز جمہوریت کی
” دلی دور است ” ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button