ادارہ امن و تعلیم فاؤنڈیشن کا تعمیر امن میں کردار ۔ ۔ ۔ ۔

بسم اللہ ارم ۔ ۔ ۔ ۔
ادارہ امن و تعلیم غیر سرکاری اور غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا بنیادی مقصد مختلف اداروں کے اشتراک کے عمل سے تربیتی تعلیمی اور تخلیقی نوعیت کے منصوبوں کی مدد سے افراد کی مہارت و صلاحیتوں میں اضافے کے ذریعے مختلف طبقات کے مابین ہم اہنگی امن بقائے باہمی اور مکالمہ کی ثقافت کو فروغ دے کر سماجی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا ہے اس سلسلہ میں میڈیا موثران کی ایک ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا جس میں تمام مذاہب تمام مکتبہ فکر کے وہ صحافی جو صحافتی خدمات سر انجام دے رہے تھے نے شرکت کی جس کا مقصد میڈیا کے میں کام کرنے والے الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈیا کے لوگ کس طرح سے اپنی ذمہ داریوں میں امن کے پیغام کو فروغ دے سکتے ہیں چونکہ امن میں پاکستان 163 ممالک سے 147 نمبر پر ہے اور اس حوالے سے عملی طور پر پیغام کو لوگوں تک پہنچانا بے حد ضروری ہے اس کے لے ضروری ہے کہ امن کے مفہوم کو سمجھا جائے جنگ اور تشدد کا نہ ہونا بلکہ جنگ اور تشدد کا خوف بھی نہ ہونا امن کہلاتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم امن کے پیغام کو پہنچاتے وقت لفظ کے حرمت کا خیال رکھیں سے یہ پتہ چلا کہ میڈیا موثران حبس کے موسم میں بھی ہوا بانٹ رہے ہیں اور سوشل میڈیا اور ٹی وی پروگرامز اور ریڈیو پروگرامز کے ذریعے امن کے پیغام کو پہنچانے کے لیے حی الوسعی کوشش کر رہے ہیں اس ٹریننگ کا بنیادی مقصد ہی یہی تھا کہ سیاست سے صحافت سے منسلک افراد کو معاشرتی امن کے لیے کیسے کام کرنا ہے صحافت کو کیسے استعمال کرنا ہے بتایا گیا کہ تنازع ایک درخت کی معند ے جس کی جڑیں بہت مضبوطی سے معاشرے کو تھام لیتی ہیں اور اس کے نتائج ہمیشہ قائم رہتے ہیں اگر ہمیں کام کرتے وقت امید کو مرنے نہیں دینا اور کام کو جاری رکھنا ہے میں اس بات پر بھی واضح طور پر بتایا گیا کہ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو روکنے کے لیے میڈیا کے ذریعے امن کے پیغام کو زیادہ بہتر انداز سے پہنچایا جا سکتا ہے کیونکہ میڈیاانکھ کان زبان دل دماغ اور معدہ بھی ہے میڈیا نے ہمیشہ ایڈوکیسی کا رول ادا کیا سوشل میڈیا میں ہتھیلی پر دنیا موجود ہے لٹریسی ریٹ اگرچہ کم ہونے کے باوجود ٹی وی پروگرامز اور ریڈیو پروگرامز میں قوم میں شعور اجاگر کیا ریڈیو ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے پیغام لوگوں کے ذہنوں پر لمبے عرصے تک قائم رہتے ہیں ٹرینگ میں اس بات کو بھی عملی طور پر بتایا گیا کہ بیانیہ بنانے بی میڈیا کا ہمیشہ کردار رہا ہے صحیح انفارمیشن اور معلومات لوگوں کی زندگیوں میں بہتری ڈس انفارمیشن غلط معلومات انجانے سے کسی جھوٹی خبر کا شکار ہونا بلا سوچے سمجھنا اسے اگے پھیلانا مسائل کو جنم دیتا ہے اس کے ساتھ ڈس انفارمیشن جان بوجھ کر جھوٹی خبر بنانا اور جان بوجھ کر اس سے اگے پھیلانا اور لوگوں کو گمراہ کرنا انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے یہ انفارمیشن کسی ادارے یا ملک حساس معلومات کو نقصان پہنچانے کی غرض سے پہنچا پھیلانا درجے یہاں بنیادی بات یہ ہے کہ معلومات درست ہو سکتی ہے مگر اس سے پھیلانے کا مقصد شخص ادارہ یا ملک کو نقصان پہنچانا ہے اس کے ساتھ ڈی فیمینیشن کسی کی صاف اور شہرت کو دانستہ طور پر مجروح کرنا جس کے باعث اسے شخصی طور پر یا کاروباری یا سیاسی طور پر نقصان اٹھانا پڑے ایسی معلومات سے میڈیا موثران کی انفارمیشن میں بے پناہ اضافہ ہوا اس کے علاوہ ایک پاکستان کے میڈیا قوانین اور متعلقہ ادارے لیگل پروسس کے حوالے سے اور فورمز کے حوالے سے اگاہی دی گئی جس میں خاص طور پر حق معلومات ارٹیکل 19 اے کے حوالے سے اور اس حق کے معلومات کی بدولت عوامی احتساب شفافیت اور گورننس میں بہتری کے ذریعے جمہوری اقدارمضبوط ہوں گےاس کے علاوہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قوانین اور پیمرہ سے متعلقہ قوانین دائرہ کار اختیارات اور ضوابط سے متعلق جاننے کے لیے ویب سائٹس کے حوالے سے اگاہی دی گئی پاکستان میں سائبر کرائم کےسد باب کے لیے قوانین پر مبنی ایکٹ پیکا متعلق باقاعدہ طور پر معلومات فراہم کی گئی یعنی کہ جب سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا متعارف ہوا تو ڈیجیٹل لاز 2021 کے حوالے سے مکمل طور پر اگاہی دی گئی اپ کسی بھی حوالے سے کوئی کام کر رہے ہوں اور جہاں پر اپ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں تو اس سے متعلقہ قوانین سے اگاہی بھی اپ کا اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے صحافی ان قوانین سے اگاہی سے اپ کے کام میں ہمارے کام میں زیادہ بہتری ائی میں پرنٹ میڈیا کی افادیت سے انکار نہیں مگر موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق میڈیا موثران کو یوٹیوب کی ٹریننگ دی گئی تاکہ معاشرے کی ترقی میں سوشل ایشوز پر کام کر کے ہم یو ٹیوب کے ذریعے بھی اگاہی حاصل کر عوام کو اگاہی دے سکے جو ایک بہترین اقدام تھا یقینا ادارہ امن و تعلیم فاؤنڈیشن نے مذہبی ہم اہنگی کے فروغ کے لیے ننگانہ صاحب لاہور اور ملتان کے مندروں اور ٹھٹھہ سے مذہبی ہم اھنگی کے حوالہ سے ڈاکومنٹریز بنائیں اور جو میڈیا موثران کو دکھائی اور میڈیا موثران کو یہ سوچنے پر مجبور کیا اور پیغام دیا کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرنا ہے اور مذہبی ہم اہنگی کہ فروغ کے لیے جب ہم رپورٹنگ کریں تو ہماری سوچ ہمارے الفاظ ہماری کاوش اس بات کا ثبوت ہو کہ ہم ایک دوسرے کی عزت اور احترام کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ مذاہب کو درپیش مشکلات کی نشاندہی بھی کریں







