کالم

عوامی حکومتوں سے بالاتر نگران حکومت

(محمد مستجاب)

پنجاب کی نگران حکومت پورے زور کے ساتھ نگرانی بھی کر رہی ہے اور حکمرانی بھی۔ ماضی میں جب بھی نگران حکومتوں کا قیام عمل میں آیا تو وزیر، مشیر بشمول وزیر اعلی زیادہ تر وقت گزاری کرتے نظر آئے اور اہم معامالت کومنتخب حکومت کے لئے چھوڑے رکھا۔ اس کے برعکس موجودہ نگران حکومت نے سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر اہم فیصلے لئے اور ان فیصلوں پر عمل درامد کروایا۔
سیاسی فیصلوں پر نظر ڈالیں تو 9مئ کے واقعات کے بعد جس حد تک ہو سکتا تھا اس حد تک فیصلے کئےگئے اور حکومت نے اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی۔ پنجاب پولیس کا ایسا استعمال تومنتخب حکومتیں بھی نہیں کر سکیں۔ سیاسی پارٹیوں کو ہلا کر رکھ دیا گیا بلکہ ایک پارٹی کو پنجاب سے خاص سے عام کر دیا گیا۔ آئی جی پنجاب بھی ہر منظر پر مکمل فعال نظر ا تے ہیں۔
حکومت کی معاشی حکمت عملی پر نظر ڈالیں تو معشیت کے لحاظ سے بھی اہم فیصلے لینے پرسمجھوتا نہیں کیا جا رہا۔ رمضان میں مفت ا ٹا سکیم مہیا کی گئی۔ شروعات میں اس سکیم پر کافی تنقید کی گئی مگر حکومت نے اس عمل کو کامیاب بنانے کے لئے پوری قوت کا مظاہری کیا۔ وزیر اعلی اور دیگرمشیر بارہا رمضان بازار کے دورے کرتے نظر ا ئے۔ علاوہ ازیں پنجاب کا مشکل بجٹ بھی پیش کر دیا گیا جس میں بڑے فیصلے لئنے میں کوئی ہچکاچہت محسوس نہیں کی۔ سرکاری ملازموں کے ساتھ بھی ایک نیا محاظ کھول دیا گیا انکی پینشن پر معمولی اضافہ کرنے کے عالوہ ریٹائرمنٹ کے موقع پر ملنے والی مراعات میں واضح کمی کر دی گئی۔ اس عمل سے معلوم پڑتا ہے کہ حکومت صرف وقت گزاری نہیں کر رہی بلکہ ڈٹ کر حکومت کررہی ہے پھر چاہے اس کے اثرات منفی ہوں یا مثبت۔ حاضر سروس سرکاری ملازم سراپا احتجاج ہیں، تمام صوبوں بشمول وفاقی حکومت نے سرکاری ملازموں کوبجٹ میں ریلیف دیا اور انکی تنخواہ میں 35 فیصد اضافہ کیا جبکہ پنجاب کی نگران حکومت نے ابتدائی تنخواہ پر صرف30فیصد اضافہ کیا جس سے انکی تنخواہ میں خاطر خواہ فرق نہیں پڑا۔
حالیہ عید االضح پر جس طرح محکموں سے الائشیں ہٹانے اور صفائی ستھرائی کا کام لیا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ تمام محکموں نے اپنا کام احسن طریقے سے سر انجام دیا۔ حکومتی عہدیدار بھرپور طریقے سے صورتحال کا جائزہ لیتے رہے جس میں سر فہرست نام ابراہیم حسن مراد کا ہے جو کہ لوکل گورنمنٹ کے مشیر ہیں۔ نوجوان مشیر کی زیر قیادت تمام اداروں نے اپنے
فرائض سر انجام دینے میں کوئی کثر نہ چھوڑی۔
وزیراعلی سید محسن رضا نقوی نے اپنی کابینہ میں ابراہیم حسن اور وہاب ریاض جیسے نوجوانوں کو جگہ دی ہے جوکہ مکمل فعال ہو کرڈیوٹی کر رہے ہیں۔عمومی طور پر نگران حکومت کا دورانیہ مختصرہوتا ہے اور کھیل کی وزارت کو خود وزیر اعلی ہی دیکھتے ہیں مگر وہاب ریاض کو کھیلوں کا مشیرلگانا اس بات کی نشاندہی ہے کہ حکومت پورے زور کے ساتھ کام کرنے آئی ہے اور کر رہی ہے۔ حالیہ بارشوں میں بھی یہ نگران وزیر اور مشیر پورے ولولہ کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے رہے وہاب
ریاض مشیر کھیل ہونے کے باوجود بارش زدہ علاقوں کا دورہ کرتے نظر ا ئے۔ حکومتی کارگردگی کےنتائج جو بھی ہوں لیکن جس عزم کے ساتھ یہ کام کر رہے ہیں وہ بظاہر قابل تحسین ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کا کوئی بھی وزیر اور مشیر سرکاری تنخواہ موصول نہیں کر رہا جبکہ سید محسن نقوی تو اپنی گاڑیاں اور پیٹرول استعمال کر رہے ہیں۔
حکومت کی کاررگردگی کی درستگی کا فیصلہ تو وقت کرے گا یا پھر آئندہ ا نے والی منتخب حکومت احتساب کے زریعے معامالت کو چیک کرے گی، مگر ایک چیز واضح ہوچکی ہے کہ اس حکومت نےسیاسی، معاشی اور معاشرتی فیصلوں میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔
تمام تر صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سید محسن رضا نقوی جس شخص کا نام ہے وہ کافی پر اثر ہے جو کہ فیصلے لینے میں کسی الجھاٗو کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا سامنا کرتا ہے اور اپنے عزم پر قائم رہتا ہے، اس کےپیچھے انکو طاقت ور حلقوں کی حمایت حاصل ہو یا کچھ بھی مگر وہ اپنی شخصیت کی چھاپ چھوڑ رہا ہے۔ پنجاب میں انکو یاد رکھا جائے مثبت یا منفی دونوں طریقوں سے۔ سٹی لیول کا چینل شروع کرنے سے لے کر پورے پنجاب کی حکومت کرنے تک وہ جو بھی کام کرتا ہے پر عزم ہو کر کرتا ہے۔ اسی لئے کم دورانیہ کی حکومت کو بھی اتنی طاقت حاصل ہے۔

6 Comments

  1. Thank you for this thought-provoking article. Your insights on the current political climate are truly commendable. I appreciate the way you highlight the significance of informed discussions. Keep 👍up the excellent work

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button