کالم

اجتماعی خودکشی

بفر زون/ عبدالقیوم خان

ایک شہری نے 19 ہزار قرض لیا جو سود کی مد میں بڑھتے بڑھتے 18 لاکھ تک اسے بھرنا پڑا، دوسرے نے 13 ہزار لیا اور سات لاکھ اس کا بن گیا اور خود کشی کرنی پڑی۔
راولپنڈی میں ایک نوجوان کی آڈیو سامنے آئی کہ اس نے تقریبا 20 ہزار کسی” سودی” کمپنی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ "ایسٹ انڈیا کمپنی” سےاپنے بیوی بچے اور عارضی روزی روٹی کے بندوبست کے چکر میں خونی قرض لیا اور سود در سود اتنا بڑھ گیا کہ ادا نہ کر سکا اور مردہ ریاستی اداروں اور ریاست، بےحس انتظامیہ کے سامنے اس نے خودکشی کی صورت وہ قرض چکا دیا ۔
عوام تو” وطن کی محبت "میں پچھلے 75 سال سےسو در سود لیا قرض چکا رہی ہے جس پر حکمران اور ان کے ہیوی بچےدنیا بھر میں عیاشی کر رہے ہیں اور عوام خودکشیوں پر مجبور ۔
بےخبر نشئی عوام میں حب الوطنی کا جذبہ کچھ ذیادہ ہی کوٹ کوٹ کر ان کی رگوں میں انڈیلہ گیا ہے، اقتداریہ اور اشرافیہ انہیں جتنا مرضی مہنگائی بے روزگاری لاقانونیت سودی کاروباری کمپنیوں کی چکی میں پیس لیں ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔
کسی حقیقی عوامی سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر، بیوی بچوں،بوڑھے ماں باپ کی دوائی، روزی روٹی چھیننے والے بے حس جمہوری غیر جمہوری ڈفرز حکمرانوں کے خلاف اپنے حقوق کے لیے کیوں نہیں متحد ہوتے۔ اقتداریہ اور ان کے چھچھوندر کڑچھےچمچوں نے ناجانے کون سی بھنگ کون سا نشہ،منتشر بھیڑ بکری بے بس عوام کی ہڈیوں میں "انجیکٹ” کیا ہوا ہے کہ غفلت دور نہیں ہوتی ۔لوگ مجبور ہو کر اپنی جان لینے کی بجائے اگر ان کے گریبانوں کو پکڑیں تو کوئی حل نکلے۔
لگتا ہے داخلی استعماری قوتوں نےاپنے بگڑے تگڑے بیوی بچوں بہن بھائیوں کی عیاشیوں پر غریب عوام مزدور کسانوں کے اکھڑتی سانسوں سمیت آنکھیں،دل دماغ ،گردے،سوچ سمجھ تک بیچ ڈالی ہے۔ 23 کروڑ انسان نما بھیڑ بکریوں کو لگتا ہے کہ وہ زندہ،چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، اشرف المخلوقات ہیں حالانکہ یہ کسی ویران اجاڑ قبرستان کے زندہ درگور باسی قبروں سے نکلی لاشیں ہیں جو صرف ایک آدھ فیصد اقتداری و اشرافیائی جونکوں، بھیڑیوں مگر مچھوں کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے اپنے حق کے لیے نہ لب کھول سکتے ہیں نہ حرکت میں نہیں آتےہیں۔
ایسی ہی صورتحال پر مبنی ایک کتاب کے چند صفحے پڑھنے کا موقع ملا، پاک ٹی ہاؤس جو کہ ادیبوں شاعروں کی پناہ گاہ ہے کے سامنے انارکلی میں خوبصورت سجے شو کیسوں میں بیکار جوتوں اور گٹر ابلتے فٹ پاتھ پر پڑی کتابوں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ اس گھن زدہ، بدبودار، بےکار عوام اور ظالم حکمرانوں کو کتاب علم دوستی تہذیب ثقافت موسیقی آرٹ ادب کھیل،تھیٹر، فلم کی بجائے، جوتوں کی زیادہ ضرورت ہے۔
دھول میں اٹی فٹ پاتھ پر پڑی حبس زدہ گرمی سے نڈھال اوراق پریشان کتاب کی سطر سطر گلیوں میں چند قدمچےاٹھائے تو حیرت ہوئی کرم زدہ زخمی آخری سانسیں لیتی کتاب کی مختصر کہانی اور ہماری عوام کی بدحال پریشان حالی اور عیاش، مردہ بےحس ،بے ضمیر سرمایہ دار حکمرانوں کےعوام کو دیے جھوٹے نعروں دھوکہ بازیوں میں بڑی مماثلت دکھائی دی پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ عالمی ادب، فلسفہ، نظریہ،رہنما یا انسان وہی بڑا ہوتا ہے جو آفاقیت کا مظہر ہو۔ افسوس کہ کھڑے کھڑے چند صفحات کی ورق گردانی ہو سکی کیونکہ صفحات کی حالت ہماری عوام کی پھٹی جھولی کی مانند مخدوش تھی، ایسے لگتا تھا کہ لکھاری نے ہماری پاکستانی ریاست، ریاستی اداروں، سیاست اور عوام کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ کہانی بیان کی۔ لکھا تھا کہ جب ظالم حکمرانوں کاجبر و استبداد حد سے بڑھ گیا تو کیسے ایک مزدور کسان رہنما نےانسان دوست عوامی تنظیم کے پلیٹ فارم پر عوام کو متحد کر کے کرپٹ اشرافیہ بیوروکریسی، عوام دشمن حکمرانوں کا احتساب کرتا اور چوکوں چوراہوں میں الٹا لٹکا کر ایک ایک پائی نکلوا کر ان کی نسلوں تک کا احتساب کرتا ہے، اور اس وقت تک لٹکائے رکھتا ہے جب تک گدھوں نے ان کا بھوسہ بھرے دماغ سوراخ دار اندھی آنکھوں کو نوچ نوچ کر نہ کھالیا اور چٹختی پیپ زدہ کھوپڑیوں میں پرندوں چڑیوں کبوتروں نے گھونسلے نہ بنا لیے۔
چند صفحات پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ ہماری ریاست اور ہمارے لیڈران خوش قسمت ہیں کہ انھیں اس کہانی میں پیش کی گئی کسی بھی صورتحال کاسامنا نہیں کیونکہ عوام اور حکمران دونوں طبقات ہی بے حس ہیں نہ حکمرانوں کو احساس ہے عوام کی فلاح و بہبود کا اور نہ ہی لوگوں کو اپنے حقوق کا ادراک ہے ۔
دیکھا جائے ریاست تو سرمایہ دار اشرافیہ نےامریکی ڈالروں کےعوض ملک کا بیڑا غرق کر دیا اور ایسے ناعاقبت اندیشانہ قوانین اور ایسی پالیسیاں بنائیں جن کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
ریاستی اداروں اور محکموں کی نااہلی اور ملی بھگت صرف ایک راولپنڈی کے شہری نے قرض کی عدم ادائیگی پر ذندگی کا خاتمہ نہیں کیا طبقاتی اوردولت کی غیر مساویانہ تقسیم کی بدولت ایسے واقعات کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہوا ہے۔
فرد، معاشرہ اور ریاست ان کی حالت و ترتیب درست ہوگی تو سب کی سانسوں میں روانی رہے گی نہیں تو افر تفری بے چینی خودغرضی خودکشی، بےحسی طبقاتی تقسیم کی لپیٹ میں آ کر بالآخر سب معدوم ہو جائیں گے راولپنڈی کے مقروض نوجوان اور قرض دینے والی ظالم سودی کمپنی کے بےحس نمائندے کے درمیان ہونے والی بات چیت کی آڈیو ریکارڈنگ سنی تو دل دھل کر رہ گیا کہ کس طرح ایک سرمایہ دار مقروض کی” ماں بہن ایک کر رہا ہے” اور وہ لاچار ترلے منتوں سے صرف دو دن کی مہلت مانگ رہا ہے، رو رہا ہے کہ دو دن تک وہ سود سمیت تمام رقم واپس کر دے گا لیکن کمپنی نمائندہ اسے ایک لمحے کے لیے بھی وقت دینے کو تیار نہیں اور کھلے عام اس کی فیملی، بہنوں کودوسری طرف ٹیلی فون لائن پر لے کر ان کے ساتھ ہر "حربہ” اختیار کرنے کی ” تڑی” لگاتا ہےاور مقروض فرد کو صاف صاف خودکشی کرنے کا کہتا ہے۔ "سود کے پیسے دو، ابھی کے ابھی،نہیں دے سکتے تو ابھی ویڈیو کال پہ آکر، میرے سامنے گلے میں رسہ ڈالو یا بلڈنگ سے کود کر مر جاؤ میں لوگوں کو تمہاری کتے ایسی موت دکھانا چاہتا ہوں کہ ہم اپنی رقم واپسی کے لیے کس حدتک جا سکتے ہیں ۔
ہوں بالآخر حالات سے تنگ، بھوک بے روزگاری اور کمپنی کے خوف اور ذلت کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشی کر لیتا ہے۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی جو 75 سال سے قرض کی مے پہ مے پیئے جا رہے ہیں، مدہوش ہیں ،ہوش ہمیں نہیں ریاست پاکستان اس کے عیاش مالک اصلی اور نقلی حکمران،عالمی سرمایہ دار سامراجیت کے ہاتھوں کیسے ناک نہیں رگڑیں گے عالمی سرمایہ دارانہ سامراجیت کیوں ایک نہ ایک دن ہماری” ماں بہن ایک نہیں کریں گے”۔
قرض واپس نہ کر سکنے پر کیوں نہیں ہماری وہ ماؤں بہنوں بیٹیوں کو عالمی منڈی میں نیلام نہیں کریں گے ایک وقت آئے گا کہ فرد معاشرہ، ریاست کو وہ اجتماعی خودکشی یا مکمل غلامی و معدومیت پر مجبور کر دیں گے اور کوئی کچھ نہ کر سکے گا آج جو دو، دو، تین تین ارب ڈالر قرض لے کر جشن مناتے ڈھول بچا رہے ہیں مبارکبادیں دے رہے ہیں لگتا ہےکہ اجتماعی "وقت مرگ "قریب ہے سب کو شرم آنی چاہیے ،سنبھلنے کا سدھرنے کا سمت کے درست کرنے کا، قوم کے پاس آخری عشرہ بچا ہے یا ان کے زوال شدہ 75 سالوں میں مزید بہت مارجن دے کر 25 سال مزید شامل کر لیجئے۔ ویسے کسی بھی ریاست، قوم کے بننے بگڑنے کے لیے سو سال ہی ہوتے ہیں، نہیں تو سب کچھ ختم شد۔
بہتری کے آثار دور دور تک نہیں، ریاست پرقابض تمام قوتیں ان کے بیوی بچے، ڈالر ،کاروبار قابضین پہلے ہی ملک سے باہر منتقل کر چکے ہیں آخری ٹرین کے آخری ڈبوں سے لٹکے کچھ مسافر اپنی جان مال عزت بچاتے ہوئے جتنا،جیسے ہو سکتا ہے وہ بھی "دھرتی ماتا” کو چھوڑ چھاڑ کے” اڈاری” مار رہے ہیں،پیچھے رہ جائےگا کچرا،بھوک نگ بے روزگاری کی آگ میں جلتی شعلوں کی لپیٹ میں آئی ٹرین کا گلتا سڑتا ڈھانچہ۔
رجعت پسند قدیم اساطری تصورات پر جبرا قائم ریاستی ڈھانچے کو ریشنل بنیادوں پر نئی سوچ کے تحت استواری ضروری ہے تاکہ باقی بچے 25 سال میں آنے والی نوجوان نسل کچھ کرکے ہمیں اس بھنور سے نکال سکے
نہیں تو سرمایہ دارانہ سامراجیت کی مکمل غلامی اور اجتماعی خود کشی کا وقت ہوا چاہتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button