تعلیمسٹی

تعلیمی ادارے این جی او کے حوالے اور اچھے نتائج کے حامل تعلیمی اداروں کو ماڈل سکول بنانے یا اڈاپشن سے معاملات بہتر نہیں ہوں گے۔ چوہدری سرفراز

2 دہائیوں سے محکمہ سکول ایجوکیشن کو تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پنجاب ٹیچرز یونین

تعلیمی ترقی اور تعلیمی اداروں کی بہتری اساتذہ کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں، اساتذہ بہتری کے عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ رانا لیاقت

لاہور (خبرنگار)پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر چوہدری سرفراز، رانا لیاقت، سعید نامدار، رانا انوار، نادیہ جمشید، ملک مستنصر باللہ اعوان، آغا سلامت، چوہدری محمد علی، میاں ارشد، رانا الیاس، چوہدری عباس، طارق زیدی، مرزا طارق، رانا خالد، طاہر اسلام، غفار اعوان، نذیر گجر، اختر بیگ ودیگر نے کہا ہے کہ 2 دہائیوں سے محکمہ سکول ایجوکیشن تجربہ گاہ میں تبدیل ہو گیا ہے ہر حکومت تعلیم میں بہتری کے نام پر نت نئی اصطلاحات کرکے اساتذہ میں عدم تحفظ اور تعلیمی اداروں میں افراتفری پیدا کرنے کا موجب ہے۔ چند سال قبل لاہور سمیت پنجاب بھر میں سینکڑوں تعلیمی ادارے مختلف این جی اوز کو دیئے گئے، ماضی میں سیکرٹری سکول سے لیکر اے ای اوز تک سکول اڈاپٹ کروائے گئے سابقہ پی ٹی آئی کی حکومت میں 110 اچھے نتائج اور بہترین تعلیمی اداروں کو ماڈل کا درجہ دیکر ان میں کروڑوں روپے کا بجٹ لگا گیا جہاں اس کی ضرورت نہ تھی اور نہ ہی کسی نے این جی اوز کو دئیے گئے اداروں کا فرازنک آڈٹ کروا گیا کہ انہوں نے اڈاپٹڈ سکولوں کے نام پر سرکاری اور نجی لوگوں سے کتنے فنڈ لئے اور کہاں خرچ کئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے سب سے پہلے اساتذہ سے مشاورت کا عمل شروع کریں کیونکہ غیر یقینی صورتحال میں بہتری کی بجائے تنزلی بھی ہو سکتی ہے اساتذہ آپ کی کوششوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں لہذا تعلیمی اداروں کی این جی اوز اور ڈپٹی کمشنرزکو حوالگی، پنجاب پبلک سکول پروگرام یا سنٹر آف ایکسیلنس بنانے کے فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے۔ ہر ضلع میں سرکاری اراضی پر نئے سکول ، پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں تعلیمی اداروں کے لیے وقف پلاٹس پر نئے سکولوں کا قیام عمل میں لاکر غریب عوام کے لیے مفت تعلیم کا بندوست کیا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Related Articles

Back to top button